عامر ماگرے کی لاش اہلخانہ کے حوالے کی جائے:حریت(ع)
سرینگر/ /حریت کانفرنس (ع) نے حیدرپورہ میں ہلاک کئے گئے تیسرے شہری گول رام بن کے عامراحمدماگرے کی لاش بھی اُس کے لواحقین کو واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔حریت کانفرنس نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ حکام حیدر پورہ فرضی جھڑپ میں ہلاک کئے گئے تیسرے شہری عامر احمد ماگرے جو گول کا رہنے والا تھا، کی لاش بھی بلا تاخیر ان کے غمزدہ خاندان کو واپس سونپے۔بیان میں حکام سے کہا گیا کہ وہ میتوں کو اپنے قبضے میں لینے کے انسانیت سوز عمل سے گریز کریں اور متاثرہ لواحقین کو اپنے طور پر آخری رسومات کی ادائیگی کاانسانی فرض ادا کرنے کا موقعہ فراہم کریں۔بیان میں کہا گیا کہ جموںوکشمیر میں پر تشدد واقعات بند کریں۔ حریت کانفرنس نے یہ بات پھر دہرائی کہ دیرینہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے کیونکہ اسی سے خطے میں امن و سلامتی کا قیام ممکن ہے۔بیان میں حریت نے سکھ مذہب کے بانی گورونانک جی کے یوم پیدائش کے موقعہ پر سکھ برادی کو مبارکباد اور تہنیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسے افسوس ہے کہ المناک ہلاکتوں اور لواحقین کو لاشیں حوالے نہ کرنے کیخلاف آج کے احتجاجی بند کی کال کو سکھ بھائیوں کے درخواست کے باوجود موخر کرنا ممکن نہیں تھا کیونکہ حکام کی سرد مہری اور آمریت کیخلاف عوام نے فطری طور پر شدید برہمی اور غم و غصہ تھا۔بیان میں کہا گیا کہ حریت کانفرنس کو اس بات کا احساس ہے کہ مقامی میڈیا اگرچہ شدید دبائو میں ہے اور حریت کے بیانات شائع کرنے سے گریز کیا جارہا ہے تاہم حریت ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے توقع رکھتی ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کی کوشش کریگی ۔
حیدرپورہ شہریوں کی ہلاکت کامعاملہ
سپریم کورٹ جج سے تحقیقات کرانی جائے:یشونت سنہا
سرینگر//سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا کی قیادت میں متفکر شہریوں کے گروپ نے حیدرپورہ میں شہری ہلاکتوں پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سچ کو بے نقاب کرنے کیلئے لازمی ہے کہ اس واقعے کی عدالت عظمیٰ کے جج سے تحقیقات کرائی جائے تاکہ لوگوں کو اعتماد بحال ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ واقعہ کے حوالے سے حکومت کی وضاحت کیچڑ جتنی صاف ہے اور اس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہورہا ہے ۔حکومت کی طرف سے واقعہ کی مجسٹریل انکوائری کرانے کا حکم وقت ضائع کرنا ہے۔ایک بیان میں اس گروپ نے کہا کہ مجسٹرئل تحقیقات کو فوری طور سپریم کورٹ کے جج کے ذریعے تحقیقات سے بدلنا چاہیے۔انہوں نے مزیدکہا کہ یہ تحقیقات تیزی کے ساتھ مکمل کی جانی چاہیے ۔اس دوران جن لوگوں نے اس واقعہ کو انجام دیا ہے کو معطل کیاجاناچاہیے۔انہوں نے ممبران پارلیمان سے بھی جموں کشمیرکا جتنی جلد ہوسکے دورہ کرنے کی اپیل کی ،تاکہ پارلیمان کے آنے والے اجلاس میں اس معاملے کو اُجاگر کیا جائے۔اس گروپ میں یشونت سنہا کے علاوہ سشوبھابھاروے،وجاہت حبیب اللہ،کپل کاک،اوربھارت بوشن شامل ہیں۔گروپ نے چیف آف ڈیفینس اسٹاف جنرل بپن راوت کے اس بیان کو بھی ردکیاجس میں انہوں نے جنگجوئوں کو مارپیٹ کرہلاک کرنے وکالت کی تھی۔
متفکرشہریوں کے گروپ کا لیفٹینٹ گورنر کو مکتوب
عدالتی تحقیقات ہی سچ سامنے لائے گی
سرینگر//جموں کشمیرکے متفکر شہریوں کے ایک گروپ نے حیدپورہ جھڑپ کی مجسٹریل تحقیقات کے بجائے عدالتی تحقیقات کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ایک غیرسرکاری سول سائٹی گروپ جس میںسابق وائس چانسلر، دانشور ،وکلاء،ماہرین تعلیم، سائنسدان، سماجی کارکن،سابق منصف وسرکاری حکام شامل ہیں ،نے لیفٹینٹ گورنر کے ایک مکتوب روانہ کیا ہے جس میں حید پورہ جھڑپ کی عدالتی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔منوج سنہا کی طرف سے حیدپورہ ہلاکتوں کی مجسٹریٹ کے ذریعے تحقیقات کئے جانے کاخیرمقدم کرتے ہوئے متفکرشہریوں کے گروپ نے کہا کہ وہ ہلاکتوں میں اضافے جس میں معصوم شہری مارے جاتے ہیں،پر تشویش میں مبتلاء ہے ۔مکتوب میں متفکر شہریوں نے گروپ نے کہا کہ اس واقعہ کی ہائی کورٹ کے جج سے تحقیقات کرائی جائے اور اس سے کم کوئی تحقیقات سچ کو سامنے نہیں لاسکتی۔متفکر شہریوں کے گروپ کا ایک بیان میں مانناہے کہ اگر قانون کی بالادستی کو بنائے رکھنا ہے توتحقیقات عدالت کے ذریعے کرانا لازمی ہے کیوں کہ ایگزیکیٹو(بشمول پولیس)عوام کی نظروں میں ملزم ہے ۔
سچ کو سامنے لایا جائے:ستیش محلدار
سرینگر//حیدپورہ کے متاثرین کو انصاف ملنا چاہئے اورسچ کو سامنے لایا جاناچاہیے۔اس بات کااظہار نقل مکانی کرچکے پنڈتوں کی تنظیم ریکنسی لیشن ریٹرن اورریہیبلی ٹیشن آف مائیگرنٹس کے ستیش مہلدار نے ایک بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ حیدپورہ واقعہ میں مارے گئے دوشہریوں کی لاشیں ان کے لواحقین کے حوالے کرنے کافیصلہ اس حقیقت کاعتراف ہے کہ عوامی طاقت ہی بلندتر ہے۔جس طریقے سے سیاسی رہنمائوں،سول سوسائٹی،اوردیگرلیڈروں نے متاثرہ کنبوں کے ساتھ یکجہتی کااظہار کیا،سے ظاہر ہے کہ کسی بھی کاز کیلئے اتحاد لازمی ہے۔حکومت کے فیصلے سے بھی ظاہر ہے کہ موجودہ حکومت عوامی مشکلات سے بے حس نہیں ہے۔ستیش محلدار نے امیدظاہر کی کہ لیفٹینٹ گورنر نے جس طرح مجسٹریل تحقیقات کاحکم دیاہے ،اُسے غیرجانبداری اور منصفانہ طور انجام دیاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کی فراہمی اورسچ کو سامنے لانے کاعزم دائو پرلگاہے۔حکومتی اداروں کو کافی سوالات کاجواب دینا ہے۔ظاہر طورحیدرپورہ میں کیا ہوا،وہ ایک سیکورٹی آپریشن کا نتیجہ تھالیکن اس میں جو نقائص تھے ان کی نشاندہی ہورہی ہیں ۔محلدار نے کہا کہ کشمیروادی میں کافی خون بہہ چکاہے اورتشدد کی کسی بھی طور سے مذمت کی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں متحدہوکرواضح کردیناچاہیے کہ تشدد کوبرداشت نہیں کیاجائے گا۔
سوزکامجسٹریل تحقیقات کاخیرمقدم
الطاف اورمدثر کے خاندانوں کو انصاف فراہم کیاجائے
سرینگر//سابق مرکزی وزیرپروفیسر سیف الدین سوز نے امیدظاہرکی ہے کہ لیفٹینٹ گورنرحیدرپورہ کے دکھی اورغمزدہ خاندانوں کے انصاف فراہم کریں گے۔ایک بیان میں سوزنے کہا،’’میرا خیال ہے کہ جموںوکشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ کو زبانی ہمدردی کے بجائے حیدر پورہ کے دُکھی اور غمزدہ الطاف احمد بٹ اور ڈاکٹر مدثر گل مرحوم کے خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہو کر انصاف مہینا کرنا چاہئے۔‘‘انہوں نے کہا ،’’جموںوکشمیر پولیس نے کئی بار گذشتہ دنوں میں انصاف کا ساتھ دیا تھا، جس سے سماج میں جموںوکشمیر پولیس کی عزت بڑھ گئی تھی۔ آج پھر حیدر پورہ واقعہ پر جموںوکشمیر پولیس کو ایک موقع مل رہا ہے کہ وہ انصاف کا ساتھ دے۔آج پورے کشمیر میں لوگوں کی پکار یہی ہے کہ الطاف احمد بٹ اور ڈاکٹر مڈثرگل کو ناکردہ گناہوں کی پاداش میں قتل کیا گیا ہے۔‘‘انہوں نے مزیدکہا ک مجھے پوری امید ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا جی انصاف کی قدروں کا احترام کرتے ہوئے اس خونین معاملے کی تفتیش کر کے عوام کے سامنے صحیح حقائق لائیںگے۔دریں اثنا ء میں لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کی طرف سے صادر کئے گئے مجسٹریل انکوائری کا خیر مقدم کرتا ہوں اور اُمید کرتا ہوں کہ مرحوم الطاف احمد بٹ اور ڈاکٹر مدثر گل کے خاندانوں کے ساتھ انصاف کیا جائیگاـ۔