نئی دہلی//یواین آئی//وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو تینوں زرعی قوانین پر جاری کسانوں کی تحریک واپس لینے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے اعادہ کیا کہ ان کی حکومت غریبوں کے لئے وقف ہے اور غربت کے خاتمے کے لئے زرعی اصلاحات ضروری ہیں ۔ مودی نے راجیہ سبھا میں صدر کے خطاب کے شکریہ کے ووٹ سے متعلق تین روز تک چلنے والی چرچا پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں 12 کروڑ کسانوں کے پاس دو ایکڑ سے بھی کم اراضی ہیں اور انہیں حکومت کی جانب سے دی جاری امداد کا کوئی فائدہ نہیں مل پاتا ، سرکار کا ارادہ ان امداد کو ان کسانوں تک پہنچانا ہے ۔انہوں نے کہا کہ زرعی اصلاحات گزشتہ حکومتوں کی بھی ہمیشہ سے ترجیحات میں رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکار اپنا احتجاج واپس لے لینا چاہئے ۔ کوئی قانون حتمی نہیں ہے ۔ ان میں بہتری کی وسیع گنجائش ہے اور بعد میں بھی بہتری لائی جائے گی۔انہوں نے یقین دہانی کرائی ایک بار جب قانون نافذ ہوجائے تو ان میں جو بھی کمی ہے اسے دور کردیا جائے گا۔ خوراک کی پیداوار ملک میں اعلی سطح پر ہے ۔انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاشتکاروں کو بھی فصل انشورنس اسکیم میں شامل کیا گیا ہے اور گذشتہ سال اس اسکیم کے تحت 95000 کروڑ روپئے دیئے گئے ہیں۔ کسان سمان ندھی کے تحت 10 کروڑ کسانوں نے فائدہ اٹھایا ہے ۔مسٹر مودی نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان مواقع کی سرزمین ہے ۔ آزادی کے 75 سال کو محرک سال کے طور پر لیا جانا چاہئے اور سال 2047 کو آزادی کے موقع کے خواب کو پورا کرنا چاہئے ۔ مودی نے حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اسکیمیں معاشرے کے آخری فرد کے لئے ہیں۔ انہوں نے جن دھن اکاؤنٹس ، ڈجیٹل ٹرانزیکشنز ، اُجولا ، پردھان منتری آواس اور بیت الخلا کی تعمیر جیسے بڑے پروگراموں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت دور دراز علاقوں میں بھی لوگوں کو فائدہ پہنچا ر ہے ہیں ۔کورونا دور میں جہاں پوری دنیا میں معاشی سرگرمیاں ٹھہر گئیں ہیں ، ہندوستان کو براہ راست سب سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری ملی ہے ۔