اننت ناگ//جموں کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے ہفتہ کو ویری ناگ میں میگا پنچایت کانفرنس کا انعقاد کیا گیاجس میں پنچوں و سرپنچوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔موصولہ بیان کے مطابق کانفرنس میں عوامی مسائل بالخصوص ترقیاتی امور کا جائزہ لیاگیا۔کانگریس نے حکومت پر الزام عائد کیاکہ وہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری ، قیمتوں میں اضافہ اور عوام کی اہمیت کے دیگر امور پر کو نظرانداز کررہی ہے۔کانفرنس جے کے پی سی سی صدر جی اے میرکی صدارت میں منعقد ہوئی جبکہ نائب صدور ملا رام ،حاجی عبدالرشید ڈار، رمن بھلا ، ، راشد ڈار ، گلزار احمد وانی ، ہری سنگھ چب اور پارٹی کے دیگر سینئر رہنماو¿ں نے خطاب کیا۔سرپنچوں اور پنچوں نے جے کے پی سی سی صدر کو موجودہ ترقیاتی منظر نامے خصوصاً پنچایتوں کے کام کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں ۔انہوں نے بیک ٹو ولیج پروگراموںکے نتائج اور مختلف محکموں کو دی جانے والی سفارشات کے بارے میں تفصیل سے قیادت کو آگاہ کیا۔ پنچایتی اراکین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے حالانکہ انہوں نے کئی مطالبات کئے تھے۔انہوںنے قیادت کو مختلف سکیموں جیسے منریگا ، سڑکوں کی تعمیر ، پی ایم وائی (وزیر اعظم آواس یوجنا) اوردیگر ترقیاتی کاموں کے بارے میں بھی آگاہ کیا ، جن پر عمل درآمد کے لئے کچھ نہیں کیا گیا ۔جے کے پی سی سی صدر اور دیگر سینئر رہنماو¿ں نے عوامی اہمیت کے متعدد دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنچایتوں کا کام کرنا اور بیک ٹو ولیج پروگراموں کے نتائج ناکام ثابت ہوچکے ہیں ۔میگا پنچایت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے کے پی سی سی صدر جی اے میر نے نیک ٹو ولیج پروگراموںکے نتائج پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام محض وقت کا زیاں ثابت ہوئے کیونکہ زمینی سطح پر کوئی کارکردگی دیکھنے کو نہیں ملی۔انہوں نے کہا کہ پنچائتی راج ایکٹ کے تحت ضمانت دی گئی ہے ، حقیقت میں ان کو آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔میر نے کہا کہ پنچائتوں کو آسانی سے کام کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے ۔میر نے کہا کہ کانگریس نے حال ہی میں ترقیاتی منظرنامے کا جائزہ لینے کے لئے ”پنچایت کی اور“ کے طور پر 45 دن کا پروگرام شروع کیا ہے ، جس میں کہا گیا کہ گاو¿ں میں ہونے والی ترقیاتی منظرنامے کا جائزہ لینے کے لئے کانگریس جموں و کشمیر کے کونے کونے تک پہنچ جائے گی۔کانفرنس سے پارٹی کے دیگر لیڈران نے بھی خطاب کیا۔