آپریشن میں فوج، جموں و کشمیر پولیس اور مرکزی مسلح پولیس فورسز کےہزاروں اہلکار شامل
سمت بھارگو
راجوری// راجوری کے منجاکوٹ علاقے کے گمبھیر مغلاں کے دھوری مال علاقے میں جاری انسدادِ ملی ٹینسی آپریشن ایک ماہ سے زائد عرصہ مکمل کرتے ہوئے منگل کو اپنے 32ویں دن میں داخل ہو گیا، جس کے ساتھ ہی یہ راجوری اور پونچھ اضلاع کی تاریخ میں ایک ہی مقام پر جاری رہنے والاسب سے طویل فوجی آپریشن بن گیا ہے۔یہ آپریشن مدت کے اعتبار سے پیر پنچال خطے میں ایک ہی مقام پر جاری رہنے والے تمام سابقہ انسدادِ ملی ٹینسی آپریشنز کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔
اس سے قبل خطے میں کئی بڑے انسدادِملی ٹینسی آپریشن تقریباً ایک ماہ تک جاری رہے تھے، جن میں 2008-09کے دوران مینڈھر کے قصبلاڑی علاقے میں ہونے والاآپریشن اور 2021میں مینڈھر کے بھاٹہ دھوڑیاں علاقے میں چلنے والاآپریشن شامل ہیں، جو تقریباً 22دن تک جاری رہے تھے۔ تاہم خطے میں کسی ایک مقام پر ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک کوئی آپریشن جاری نہیں رہا تھا۔موجودہ آپریشن کا آغاز 22مئی کو اس وقت ہوا جب سکیورٹی فورسز نے گمبھیر مغلاں کے دھوری مال علاقے میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر تلاشی مہم شروع کی۔ تلاشی کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز اور مشتبہ ملی ٹینٹوں کے درمیان رابطہ قائم ہوا جس کے بعد جھڑپ شروع ہو گئی۔اس کے بعد سے علاقے میں بڑے پیمانے پر انسدادِملی ٹینسی آپریشن جاری ہے، جس میں ہزاروں اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔ اس آپریشن میں فوج، جموں و کشمیر پولیس اور مرکزی مسلح پولیس فورسز کے اہلکار شامل ہیں۔ فوج کی اسپیشل فورسز اور جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) کے دستے بھی کارروائی میں مصروف ہیں۔زمینی کارروائیوں کے علاوہ جدید نگرانی کے نظام کے ذریعے علاقے پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ ملی ٹینٹوں کی کسی بھی ممکنہ نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔سکیورٹی فورسز خطرے کو مکمل طور پر ختم کرنے اور علاقے میں مکمل امن و امان بحال کرنے کے لیے اپنی کارروائیاں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔