مشتاق احمد تعظیم کشمیری
اللہ تعالیٰ کے بندے اپنی پوری زندگی احکامِ الٰہی کے ماتحت گذاریں اور ہر حال اور ہر معاملہ میں اللہ کی ہی فرمانبرداری کریں ۔ایک بندے کو ہروقت اللہ کاخیال رکھنا چاہیے اور اس کے دل میں اللہ کی عظمت و محبت پوری طرح بیٹھ جائے۔ اسلام میں بھی واضح طور پر یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کریں اور اس کی تسبیح وتقدیس اور حمدوثناء سےاپنی زبانیں تر رکھیں اور اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کےلیے محبت و عظمت پیدا کریں ،کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے سے دلوں سے ظلمت مٹ کر حلاوت ایمانی پیدا ہوتی ہے، ذکرِ ربّ العزت ،روح وقلب کو طمانیت بخشتا ہے ۔جب ذکر الٰہی دل میں بس جاتا ہے، پھر اللہ کے بندے کو کوئی بھی طاقت اس سے دور نہیں کرسکتا ۔جتنا ہم اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں گے ،قرب ِالٰہی اتنی زیادہ نصیب ہوگی۔ قران شریف میں بھی اللہ تعالیٰ کے کثرت سے ذکر کرنے کی تاکید فرمائی گئی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسکی بڑی فضیلتیں بیان فرمائی ہیں۔ سوۂ احزاب میں اللہ تبارک تعلیٰ ارشاد فرماتا ہے: اےایمان والو! اللہ کا ذکربہت کرو اورصبح وشام اُس کی پاکی بیان کرو، اسی طرح اللہ تعالیٰ قران مجید کےسورۂ جمعہ میں ارشاد فرماتا ہے: ’’اور ذکرکرو اللہ کا بہت تاکہ تم فلاح پاؤ‘‘۔ اسلام میں پانچ نمازیں فرض ہے اور وہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اعلیٰ درجہ کا ذکر ہے مگرکسی ایمان والے کو نماز ہی ذکر کافی نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ نماز کے علاوہ بھی ذکر الٰہی میں مصروف رہنا چاہیے ۔اللہ تعالیٰ سورۂ نساء میں فرماتا ہے:اور جب تم پڑھ چکو نماز تو یاد کرو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے، جس کی تفصیل علما نے بیان کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہر حال میں کیا کریں۔
ذکر کی اصل حقیقت یہ ہے کہ کوئی بندہ اپنے پروردگار سے غافل نہ ہو جائے، جس طرح یہ بندہ اپنے دنیا وی کاموں میں مصروف رہتا ہے اور شیطان کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے اس کو اللہ کااور اسکے احکام کا خیال رکھنا چاہیے۔ دنیا وی غفلت اور شیطانی فطرت سے بچنے کےلیے بندے کو ذکر الٰہی ضرور ی ہے اور جن بندوں کو اس کا خیال ہے ،وہ اکثر وبیشتر ذکر الٰہی میں مصروف رہتے ہیں اور یہ اللہ کے بندے کثرت سے ذکر کے ذریعہ دل و دماغ میں اللہ کی یاد اور دھیان کی مستقل کیفیت پیدا کر لیتے ہیں اور ذکر اللہ اللہ سےاپنےقلبی تعلق کو بڑھا لیتے ہیں۔ صحیح بخاری کا حدیث شریف ہے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔’’ میرا بندہ میرے متعلق جیسا خیال رکھتا ہے، میں اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں، جب وہ میرا ذکر کرتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتاہوں، اگر وہ اپنے دل میں میرا ذکر کرتا ہے( یعنی ذکرِ خفی)تو میں بھی اپنے ا( شایان شان) اکیلے اس کا ذکر کر تا ہوں اور اگر وہ جماعت میں میرا ذکر کرتا ہے( یعنی ذکر جہری )تو میں اس کی جماعت سے بہتر جماعت میں اس کا ذکر کرتا ہوں اگر وہ ایک بالشت میرے نزدیک آتا ہے تو میں ایک بازو کے برابر اس کے نزدیک آتا ہوں، اگر وہ ایک بازو کے برابر میرے نزدیک آتا ہے تو میں دو بازوں کے کے برابر اس کے نزدیک ہوجاتا ہوں، اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں( بخاری الصحیح 6: 2694) ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ذکر الٰہی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
mushtaqahmadbanday@gmail.