ہارون ابن رشید ، ہندوارہ
آپ کی زندگی کے ہر قدم پر آپ کو خلفشار ملے گا۔ اچھی زندگی ایک منزل ہے جس کے کئی راستے ہیں لیکن اس کی طرف جانے والے ہر راستے پر آپ کوبے چینی،اضطراب،کھلبلی یا افراتفری ملے گی۔ اگر آپ کوئی سماجی کام کر رہے ہیں تو کبھی اپنا معاشرہ ہی آپ کے لئے ایک خلفشار بن سکتا ہے۔معاشرہ آپ کو کچھ اچھا کرنے کی اجازت نہیں دے گا کیونکہ وہ معاشرے کے زیادہ تر افراد خود کسی نہ کسی طرح کے خلفشار میں مبتلا ہوتے ہیں اور پھربلا وجہ حسد کا شکار ہوجاتے ہیں،جس کے باعث وہ آپ کی اچھی توجہ ہٹا سکتے ہیں۔اگر آپ طالب علم ہیں اور آپ اچھی طرح سے تعلیم کے حصول کے متمنی نہیں ہوتے ہیں تو میرے دوست!ظاہر ہے کہ آپ یا تو کسی غلط صحبت میں ہیں یا اپنے غیر ضروری معمولات میں مشغول رہتے ہیں۔ یاد رہے کہ طالب علموں کو اپنی نوعمری میں ہی اپنی طرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ یہ وہ عمر ہے جس میں انسان خود کو ایسی حالت میں پاتا ہے، جہاں وہ تمام راستے دیکھ سکتا ہے،جن میں صحیح راستے بھی ہوتے ہیں اور غلط بھی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اُسے صحیح راستے ناگوار اور بورنگ لگتے ہیں اور غلط و بُرے راستے تفریح سے بھرے نظر آتے ہیں۔ اگر آپ کو ایک اچھی کمپنی مل گئی ہے تو آپ کبھی بھی اچھاراستہ اختیار کرنے میں اُلجھن میں نہیں پڑیں گے اور اگر غلط صحبت میں پڑگئے تو سمجھو کہ آپ صحیح راستے سے بھٹک گئے ہیں۔ کیونکہ ایک سڑا ہوا سیب ،سیب کا پورا ڈبہ خراب کرتا ہے۔اس لیے آپ کو دوست چُننےاور اُن کے ساتھ کمپنی بنانے میں ہوشیار اور سمجھ دار ہونا چاہیے اور سوجھ بوجھ اور ہوشیاری کے ساتھ راہِ راست اختیار کرنا چاہئے۔زمانہ قدیم میں خلفشار اتنا زیادہ نہیں تھا جتنا کہ آج ہےاور آج کے دور میںتو پیدائش سے لے کر موت تک بس خلفشار ہی خلفشار کے انبار لگے رہتے ہیں اور یہ اضطرابی صورت حال ایک انسان کے لئے صحیح سمت کی جانب بڑھنے میں مختلف رکاوٹیں کھڑی کردیتی ہیں،مگر سمجھ دار اور ہشیار انسان ان تمام رکاوٹوں سے نمٹتا رہتا ہے۔
موبائل فونز انسان کے فائدے اور معاشرے کی بہتری کے لیے ایجاد کیے گئے ، لیکن جب یہ موبائل فونز ،خلفشار کے شکار افراد کے ہاتھ میں آئے تو یہ انسانیت کے لئے خطرہ بن گئےاور اس طرح موبائل فون بھیانک خلفشار کا سامان بن گیا ہے۔
موبائل فونز میں پیش کئے جانے والےغلط ،بے جا،اور فحش مواد نے نہ صرف طلبا و طالبات کی زندگی میں نت نئے خلفشار پیدا کردیئے ہیں بلکہ پوری نوجوان نسل کی زندگی تباہی کی راہوں کی طرف موڑ دی ہے۔ہم جس دنیا میں رہتے ہیں، اس میں مختلف قومیں رہتی ہیں،مختلف مذاہب و مسلک ،رنگ و نسل ،ذات و عقائدوالے لوگ رہتے ہیں۔ہع قوم یا ہر فرد دنیا کو اپنے اپنے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔کچھ لوگ تو دنیاکو مکڑی کا جال قرار دے رہے ہیں۔کچھ اسے عارضی جانتے ہیں اور کچھ دنیا کو فانی سمجھتے ہیں۔یعنی لوگوں نےاس دنیا کو بھی ایک خلفشار بنا کے رکھ دیا ہے۔بیشتر ممالک ایک دوسرے کے لئے خلفشارکا سبب مانتے ہیں اور ایک دوسرے کو مٹانے پر تُلے ہوئے ہیں۔اسی طرح ایک ہمسایہ،دوسرے ہمسایہ کے لئے خلفشار بن چکا ہے، اپنے پڑوسی سے زیادہ بڑا بننے کی خواہش میںحاسدبننا بھی خلفشار ہے۔اگر آپ اپنے پڑوسی کی کسی کامیابی کو برداشت نہیں کرتے اور نہ ہی اُس طرح کی کامیابی حاصل کرنے کی قابلیت ہے تو یہ بھی آپ کے لئےخلفشار ہی ہے،اور یہ خلفشار یا یوں کہیں ’حسد‘ بالآخر آپ ہی کو مار سکتا ہے۔
میرا مانناہے کہ یہ ایک خلفشار ہے جو آپ کو صحیح راستہ اختیار کرنے نہیں دے رہا ہے بلکہ آپ کو تباہی کے راستے پر چلنے پر مجبور کر رہا ہے!آج کل اگر انسان سمارٹ نہیں ہے توسمجھو وہ مُردہ کے مترادف ہے۔ سمارٹ ہونا ضروری ہے۔نوعمر طالب علم سگریٹ نوشی کو ایک میٹھی عادت سمجھتے ہیں، اسکول سے فرارہونا،رذالت کرنا،غنڈہ گردی دکھانا،جہاںاُسے اپنے ساتھیوں کے درمیان ہیرو بنا دیتا ہےوہیںغیر تہذیب یافتہ باتیں کرنا اورگالی گلوچ ان کے لیے پُرکشش ہے۔ انہیںدوسروں کو ریگ کرنے میں مزا آتا ہے، دوسروں پر رُعب چلانااور انہیں اپنے سے کمتر سمجھنابھی انہیں اچھا لگتا ہے، کلاس رومز میں سائڈ ٹاکنگ کرنا، ٹیچرز کو چھیڑنا، لڑکیوں کو تنگ کرنا، یہ سب سرگرمیاں تو غلط راستے کی ہی دین ہے، لیکن نوجوانی میں یہ سب کچھ انہیں دلچسپ لگتا ہے۔ لیکن میرے پیارے دوستو! یہ سب کچھ کسی اعتبار سے اچھا نہیں ، بلکہ بالکل غلط ہے۔
ذرا سوچو!سگریٹ نوشی آپ کا دماغ ٹھنڈا نہیں کر سکتی بلکہ یہ آپ کو کینسر کامریض بنا دے گی، سکول سے بھاگنا آپ کو ہیرو نہیں بناتا بلکہ یہ آپ کو ناخواندگی کا شکار بناتا ہے اور آج کل ناخواندہ لوگوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، ناخواندگی میں آپ کا غیر تہذیب یافتہ بول چال اور بے جا گفتگو آپ کے لئے رُسوائی کا سبب بن سکتی ہے۔ میرے بھائیو! غلط الفاظی ،گالی گلوچ اور تیزو تلح کلامی ہرگز پُر کشش نہیں ہوتی بلکہ فتنہ انگیز ہوتی ہے۔دوسروں کو ریگ کرنا مزہ نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک گناہ ہے اور اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنے شکار کی نظروں میں حیوانوں یا درندوںکی خصلت دکھا رہے ہیں۔ اساتذہ کو چھیڑنے سے آپ کی کوئی عزت نہیں رہتی، بس اساتذہ کا دل ٹوٹ جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں یا تو آپ کواُستاد کی ڈانٹ ڈپٹ اور مارنا جھیلنی پڑتی ہےیاپھراستاداللہ پر فیصلہ چھوڑ دیتا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔
سڑکوں اور بازاروںمیں رومیو بننا آپ کے کردار کو ظاہر کرتا ہے اور یہ بھی دکھاتا ہے کہ آپ کے والدین نے آپ کی کیسی پرورش کی ہے۔ لہٰذا جب آپ لڑکیوں کو تنگ کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے والد بھی وہی کر رہے ہیں! گویاآپ اُن والدین کی بے عزتی کر وا رہے ہیں،جن کے نام کے ساتھ قیامت کے دن آپ کی پوچھ گچھ ہوگی۔ یہ تمام چیزیں جو ایک شخص نوجوانی میں سوچتا ہے، غلط فہمی ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں خلفشار ہیں اور رکاوٹیں ہیں، جو آپ کو آسمان کو چھونے سے روکتی ہیں!نوعمری میں ہونے کا مطلب ہے کہ آپ کافی سمجھدار ہو رہے ہیں، کیا غلط ہے اور کیا صحیح، یہ تو آپ نے پہلے ہی پڑھا ہے یعنی آپ کوکم عمری میں ہی کچھ غلط فہمیوں اور خلفشار کا پتہ چل گیا ہوتا ہے۔تو پھر یہ فتور کیوں اور کس لئے؟
اگر آپ اپنی زندگی بدلنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے معمولات، عادات، کمپنی اور وہ سب کچھ بدلنا ہوگا۔جیسا کہ میں نے شروع میں لکھا تھا۔ زندگی ایک منزل ہے جس کے کئی راستے ہیں، کچھ صحیح ہیں اور کچھ غلط۔اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ صحیح کا ادراک کیسے کیا جائے۔ سب سے پہلے آپ کو اوپری گرہ کی مشق کرنے کی ضرورت ہے جس کا مطلب ہے کہ آپ کو لالچ کو ختم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ لالچ آپ کی خواہشات کو بڑھاتا ہے اور خواہشات آپ کو پُرسکون اور مطمئن رہنے نہیں دیتیں۔بہتر زندگی کے لیے آپ کو بوسیدہ کمپنی سے بچنا ہوگا، اگر کوئی ایسی چیز ہے جو آپ کے خیال میں رکاوٹ ہے تو آپ کو اپنے معمولات کو تبدیل کرنا ہوگا، آپ کو اپنے معمولات میں اس چیز کو ختم کرنا ہوگا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلو۔ اپنے وژن کو صاف صاف پڑھیں اور ہوشیار اور محنتی لڑکوں کو دوست بنائیں۔ اپنی بُری عادتوں کو ترک کر دیں۔ یہ سمجھ لیں کہ عزت قیمتی اور مہنگی ہے۔ اس لیے جب آپ دوسروں کوعزت دینا سیکھو گے توآپ کے لئے عزت حاصل کرنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔ بزرگوں کی بات سنیں، ڈاون ٹو ارتھ رہیں، سنجیدہ بنیں، موبائل فون کو اپنے کنٹرول میں رکھیں ،موبائل فون کےکنٹرول میں نہ رہیں، اپنی زندگی پر توجہ دیں اور اپنا کیریئر بنائیں۔ اس طرح آپ خلفشار سے بچیں گے اور ایک ذمہ دار اور قابل احترام شخصیت بن جائو گے۔ایک بار جب آپ تمام خلفشار کو مٹا دیں تو پھر آپ اپنی منزل پر پہنچ جائیں گے اور منزل ایک اچھی اور کامیاب زندگی ہے!
(مضمون نگار ، پی جی کے طالب علم ہیں)
[email protected]>