میر شوکت
رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ سرینگر کی گہما گہمی آہستہ آہستہ اپنی ہی آوازوں کو اپنے اندر سمیٹ رہی تھی، دکانوں کے شٹر گر چکے تھے، چائے خانوں کی آخری پیالیاں خالی ہو چکی تھیں اور سڑکوں پر دوڑتی گاڑیوں کا شور اب کبھی کبھار گزرنے والی کسی ایک گاڑی کی ہیڈلائٹ میں سمٹ آیا تھا۔ میں زیرو بریج کی لکڑی کی ریلنگ پر ہاتھ رکھے جہلم کے کنارے کھڑا تھا۔ سامنے پانی کی سیاہ چادر پر بکھری روشنیاں اس طرح لرز رہی تھیں جیسے کسی بوڑھے مصور نے سیاہ مخمل پر سونے کے ذرات بکھیر دئے ہوں۔ ہوا میں دیودار کی مدھم خوشبو تھی، دریا کے پانی کی نمی تھی اور ایک ایسی خاموشی تھی جو صرف سنائی نہیں دیتی، محسوس بھی ہوتی ہے۔اس لمحے مجھے پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ پل صرف دو کناروں کو نہیں ملاتے، پل وقت کے بکھرے ہوئے اوراق کو بھی آپس میں جوڑتے ہیں۔ انسان ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک چند لمحوں میں پہنچ جاتا ہے، مگر پل خود صدیوں تک ایک ہی جگہ کھڑے رہتے ہیں۔ ان پر سے گزرنے والے چہرے بدلتے رہتے ہیں، موسم بدلتے رہتے ہیں، سلطنتیں بدلتی رہتی ہیں، حکومتوں کے پرچم بدلتے رہتے ہیں، لیکن پل خاموشی سے اپنی ڈیوٹی انجام دیتے رہتے ہیں۔ شاید اسی لئے دنیا کی ہر قدیم تہذیب میں پلوں کو صرف تعمیر نہیں، تہذیب کا حافظ بھی سمجھا گیا ہے۔
نیچے بہتا ہوا جہلم، جسے قدیم سنسکرت روایت میں ویتستا کہا گیا، کشمیر کی تاریخ کا سب سے قدیم راوی ہے۔ اگر وادی کے پہاڑ اس کے محافظ ہیں تو یہ دریا اس کا حافظۂ تاریخ ہے۔ اس نے اس سرزمین کو اس وقت بھی دیکھا جب یہاں نہ راجباغ تھا نہ سونہ وار، نہ یہ روشنیاں نہ یہ عمارتیں۔ اس نے وہ زمانہ بھی دیکھا جب کناروں پر صرف ولو اور چنار تھے، جب کشتیاں ہی راستہ تھیں، جب بازار پانی کے ساتھ سانس لیتے تھے اور جب صبح کی پہلی اذان، مندروں کی گھنٹیاں اور خانقاہوں کی مناجات ایک ہی فضا میں تحلیل ہو جاتی تھیں۔
کشمیر کی معتبر تاریخی کتاب راج ترنگنی میں کلہن نے اس وادی کی تاریخ کو بادشاہوں کے بجائے ایک بہتے ہوئے دریا سے تشبیہ دی تھی۔ شاید اسی لئے اس نے اپنی کتاب کا نام بھی ’’راج ترنگنی‘‘ یعنی ’’بادشاہوں کی موجیں‘‘ رکھا۔ موجیں آتی ہیں، کنارے کو چھوتی ہیں اور گزر جاتی ہیں۔ تخت بھی اسی طرح آتے اور چلے جاتے ہیں۔ باقی رہ جاتا ہے تو صرف دریا۔ آج زیرو بریج پر کھڑے ہو کر محسوس ہوتا ہے کہ کلہن کا استعارہ صرف بادشاہوں کے لیے نہیں تھا پورے کشمیر کے لیے تھا۔ یہاں ہر دور ایک موج کی طرح آیا، اپنی کہانی لکھ کر آگے بڑھ گیا مگر جہلم وہیں کا وہیں بہتا رہا۔یہی جہلم صدیوں تک سرینگر کی سب سے بڑی شاہراہ تھا۔ آج کی نسل شاید یقین نہ کرے کہ ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب سڑکوں سے زیادہ رونق پانی پر ہوا کرتی تھی۔ تجارت کشتیوں پر ہوتی تھی، سبزیاں، پھل، لکڑیاں، قالین، زعفران اور اخروٹ دریا کے راستے ایک کنارے سے دوسرے کنارے پہنچتے تھے۔ گھروں کی پچھلی کھڑکیاں پانی کی طرف کھلتی تھیں، بچے دریا میں تیرنا سیکھتے تھے، عورتیں کنارے پر کپڑے دھوتی تھیں اور شام کے وقت کشتی بان اپنی لمبی بانس کی ڈنڈیاں سنبھالے ایسے لوٹتے جیسے پورا دن شہر کو اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتے رہے ہوں۔
انیسویں صدی کے آخر میں جب برطانوی منتظم Walter Roper Lawrence کشمیر آئے تو انہوں نے لکھا کہ سرینگر کو سمجھنا ہو تو اس کی سڑکوں سے زیادہ اس کے دریا کو دیکھو، کیونکہ اس شہر کی اصل زندگی پانی کے ساتھ دھڑکتی ہے۔ اس سے بھی پہلے فرانسیسی سیاح François Bernier نے مغل دور کے کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے جہلم کی کشتیوں اور پلوں کو شہر کی روح قرار دیا تھا۔ ان سیاحوں نے شاید زیرو بریج نہیں دیکھا، کیونکہ وہ اس وقت تک وجود میں نہیں آیا تھا، مگر اگر وہ آج لوٹ آئیں تو یقیناً انہیں محسوس ہوگا کہ یہ پل صدیوں پرانی روایت کا ایک نیا باب ہے، کوئی اجنبی اضافہ نہیں۔
سرینگر کو کبھی ’’سات پلوں کا شہر‘‘کہا جاتا تھا۔ ان پلوں کے نام صرف جغرافیہ نہیں تھے، ہر پل اپنے اندر ایک الگ تہذیب رکھتا تھا۔ زینہ کدل، عالی کدل، نوا کدل، صفا کدل، فتح کدل، قدلہ بل اور امیرا کدل ۔ہر پل کے ساتھ ایک بازار آباد تھا، ایک محلہ سانس لیتا تھا، ایک مسجد اذان دیتی تھی، ایک مندر گھنٹیاں بجاتا تھا اور زندگی اپنی پوری روانی سے گزرتی تھی۔ پھر بیسویں صدی کے وسط میں جب شہر نے اپنے پرانے حصار سے باہر قدم رکھا اور راجباغ، سونہ وار اور نئے رہائشی علاقوں نے وسعت اختیار کی تو ایک نئے پل کی ضرورت محسوس ہوئی۔ یوں 1950ء کی دہائی میں بخشی غلام محمد کے دور میں لکڑی کا ایک نیا پل تعمیر ہوا، جو بعد میں پورے شہر کی پہچان بن گیا۔اس پل کی پیدائش بھی عام نہ تھی اور اس کا نام بھی۔ سرکاری کاغذات میں اس کی تعمیر ایک شہری ضرورت تھی مگر عوام نے اسے اپنی محبت سے ایک الگ شناخت عطا کر دی۔ آج تک اس کے نام کی دو روایتیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ ایک روایت کہتی ہے کہ چونکہ امیرا کدل کو شہر کا’پہلا پل ‘تصور کیا جاتا تھا، اس لیے اس سے پہلے تعمیر ہونے والے اس پل کو لوگوں نے ہنستے ہنستے ’زیرو بریج‘ کہنا شروع کر دیا۔ دوسری روایت زیادہ کشمیری معلوم ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی تعمیر سے وابستہ ایک ٹھیکیدار سماعت سے محروم تھا اور کشمیری زبان میں ایسے شخص کو ’’زور‘‘کہا جاتا ہے۔ وقت کی گردش، زبان کی روانی اور عوامی تلفظ نے ’’زور برج ‘‘کو ’’زیرو برج ‘‘بنا دیا۔ تاریخ ان دونوں روایتوں میں سے کسی ایک پر آخری مہر نہیں لگاتی، لیکن کشمیر کی تاریخ صرف دستاویزات میں نہیں، لوگوں کی یادداشت میں بھی زندہ رہتی ہے اور بعض اوقات عوامی روایت خشک سرکاری فائل سے زیادہ دیر تک سانس لیتی ہے۔یہ پل تقریباً ایک سو ساٹھ میٹر لمبا ہے، مگر اگر اسے صرف میٹروں میں ناپا جائے تو اس کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ اس کی اصل پیمائش ان لاکھوں قدموں سے ہوتی ہے جو سات دہائیوں سے اس پر چلتے آ رہے ہیں۔ کتنے ہی طالب علم کتابیں بغل میں دبائے یہاں سے گزرے ہوں گے، کتنے ہی سرکاری ملازم شام ڈھلے اپنے گھروں کو لوٹے ہوں گے، کتنے ہی عاشق پہلی بار ایک دوسرے کے ساتھ اس پل پر رُکے ہوں گے، کتنے ہی بزرگ ریلنگ پر ہاتھ رکھ کر بہتے ہوئے جہلم میں اپنا گزرا ہوا زمانہ تلاش کرتے رہے ہوں گے۔ پلوں کی قسمت یہی ہوتی ہے۔ وہ خود کہیں نہیں جاتے مگر دوسروں کو منزل تک پہنچاتے رہتے ہیں۔وقت نے اس کے وجود پر بھی اپنے دستخط ثبت کئے۔ برفانی موسموں نے اس کی لکڑی کو آزمایا، بارشوں نے اسے بھگویا، دھوپ نے اس کا رنگ بدل دیا اور بے شمار پہیوں اور قدموں نے اس کے جسم کو تھکا دیا۔ بالآخر ایک وقت آیا جب اسے گاڑیوں کے لیے بند کرنا پڑا۔ کچھ لوگوں نے اسے ترقی کی راہ میں رکاوٹ کہا، کچھ نے اسے فرسودہ قرار دیا، مگر شاید قسمت کو یہی منظور تھا۔ اگر اس کی جگہ کنکریٹ کا ایک بے روح فلائی اوور کھڑا ہو جاتا تو سرینگر ایک پل تو حاصل کر لیتا، مگر اپنی ایک یاد کھو بیٹھتا۔
سنہ 2012 کے بعد جب اس کی بڑے پیمانے پر مرمت کا کام شروع ہوا تو خوش قسمتی سے فیصلہ یہ ہوا کہ اسے اس کی اصل روح کے ساتھ زندہ رکھا جائے۔ دیودار کی مضبوط لکڑی، اخروٹ کی نفیس تراش، کشمیری معماروں کی صدیوں پرانی ہنرمندی اور جدید انجینئرنگ کی احتیاط،ان سب نے مل کر اسے دوبارہ زندگی عطا کی۔ یوں زیرو بریج صرف بحال نہیں ہوا بلکہ ایک ثقافتی ورثے کے طور پر نئے سرے سے پیدا ہوا۔ آج اس کے تختوں پر چلتے ہوئے لکڑی کی جو ہلکی سی مہک محسوس ہوتی ہے، وہ محض لکڑی کی خوشبو نہیں، کشمیری دستکاری کی سانس ہے۔
میں نے ایک بار پھر نیچے جھانکا۔جہلم خاموشی سے بہہ رہا تھا۔مجھے اچانک احساس ہوا کہ دریا کبھی بوڑھا نہیں ہوتا، بوڑھے ہم ہوتے ہیں، ہماری یادیں ہوتی ہیں، ہمارے شہر ہوتے ہیں۔ دریا تو ہر لمحہ نیا پانی لے کر آتا ہے مگر اس کے سینے میں صدیوں کی کہانیاں محفوظ رہتی ہیں۔ شاید اسی لیے تہذیبیں ہمیشہ دریاؤں کے کنارے جنم لیتی ہیں۔ پانی صرف پیاس نہیں بجھاتا، حافظہ بھی پیدا کرتا ہے۔ہوا کے ایک نرم جھونکے نے پل کے تختوں کو ہلکا سا چھوا۔ مجھے لگا جیسے یہ پل مجھ سے کہہ رہا ہو۔’’میں نے وہ سرینگر بھی دیکھا ہے جس میں کشتیوں کی سیٹیاں صبح کا الارم تھیں اور وہ سرینگر بھی دیکھ رہا ہوں جس میں موبائل فون کی گھنٹیاں خاموشی کو توڑتی ہیں۔ میں نے تانگوں کی چاپ بھی سنی ہے اور گاڑیوں کے ہارن بھی، میں نے سیاست کے بدلتے ہوئے نعرے بھی دیکھے ہیں اور محبت کی وہ خاموش نظریں بھی، جنہیں کسی زبان کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘‘
رات اب مزید گہری ہو چکی تھی۔ شنکراچاریہ کی پہاڑی تاریکی میں ایک خاموش درویش کی طرح کھڑی تھی۔ راجباغ کی روشنیاں پانی میں لرز رہی تھیں۔ کہیں دور کسی شِکارے کی مدھم سی جنبش نے پانی پر ایک دائرہ بنایا اور پھر وہ دائرہ آہستہ آہستہ تحلیل ہو گیا۔ تب مجھے محسوس ہوا کہ کشمیر کی پوری تاریخ بھی شاید ایسی ہی ہے۔ ایک دائرہ بنتا ہے، پھیلتا ہے، مٹ جاتا ہے، پھر دوسرا دائرہ جنم لیتا ہے، مگر دریا بہتا رہتا ہے۔میں نے پل کی لکڑی پر آخری بار ہاتھ پھیرا، وہ ٹھنڈی تھی، مگر اس کے اندر صدیوں کی حرارت محفوظ تھی۔ اس لمحے مجھے یقین ہو گیا کہ زیرو بریج سرینگر کا سب سے قدیم پل نہیں، سب سے بلند بھی نہیں، مگر شاید سب سے زیادہ محبوب پل ہے، کیونکہ اس نے صرف دو کناروں کو نہیں ملایا۔ اس نے ماضی کو حال سے، روایت کو جدیدیت سے اور انسان کو اس کی اپنی یادداشت سے جوڑ دیا۔
میں نے واپسی کے لیے قدم بڑھائے تو یوں لگا جیسے پل نے خاموشی سے مجھے رخصت کرتے ہوئے کہا ہو۔’’جہلم کو دیکھنے والے بہت آتے ہیں، مگر اسے سننے والے کم ہوتے ہیں۔ اگر آج تم نے اس کی خاموشی سن لی ہے تو سمجھو تم نے صرف زیرو بریج نہیں دیکھا، تم نے سرینگر کے دل کی دھڑکن سن لی ہے۔ کیونکہ میں لکڑی کا ایک پل نہیں، کشمیر کی اجتماعی یادداشت کا وہ صفحہ ہوں جسے وقت ہر روز پلٹتا ہے، مگر پڑھ کر کبھی ختم نہیں کر پاتا۔‘‘