سرینگر// ریلوے کے مجوزہ بجٹ میں پچیس فیصد اضافہ کرکے اِسے ایک لاکھ دس ہزار کروڑ تک پہنچایاگیا لیکن یہ انتہائی مایوسی کی بات ہے کہ جموں کشمیرکیلئے کسی بھی نئے ریلوے بجٹ کااعلان نہیں کیاگیا ہے۔ان باتوں کااظہار نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان جسٹس(ر) حسنین مسعودی نے لوک سبھا میں 2021-22کے ریلوے کے مطالبات زر پربحث میں حصہ لیتے ہوئے کیا۔ایک بیان کے مطابق انہوں نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ریل شہروں اور قصبوں کو جوڑتی ہے البتہ جموں و کشمیر سے متعلق ضرورت اس بات کی ہے کہ دلوں کو جوڑا جائے، لوگوں کے احساسات، جذبات اور اُمنگوں کا احترام کیا جائے۔ حدمتارکہ اور بین الاقوامی سرحد پر امن کو مستحکم اور دیرپا بنایا جائے اور ساتھ ہی داخلی و خارجی سطح پر بات چیت کا آغاز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ریلوے کے مجوزہ بجٹ میں25فیصد کا اضافہ کرکے ایک لاکھ 10ہزار کروڑ روپے تک پہنچایا گیا ہے لیکن یہ انتہائی مایوسی کی بات ہے کہ جموں وکشمیر کیلئے کسی بھی نئے پروجیکٹ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ نیشنل ریل منصوبہ خوش آئند قدم ہے تاہم اس کی توجہ مشرق اور مشرقی ساحلی خطے پر مرکوز رکھی گئی ہے۔ بارہمولہ کپوارہ، جموں پونچھ، ادھمپور بانہال، قاضی گنڈ پہلگام ریلوے لائنوں پر کوئی بھی پیش رفت نہیں ہے۔ حسنین مسعودی نے لوک سبھا میں مطالبہ کیا کہ چاروں ریلوے لائنوں پر کام میں سرعت لائی جائے اور ادھمپور بانہال لائن پر خصوصی توجہ مرکوز رکھی جائے کیونکہ سرینگر جموں قومی شاہراہ کے آئے روز بند رہنے سے لوگوں کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ حسنین مسعودی نے قاضی گنڈ بارہمولہ کے درمیان ٹرینوں میں اضافے اور ریلوے میں ملازمتوں کیلئے مقامی نوجوانوں کو ترجیح دینے کا مطالبہ کیا۔اس سے قبل حسنین مسعودی نے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر کے طلباء و طالبات کو ایجوکیشن لون کی ادائیگی میں ریلیف فراہم کی جائے کیونکہ 5اگست2019کے بعد دوہر ے لاک ڈائون سے انہیں بہت زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ٹراوٹ مچھلیوں کے فارموں کیلئے خصوصی مراعات کا بھی مطالبہ کیا۔