جموں//جموں کشمیر رہبر تعلیم ٹیچرز فورمنے مانگوں کو ریاست گیر احتجاجی کال کے پیش نظر سرمائی راجدھانی جموں کے پریس کلب اورگرمائی راجدھانی سرینگر پریس کالونی میں کثیرتعداد میں رہبر تعلیم اساتذہ جمع ہوئے اورمطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔اس دوران سرینگر میں احتجاج کی قیادت فورم کے ریاستی چیرمین فاروق احمد تانترے کررہے تھے جبکہ جموں میں فورم کے نائب چیرمین بھوپیندر سنگھ ، جنرل سیکٹری جہانگیر عالم خان اور صوبائی صدر آفتاب ملک کی قیادت میں اساتذہ نے احتجاج کیا-اس موقع پرسراپااحتجاج اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے تنظیمی لیڈران نے کہا کہ بار بار یقین دہانیوں کے باوجود سرکار رہبر تعلیم اساتذہ کے ساتھ سوتیلاما سلوک روا رکھے ہوئے ہیں – اْنہوں نے کہا کہ گذشتہ دو سالوں سے فورم محکمہ اور سرکار سے گذارش کرتی آ رہی ہے کہ اساتذہ کی تنخواؤں کو سٹریم لائن کر نے کے لئے اقدامات اْٹھائے جائیں لیکن سرکار کی یقین دہانیاں سراب ثابت ہوئی اور اساتذہ کو سڑکوں پر اُتر آنے کے لئے مجبور کیا گیا – اُنہوں نے کہا کہ فورم نے وزیر تعلیم سے لیکر وزیر خزانہ تک اس بارے میں بار بار استدعا کی گئی لیکن محض یقین دہانیوں کے سوا ،رہبر تعلیم اساتذہ کو کچھ حاصل نہ ہوا – اْنہوں نے مزید کہا کہ سرکار رہبر تعلیم اساتذہ کے آڈر میں خود اس بات کا اظہار کرتی آئی ہے کہ پانچ سال کی تسلی بخش خدمات کے بعد رہبر تعلیم اساتذہ جنرل لائن ٹیچرز کے زمرے میں شامل ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں تنخوائیں حاصل کر نے کے لئے مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے جو کہ قابل افسوس ہے – فورم چیرمین نے کہا کہ اْنہیں کوئی شوق نہیں کہ وہ سڑکوں پر اتر آئیں وہ چاہتے ہیں کہ وہ سکولوں میں غریب طلباء کو تعلیم کے نور سے آراستہ کرتے رہیں لیکن سرکار اور متعلقہ محکمہ اْنہیں مجبور کر رہا ہے – اْنہوں نے سرکار کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ رہبر تعلیم اساتذہ کے جائز مسائل کو ایک ہی بار حل کیا جائے تاکہ فورم کو جو نعرہ ہے کہ وہ ریاست میں نظام تعلیم کو مزید بہتر بنانے کے لئے کام کر رہے ہیں وہ مقصد پورا ہو سکے – تانترے نے کہ اساتذہ کی ٹائم باونڈ پروموشن نا معلوم وجوہات کی بنا پر روک دی گئی ہے ،عزت مآب ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود ٹرانسفر پالیسی کو پانچ سال کی سروس کے بعد لاگو نہیں کیا جا رہا ہے جو کہ اس طبقے کے ساتھ نا انصافی ہے -تانترے نے مزید کہا کہ ایجوکیشن وایلنٹرز سے بنے رہبر تعلیم اساتذہ و دیگر کئی رہبر تعلیم اساتذہ کی مستقلی کی فائلیں دفتروں میں دھول چاٹ رہی ہیں جو کہ سمجھ سے بالاتر ہے – اس سلسلے میں جموں میں بھی فورم کی طرف سے دی گئی کال پر اساتذہ کی ایک بڑی تعداد پریس کلب جموں میں جمع ہوئی اس موقع پر اس احتجاج کی قیادت فورم کے نائب چیرمین بھوپیندر سنگھ ، ریاستی جنرل سیکٹری جہانگیر عالم خان اور صوبائی صدر آفتاب عالم ملک کر رہے تھے – اس موقعہ پر مقررین نے سرکار کی طرف سے رہبر تعلیم اساتذہ کے ساتھ جاری رکھے گئے سلوک کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے پر زور الفاظ میں مذمت کی -مقررین نے کہا کہ سرکار جان بوجھ کر اساتذہ کو سڑکوں پہ آنے کے لئے مجبور کر رہی ہے -اْنہوں نے کہا کہ رہبر تعلیم اساتذہ اپنے مسائل کا حل ایک ہی بار چاہتے ہیں تاکہ اْنہیں بار بار ذہینی کوفت کا سامنا نہ کرنا پڑے -اْنہوں نے کہا کہ اساتذہ کو مستقلی کے لئے زونل ایجوکیشن آفیسر کے دفتروں سے لیکر ڈائریکٹوریٹ تک در در کی ٹھوکریں کھانی پڑ رہی ہیں – احتجاجی اساتذہ کا کہنا تھا کہ کئی زونوں میں بنا ڈی ڈی او کے د فتر چل رہے ہیں اور مختلف رقومات نکالنے کے لئے اساتذہ پریشان ہیں جس میں میڈ ڈے میلز و دیگر رقومات شامل ہیں -اساتذہ نے اس موقع پر جم کر نعرہ بازہ کر تے ہوئے جموں میں سیول سیکریٹریٹ کی طرف مارچ کر نے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے اْنہیں آگے بڑھنے نہیں دیا – سرینگر میں بھی اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے – احتجاجی اساتذہ پریس کالونی سرینگر سے احتجاج کی صورت میں ڈائریکٹریٹ سکول ایجوکیشن تک پہنچے جہاں پر فورم چیرمین نے احتجاجی اساتذہ سے خطاب کہا اور ایس ایس اے کی سکیم پر مفصل روشنی ڈالتے ہوئے اس میں سرکاروں کی ناکامی کو بیان کیا-جموں میں ہوئے احتجاجی اساتذہ ظاہرین نے سیول سیکرٹریٹ کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے اْن پر لاٹھی چارچ کیا اور ایک درجن کے قریب اساتذہ زخمی ہوئے۔