ٹی ای این
سرینگر// بھارت میں زراعت کے فروغ کے ساتھ اب زرعی کچرے کو محض کچرا نہیں بلکہ ایک قیمتی معاشی وسیلہ سمجھا جا رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ہر سال تقریباً 35 کروڑ ٹن زرعی باقیات پیدا ہوتی ہیں، جن میں فصلوں کا بھوسا، چھلکے، باغبانی کی کٹائی کا مواد، فوڈ پروسیسنگ کا کچرا اور مویشیوں کا گوبر شامل ہے۔ بدقسمتی سے اس کا بڑا حصہ جلایا جاتا ہے، جس سے آلودگی اور کاربن اخراج میں اضافہ ہوتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس زرعی فضلے کو منظم طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ صاف توانائی، مٹی کی زرخیزی اور دیہی روزگار کا ایک مضبوط ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی تناظر میں جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے لیے گرین انٹرپرائزز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔جموں و کشمیر کی معیشت کا بڑا دار و مدار باغبانی، خاص طور پر سیب کی کاشت پر ہے۔ ہر سال سیب کے باغات سے بڑی مقدار میں شاخوں اور لکڑی کا فضلہ نکلتا ہے، جسے اکثر جلا دیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فضلے سے بایو ماس بریکیٹس، پیلیٹس، بایوچار اور چھوٹے پیمانے پر بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ اگر ضلع سطح پر بایو ماس جمع کرنے اور پروسیسنگ کے مراکز قائم کیے جائیں تو اس سے فضلہ جمع کرنے، نقل و حمل، پروسیسنگ اور مارکیٹنگ میں مقامی نوجوانوں کو روزگار مل سکتا ہے۔اسی طرح کشمیروادی اور جموں کے کئی علاقوں میں دھان اور مکئی کی کاشت کے بعد بھوسا اور چھلکا بڑی مقدار میں بچتا ہے۔ اس کو کمپریسڈ بایو گیس پلانٹس، مشروم کی کاشت، نامیاتی کھاد اور مویشیوں کی خوراک کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ فصل باقیات کے بہتر انتظام کے لیے مشینری کرایہ پر دینے کے مراکز بھی قائم کیے جا سکتے ہیں، جس سے دیہی علاقوں میں مستقل روزگار پیدا ہوگا۔دودھ اور مویشی پالنے کے شعبے میں بھی جموں، سامبا اور پلوامہ جیسے اضلاع میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ مویشیوں کے گوبر سے کمیونٹی بایو گیس پلانٹس قائم کر کے دیہی سطح پر توانائی پیدا کی جا سکتی ہے، جبکہ نامیاتی کھاد کی پیکنگ اور فروخت سے اضافی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔قومی سطح پر حکومت نے فصل باقیات کے انتظام کے لیے کروڑوں روپے جاری کیے ہیں، جس کے تحت ہزاروں مشینری یونٹس اور بایو گیس پلانٹس قائم ہو چکے ہیں۔