نئی دہلی//آزادصحافت کو دبانے کیلئے حکومتی ایجنسیوں کو ’’ہراساں کرنے کے آلہ‘‘کے طور استعمال کرنے پر ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا نے فکر مندی کااظہار کیا ہے۔جمعرات کو اترپردیش میں معروف میڈیا گروپ دینک بھاسکر سمیت اترپردیش کی ٹیلی ویژن چینل بھارت سماچار کو مبینہ طور ٹیکس چوری کے الزام میں انکم ٹیکس کے چھاپوں کے بعد گلڈ کایہ بیان سامنے آیا۔بیان میں کہاگیا ہے کہ ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا کو 22جولائی کو ملک کے معروف اخبار گروپ دینک بھاسکر اور لکھنو کی ایک ٹیلی ویژن چنل بھارت سماچار کے دفاتر پر انکم ٹیکس محکمے کے چھاپوں پرفکر مند ی ہے۔گلڈ نے کہا کہ یہ چھاپے کووِڈ- 19عالمگیر وباء پروسیع رپورٹنگ کے دینک بھاسکر کی رپورٹنگ کے پس منظر میں ڈالے گئے جس میں حکومتی اداروں کی بدنظمی وبدانتظامی کو اُجاگر کیاگیااورجن کی وجہ سے انسانی جانوں کا کافی اتلاف ہوا۔اس میں دعوی کیا گیا کہ دینک بھاسکر کے اہتمام سے ایک حالیہ ویبنار میں اس کے قومی ایڈیٹراوم گور نے کہا تھاکہ ریاستی حاکموں کی کارکردگی کوظاہر کرنے پر حکومتی محکموں کے اشتہارات کم کئے گئے ہیں ۔ ایڈیٹرس گلڈ نے کہا کہ انہوں نے نیویارک ٹائمز کے Op-Edصفحے پر بھی ایک مضمون تحریر کیا تھا جس کا عنوان تھا،’’گنگاجھوٹ نہیں بولتی،یہ مردوں کو واپس کرتی ہیں‘‘۔بیان میں کہاگیا کہ ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا کواس لئے تشویش ہے کہ سرکاری ایجنسیوں کو آزادصحافت کودبانے کیلئے استعمال کیاجارہاہے۔یہ صحافیوں اور سول سوسائٹی کارکنوں کی پیگاسس سافٹ وئر کے ذریعے نگرانی کئے جانے کی حالیہ اطلاعات کے بعد اس لئے بھی باعث تشویش ہے ۔ بھارت سماچار پر انکم ٹیکس چھاپوں سے متعلق گلڈ نے کہا کہ یہ اترپریش کی اُن چند چینلوں میں شامل ہے جو ریاستی حکومت کو عالمگیر وباء کی بد انتظامی سے متعلق مشکل سوالات پوچھتی ہیں۔گلڈ نے کہا کہ معاملے کی نوعیت سے پرے ان چھاپوں کے وقت کاجہاں تک تعلق ہے کہ دونوں اداروں کی طرف سے اس نازک کوریج کا نتیجہ ہے۔گلڈ نے کہا کہ فروری میں اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے نیوزکلک ڈاٹ ان پر چھاپے مارے جوکسانوں اورشہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاجوں کی رپورٹنگ میں آگے آگے تھا۔بیان کے مطابق دینک بھاسکر جس کے 12ریاستوں میں دفاتر ہیں اور اخبارات کے علاوہ اس کے ریڈیواسٹیشن ،ویب پورٹل اور موبائل فون ایپ ہیں،پر جمعرات شام ساڑھے پانچ بجے چھاپے ڈالے گئے جودیرشام تک جاری تھے۔یہ مختلف ریاستوں میں 30مقامات پر ڈالے گئے۔اترپردیش میں بھارت سماچار کے احاطہ،پرموٹرس اور ملازمین پر بھی چھاپے مارے گئے۔