پونچھ /کوٹرنکہ //گئو رکشک کے نام پر ریاسی میں بکروال کنبے کی مار پیٹ کے واقعہ کی مختلف تنظیموں نے سخت مذمت کی ہے ۔گوجر بکروال یوتھ ایسو سی ایشن پونچھ نے حملہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے غنڈہ گردی سے تعبیر کیا۔ایسو سی ایشن کے صدر اخلاق تبسم اورجنرل سیکریٹری بشارت عظیم نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ کافی عرصہ سے گوجر بکروال طبقہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، کبھی جنگل کی زمین کے قبضہ کو لیکر اور کبھی ناجائز مکانوں کی تعمیر کو لیکر اس طبقہ کو خلاف منظم سازش کے تحت نشانہ بنایا جا تا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی کڑی کے سلسلہ میں اس بار بے قصور خانہ بدوشوں کو نشانہ بنایا گیا جو کہ ہر سال گرمیوں میں وادی کی جانب نقل مکانی کرتے ہیں۔اخلاق تبسم اور بشارت عظیم نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ اتنا ظلم ہو رہا ہے لیکن حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔انہوںنے کہا کہ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کو سزا دی جانی چاہئے چاہے وہ کتنا بھی اثر ورسوخ والا کیوں نہ ہو اور اس معاملہ کی تحقیقات ہونی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ حملہ کرنے والوں نے بچے اور خواتین کو بھی نہیں بخشا جس سے ان کی ذہنیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اس موقعہ پر فاروق سانگو،حفیظ الرحمن،ضیاء چوہدری وغیرہ بھی موجود تھے ۔دریں اثناء کوٹرنکہ کے لوگوںنے بھی اس واقعہ کی مذمت کی ہے ۔ سجاد اقبال ،طالب حسین ، شکیل احمد ، الطاف حسین اورشوکت علی نامی شہریوں نے کہاکہ صوبہ جموں میں اس طرح کے واقعات قابل مذمت اور تشویشناک ہیں جن سے پورے صوبے میں حالات خراب ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو چاہئے کہ وہ ایسے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے جو قانون کو اپنے ہاتھ میںلیتے ہیں۔ سجاد اقبال نے کہا کہ مخلوط سرکار یہ کہہ رہی ہے کہ وہ عزت نفس اور عام لوگوں کی فلاح کے لئے کام کررہی ہے تاہم ایسے واقعات کا رونماہونا اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ صوبہ جموں میں قانون نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے اور شر پسند کھلے عام اپنا کام کررہے ہیں۔