ستیہ پال ملک اس وقت ریاست کے سب سے بڑے عہدے پر فائز ہیں ۔گورنر کا یہ اعلیٰ عہدہ ان پر ذمہ داریوں کا جو بوجھ ڈالتا ہے اس کو وہ سمجھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود جب جوش اور غصہ ان پر حاوی ہوجاتا ہے تو وہ بھرے مجمع میں ایک ایسا جملہ کہتے ہیں جس پر انہیں بعد میں پشیماں ہونا پڑتا ہے ۔وہ انسان ہیں اور انسان غلطیوں کا پتلا کہلاتا ہے ۔کبھی جوش میں ، کبھی غصے میں اور کبھی فرط جذبات میں وہ کچھ بھی کرگزرتا ہے یا کہہ دیتا ہے ۔اکثر ایسی ہی وقتی کیفیت انسان سے کوئی ایسا جرم بھی کرواتی ہے جو اسے پھانسی کے پھندے تک لے جاتی ہے ۔ قانون نہ اس پس منظر کو دیکھتا ہے جس میں جرم ہوا اور نہ اس کیفیت کو دیکھتا ہے جو جرم کا باعث بنا ۔گورنرصاحب نے جنگجو ئوں سے مخاطب ہوکرجب یہ کہہ ڈالا کہ پولیس والوں کو قتل کرنے کے بجائے ان لوگوں کو قتل کردو جو لوٹ کھسوٹ کررہے ہیں تو انہوں نے قتل کا ہی فرمان جاری کردیا اور یہ کسی انفرادی جرم سے بھی بڑا جرم ہے ۔گورنر صاحب کو جب اس کا احساس ہوا تو انہوں نے اپنے الفاظ واپس لے لئے ۔حالانکہ نہ کمان سے نکلا ہوا تیر واپس آسکتا ہے اور نہ ہی زبان سے نکلے الفاظ واپس آسکتے ہیں ۔ ان کے یہ الفاظ ان کا پیچھا اب کبھی نہیں چھوڑیں گے لیکن گورنر کی حیثیت سے یہ ان کا ایسا تجربہ ہے جو کشمیر کے موجودہ حالات میں ان کے بہت کام آسکتا ہے ۔ستیہ پال ملک صاحب کا کہنا ہے کہ انہیںاس بات سے بڑا دکھ پہنچا ہے کہ ریاست کو سیاست دانوں اورسرکاری حاکموں نے دو د و ہاتھوں سے لوٹ لیا ہے ۔ کشمیر میں بے پناہ غربت ہے ۔ ڈائون ٹاون میں ایک ایک گھر میں کئی کئی کنبے رہتے ہیں اور سیاست دانوں اور حاکموں نے یہاں بھی بڑے بڑے بنگلے بنائے ہیں جن میں درجنوں کمرے ہیں اور دہلی کے علاوہ ہندوستان کی دوسری ریاستوں میں بھی ان کے مکان ہیں ۔ میرا بس چلتا تو میں انہیں جیل میں ڈال دیتا ۔ اسی غصے کی وجہ سے میری زبان سے ایسے الفاظ نکلے جو مجھے نہیں کہنے چاہئے تھے۔
ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے اندر ایک اچھے انسان کا دل ہے جو یہ برداشت نہیں کرسکا کہ عام غریبوں اور لاچار لوگوں کا اس بے دردی کے ساتھ استحصال کرنے والے خود عیش کی زندگی جی لیں اور ان کے استحصال کے شکار لوگ اس قدر عذاب کی زندگی برداشت کریں ۔ایک انتہائی حساس انسان ہی اس بات کو محسوس کرسکتا ہے اور اس پر اس قدر مشتعل ہوسکتا ہے کہ کچھ دیر کے لئے اپنا آپا بھی کھودے۔ اس سے گورنر صاحب یہ بات بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ کشمیر کی قوم نے اپنا آپا کیوں کھودیا ہے ۔ اس کے اندر غم و غصہ اوراشتعال کا لاوا کیسے پیدا ہوا اور اس نے وہ راستے کیوں اختیار کئے ہیں جو خود اس کے لئے بھی ہلاکت خیز ہیں ۔یہ کرپشن جس پر آج گورنر صاحب مشتعل ہیں اس کی جڑیں کہا ں ہیں اگر وہ اس بات کو جاننے کی کوشش کریں تو انہیں کشمیر کی تاریخ کا گہرا مطالعہ کرنا ہوگا ۔ایساکرنے سے انہیں پتہ چلے گا کہ 1953ء میں ایک منتخب حکومت کو ایک سازش کے ذریعے ناجائز طور پر گرائے جانے کے بعد نئی دہلی کی ٹھونسی ہوئی حکومت کو استحکام بخشنے کے لئے کس طرح سے کرپشن کا سہارا لیا گیا ۔اس سیاسی کرپشن کے بل بوتے پر ہی گیارہ سال تک اس حکومت کو عوام کی تائید و حمایت کے بغیرسروں پر مسلط رکھا گیا ۔ اس دوران ایسے انتخابات بھی ہوئے جو آج تک جمہوریت کے دامن پر بدنما داغ بنے ہوئے ہیں ۔اور اس کے بعد اس حکومت کے قاید کو اپنے انجام تک پہنچا کر ایک نئے قاید کو حکومت سونپ دی گئی اور اس کے ذریعے خصوصی پوزیشن کا جنازہ نکال دیا گیا ۔پھر اس کے بعد ایک اور قاید کو نئی دہلی میں چنا گیا ۔اس طرح سے جمہوریت کو بہت بار سرعام قتل کردیا گیاجس کے نتیجے میں عوام کا اعتبار جمہوریت اور مرکز دونوں سے اٹھ گیا ۔ ایسے ہی واقعات نے غم و غصے کا وہ لاوا دلوں میں بھر دیا جو نوے کی دہائی میں اس طرح پھوٹ پڑا کہ اب تک اس کو قابو میں لانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہورہی ہیں ۔
بغیر کسی وجہ کے کبھی کچھ نہیں ہوتا ۔پھولن دیوی چنبل گھاٹی کی ایک ڈاکو تھی ۔ جب اس نے ہتھیار ڈال دئیے تو اسے پارلیمنٹ کی نشست پر بٹھادیا گیا ۔ اس پر ایک فلم بھی بنی ۔ وہ ڈاکو اپنی مرضی سے نہیں بنی تھی بلکہ حالات کے اسی جبر نے اسے ڈاکو بننے پر مجبور کردیا تھا جس جبر نے کشمیر ی قوم کو آپے سے باہر کردیا ہے ۔وہ ایک عام سی نیچ جاتی کی عورت تھی جس کا درجنوںاونچی ذات کے لوگوں نے پے در پے ریپ کیا تھا ۔ اس کے اندر اسی واقعے کے غصے کا لاوا ابل پڑا تھا جس نے اسے ڈاکو بنادیا ۔اس کی زندگی کی کہانی نے ہندوستان کے اقتدار کو اسے عزت و وقار کا مقام عطا کرنے پر مجبور کیا۔ یہ ہندوستان کی جمہوریت کا ایک روشن چہرہ ہے لیکن اس جمہوریت نے اس قوم کی داستاں سمجھنے کی کبھی کوشش نہیں کی جس کا بار بار سیاسی ریپ ہوتا رہا اور آج بھی ہورہا ہے ۔اسے غصہ کیوں نہیں آئے گا اور وہ گورنر صاحب کی طرح آپے سے باہر کیوں نہیں ہوگی ۔
ریاست جموں و کشمیر منقسم ہندوستان کی واحد مسلم اکثریتی ریاست تھی ۔ اس ریاست نے ہوا کے رخ کے مخالف ہندوستان کے ساتھ الحاق کی حمایت کی ۔ شیخ محمد عبداللہ جو اس وقت سب سے بڑے قاید کے روپ میں ابھر چکے تھے نے دو قومی نظرئیے کو قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ نیشنل کانفرنس کے رضاکاروں نے حملہ آور قبائلیوں کا لاٹھیوں اور کلہاڑیوں سے مقابلہ کیا ۔ کشمیر کے فرزند مقبول شیر وانی کو بارہمولہ میں قبائلیوں نے بجلی کے کھمبے کے ساتھ لٹکاکر اس کے بدن میں کیلیں ٹھونک دیں کیونکہ اس نے قبائلیوں کا راستہ بھٹکا دیا تھا ۔ لیکن جب کشمیر میں یہ عالم تھا تو مہاراجہ ہری سنگھ اپنے تمام اہل و عیال اور خزانے کے ساتھ جموں بھاگ کھڑا ہوا اور جب یہ قافلہ جموں پہنچ گیاتو مہاراجہ ہری سنگھ کی بیوی نے استقبال کرنے والے ڈوگروں کے مجمعے سے مخاطب ہوکر کہا کہ ’’ ڈوگرو تمہاری غیرت کو کیا ہوگیا ہے ‘‘۔ یہ بات کام کرگئی اور پھر مسلمانوں کا وہ قتل عام ہوا جس کی کوئی مثال نہیں لیکن اس کے باوجود بھی کشمیر میں ایک بھی غیر مسلم کو ہاتھ تک نہیں لگایا گیا ۔کشمیر کی اس عظمت کو کہا ں اس کا مقام ملا ۔ آج اسی مہاراجہ ہری سنگھ کا پوتا جموں میں 13جولائی کے شہداء کی کھلے عام اہانت کررہا ہے اور بی جے پی بھی اس کی ہاں میں ہاں ملا رہی ہے کیا کشمیریوں کے دل پتھر کے بنے ہیں کیا انہیں اس سے ٹھیس نہیں لگے گی ۔ انہیں غصہ نہیں آئے گا ۔ کشمیری پاکستان سے محبت نہیں کرتے تھے انہیں پاکستان کی طرف جان بوجھ کر دھکیل دیا گیا ہے اور اس کی ذمہ دار سکیولرازم کی علمبراری کا دم بھرنے والی کانگریس ہے ۔کشمیریوں کا غصہ ہر اعتبار سے جائز تھا صرف ایک اٹل بہاری واجپائی اس بات کو کسی حد تک سمجھتے تھے کیونکہ تاریخ کے اس پورے دور کو انہوں نے خود دیکھا تھا اس لئے وہ کشمیریو ں کے جذبات کی قدر کرنا چاہتے تھے لیکن وہ کوشش کے باوجود ایسا نہیں کرسکے ۔ ہندوستان کے اور کسی حکمراں نے تاریخ کو اس کے اصل پس منظر میں سمجھنے کی کوشش نہیں کی ۔
کرپشن کیخلاف لڑائی میں کشمیر کا بچہ بچہ حکومت کے ساتھ کھڑا ہے ۔ہر فرد ان کے جذبے کی قدر کرتا ہے ۔چاہے جو بھی ناجائز طور پر دولت بٹورنے میں ملوث ہواس کا مرتبہ کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو اسے اس کے انجام تک پہنچایا جانا چاہئے یہ کشمیر کی سب سے بڑی خدمت ہوگی اور اس سے حکومت پر اعتبار بڑھ جائے گا جو ختم ہوچکا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ موجودہ حالات میں ایسے اقدامات بھی کئے جانے چاہیں جو عوام کے اندر یقین اور اعتبار پیدا کرنے میں مددگار ہوسکے گا اس کے لئے کئی جرات مندانہ سیاسی فیصلے لینے کی ضرورت ہوگی ۔ گورنر صاحب مرکز کو اس کے لئے راضی کرسکتے ہیں ۔
’’ ہفت روز ہ نوائے جہلم سرینگر‘‘