منشیات، سگریٹ نوشی، ہائی بلڈ پریشر، اعصابی تنائو اور سر میں چوٹ لگنا بڑی وجوہات میں شامل
پرویز احمد
سرینگر//پوری دنیا میں 10فیصد لوگ دماغ کی نس پھٹنے(Brain Haemorrhage ) سے متاثرہوجاتے ہیں۔ بھارت میں اس کی شرح مختلف ریاستوں میں مختلف ہے لیکن ملک میں اس کی مجموعی شرح 20فیصد ہے ۔ کشمیر میں اس کی شرح ملکی شرح سے بہت زیادہ 31فیصد ہے۔
وجوہات اور علاماتیں
دماغ کی نس پھٹنے کا مطلب ہے، دماغ میںزیادہ پریشر کی وجہ سے جمع ہونے والے خون کے دبائو سے نس کے پھٹنے یا لیک ہونے کو کہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے دماغ کی نسوں تک آکسیجن نہیں پہنچتا ، دماغ کے اندر پریشر پیدا ہوتا ہے اور یہ دماغ میں دبائو بڑھنے اور نس لیک ہونے کا سبب بنتا ہے ۔ اس کی وجہ سے جسم کے اہم حصے متاثر ہوتے ہیں۔ اصل میں دماغ مختلف کھانوں یا مراکز میں منقسم ہوتا ہے اور دماغ کا ایک کھانہ ایک نظام کو چلاتا ہے، جیسے بصارت کیلئے دماغ کا الگ مرکز ہوتا ہے،سونے کیلئے الگ سینٹر ہوتا ہے اور غذا کا مزہ لینے کیلئے دماغ کا الگ حصہ مخصوص ہوتا ہے جو مختلف خلیوں کو ایک ساتھ کام کرنے کی ترغیب دیتا ہے اورانسان کسی غذا کا مزہ لیتا ہے۔ دماغ کی نس پھٹنے سے جسم کا کوئی بھی حصہ متاثر ہوسکتا ہے اور یہ مختلف علامتوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔اس کی سب سے بڑی علامت شدید سردرد، بے ہوش ہونا اور جسم کے ایک حصہ کا کام کرنا چھوڑدینا یا ایک سائیڈ میں فالج ہونا ہے۔ دماغ کی نس پھٹنے سے متاثرہ شخص کے بولنے میں بھی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ اس بیماری کی سب سے بڑی وجہ ہائی بلڈ پریشر ہے۔ جن لوگوں کو کافی عرصہ تک ہائی بلڈ پریشر رہتا ہے اور وہ اس کا علاج نہیں کراتے ہیں، ان کے دماغ کا پریشر بڑھ جاتا ہے اور بعد میں یہی پریشر نس پھٹنے کا سبب بن جاتا ہے۔ دوسری بڑی وجہ بچوں کا پیدائش کے وقت جینیاتی بیماری Anorismکا شکار ہونا ہے۔ اس بیماری میں بچوں کی نسیں پیدائش سے ہی کمزور ہوتی ہیں جو عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ غبارے کی طرح پھول جاتی ہیں اور بعد میں پھٹ جاتی ہیں۔ تیسری بڑی وجہ سر پر چوٹ لگنا ہے۔ اگر کسی شخص کو ٹریفک حادثے یا زمین پر گرنے سے سر پر چوٹ آتی ہے اور چوٹ کی وجہ سے دماغ میں خون جمع ہوتا ہے تو اس کی علامتیں بھی یہی اور کافی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ چوتھی بڑی وجہ ہے خون کو پتلا کرنے والی ادویات کا استعمال کرنا ۔ اگر کوئی مریض خون کو پتلا کرنے کی ادویات لیتا ہے تو اس کو ڈاکٹروں کی نگرانی میں یہ ادویات لینی چاہئے۔ پانچویں بڑی وجہ ہے نشیلی ادویات کا استعمال کرنا ہے۔ نشیلی ادویات جیسے ہیروئن، کوکین اور شراب پینے والوں میں دماغ کی نس پھٹنے کا چانس زیادہ ہوتا ہے۔ان لوگوں میں سخت علامتیں جیسی شدید سردرد، الٹی آنا، نظر میں دھندلا پن اور جسم کے ایک حصے کا کام بند کرنا ہے۔
بچائو کے طریقے
اس سے بچائو کے طریقوں میں ہمیشہ بلڈ پریشر پر نظر رکھنا سب سے اہم ہے۔ اگر کوئی شخص بلڈ پریشر کا شکار ہے تو اسے ہمیشہ بلڈ پریشر پر نظر رکھنی چاہئے۔ اس کے علاوہ نمک کا کم استعمال، سگریٹ نوشی سے پرہیزکرنا بہت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ وزن کو قابو میں رکھیں ، روزانہ ورزش کریں اور اگر آپ شوگر کے مریض ہیں تو خون میں چربی کی مقدار پر ہمیشہ نظر رکھیں۔ کئی لوگوں میں اعصابی تنائو کی وجہ سے دماغ کی نسیں پھٹ جاتی ہیں۔ لہٰذا ٹینشن اور بہت زیادہ حساس بننے سے بھی دماغ کی نسیں پھٹنے کا احتمال رہتا ہے۔ماہرین نے یہ بات بھی نوٹ کی ہے کہ جن لوگوں کو ہائی بلڈ پریشر کی شکایات نہیں رہتی ہیں، وہ بھی اس حملے کے شکار ہوجاتے ہیں۔