جموں//سابق چیئرمین جے ایم سی وممبرپردیش کانگریس کمیٹی دوارکاچودھری نے سانبہ کے سرحدی علاقوں ارنیہ ،ہیرانگر،آرایس پورہ وغیرہ کادورہ کرکے متاثرہ لوگوں کودرپیش پریشانیوں کاجائزہ لیااوراس کے علاوہ ہسپتال میں زیرعلاج زخمیوں کی بھی عیادت کی۔اس دوران لوگوں سے بات کرتے ہوئے دوارکاچودھری نے سرحدپارسے سانبہ،ہیرانگر،آرایس پورہ وغیرہ سرحدی علاقہ جات میں آئے دن ہونے والی گولہ باری سے ہورہے نقصانات پرتشویش کااظہارکیاہے۔انہوں نے گولہ باری کی سیزفائرکی مذمت کرتے ہوئے حکومت کواس کیلئے ذمہ دارقراردیا۔دوارکاچودھری نے حکومت سے پڑوسی ملک کے خلاف ٹھوس کارروائی عمل میں لانے کامطالبہ کیااورانتباہ دیاکہ اگرایسانہیں کیاگیاتوپردیش کانگریس کمیٹی مرکزی اورریاستی سرکارکے خلاف ایجی ٹیشن شرو ع کرنے کیلئے مجبورہوجائے گی۔دوارکاچودھری نے اقوام متحدہ سے بھی اپیل کی کہ پاکستان کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائے ۔علاوہ ازیں دواکارچودھری نے پاکستانی فوج کے سیزفائرکی وجہ سے جان بحق ہوئے بی ایس ایف جوان اورعام شہریوں کی ہلاکت پرافسوس کااظہارکیااورمہلوکین کے کنبوں کے ساتھ یکجہتی کی۔انہوں نے کہاکہ حکومت کوسرحدی علاقہ جات کے لوگوں کوپانچ مرلہ اراضی فراہم کرنے کیلئے اقدام اٹھانے چاہئیں اورمتاثرہ لوگوں کومائیگرنٹ کیمپوں میں منتقل کرناچاہیئے تاکہ ان کے بچے بہترطریقے سے تعلیم حاصل کرسکیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت کاامن بحال کرنے کادعویٰ کھوکھلاہے ۔