عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//ضلع راجوری میں جل شکتی محکمہ کے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین نے اپنے دیرینہ مطالبات کے حق میں ڈویژنل دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے اجرتوں میں اضافہ، ملازمتوں کی مستقلی اور اضافی ایس آر او دفعات کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دار نعرہ بازی کی۔احتجاج کے دوران ملازمین نے جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے تنخواہوں کے سٹرکچر میں حالیہ تبدیلی پر اطمینان کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ اس اقدام سے ان کی اجرتوں میں کچھ حد تک بہتری آئی ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ابھی بھی کئی اہم مسائل حل طلب ہیں، جنہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کے مختلف سرکاری محکموں میں کام کرنے والے یومیہ اجرت ملازمین گزشتہ کئی دہائیوں سے مستقلی کے منتظر ہیں۔ ان کے مطابق مختلف ادوار میں حکومتوں کی جانب سے بارہا یقین دہانیاں کروائی گئیں، مگر عملی طور پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ملازمین نے وزیر اعلیٰ کے حالیہ بیان پر امید کا اظہار کیا، جس میں مبینہ طور پر کہا گیا ہے کہ یومیہ اجرت ملازمین کی مستقلی کا عمل رواں سال کے اندر شروع کیا جا سکتا ہے۔ مظاہرین نے اس اعلان کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے سینکڑوں متاثرہ ملازمین میں امید کی نئی کرن پیدا ہوئی ہے۔اس موقع پر احتجاج کرنے والے ملازمین نے اپنی مشکلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ کئی یومیہ اجرت کارکن اپنی سروس کے دوران ہی ریٹائر ہو گئے یا انتقال کر گئے، مگر انہیں ان کے جائز حقوق اور مراعات نہیں مل سکیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ وہ بھی ایک باعزت زندگی گزار سکیں۔مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات کو جلد پورا نہ کیا گیا تو وہ اپنے احتجاج کو مزید وسعت دینے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت ان کے مسائل کو سنجیدگی سے لے گی اور جلد مثبت اقدامات کرے گی۔