مدثر شمیم راتھر
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے دنیا میں بہت سے انبیائے کرام اور مرسلین علیہم السلام کو بھیجا۔ انہیں پرودگار عالم نے کمالات اور معجزات عطا فرمائے۔ کسی نبی کو حُسن و جمال دیا تو کسی نبی کو جاہ و جلال ، کسی کو سلطنت اور ملک ومال بخشا ، تو کسی کو علم و حکمت کا کمال عطا فرمایا اور کسی کو رفعت و عظمت کی دولت لازوال سے مالا مال کر دیا ۔ لیکن نبی آخرالزمان ؐ کو جب اس خاک دان عالم میں بھیجا تو ایسی انوکھی شان اور نرالی آن بان کے ساتھ بھیجا کہ تمام انبیاء و مرسلینؐ کے کمالات و معجزات ایک ذات میں جمع فرمائیے۔ حضرت محمد ؐ کو ایسے بے شمار فضائل و محاسن عطا فرمائے کہ جن کی عظمت و رفعت تک کسی کا وہم و گمان بھی نہیں پہنچ سکتا ۔ حُسن و جمال ، جاہ و جلال ، ملک و مال غرض ہر ایک کمال انکو بخش دیا ۔ پھر لطف یہ کہ ہر کمال میں انہیں بے مثال بنا کر بھیجا ۔ وہ سیدالمرسلین بھی ہے اور رحمتہ للعالمین بھی ، وہ مدثر بھی ، وہ مذمل بھی، وہ طٰہٰ و یٰسین بھی ، وہ بشیر بھی ، وہ نذیر بھی ، وہ سراج منیر بھی، میرا غمخوار محبوب حُسن و جمال کے مالک اور نوعِ انسانی کے سردار ۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ ربیع الاول۵۷۰ ھ میں عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں اُس وقت پیدا ہوئے ۔ جب کفروشرک کے اندھیروں، جہالتوں، پسماندگیوں، جنگوں، جھگڑوں، دختر کشیوں، نشہ بازیوں، فریب کاریوں اور گناہوں کے عروج کا تھا۔ اللہ نے آپ ؐ کو منصبِ نبوت پر سرفراز کیاتاکہ لوگوں کو پیغام حق سنا کربدلنے کی راہ بتائیں، سنورنے کا قرینہ سکھائیں، جینے کا سلیقہ دکھائیں، زندگی کا مفہوم سمجھائیں، اللہ کی توحید، رسالت کی مقصدیت اور آخرت کی پکڑ سے خبردار کریں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کشمکش کے میدان میں جہد مسلسل سے بالآخر سماج کی بُرائی کو اچھائی میں ، اندھرے کو اُجالے میں ، جہالت کو علم میں ، جنگ کو امن میں ، بُت پرستی کو خدا پرستی میں ، تشدد کو عدم تشدد میں اور نافرمانی کو خدا کی فرمانبرداری میں تبدیل کر دکھایا ۔
حضرت محمدؐ کی زندگی ساری انسانیت کیلئے ایک مکمل نمونہ اور مشعلِ راہ ہے ، کیونکہ آپ ؐ سردارالانبیاء، بہترین جنرل ، رحمتہ اللعالمین، بلند اخلاق، مبلغ، بے مثال فلسفی ، بہادر سپاہی، بے نظیر لیڈر ، شیرین کلام، رہبر اور باغیرت کمانڈر تھے۔ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہترین حکمران ، قائد اعظم اور کامیاب مصلح بھی تھے ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ آپؐ یتیموں کے والی ، غلاموں کے مولیٰ، عورتوں کے پاسباں، بچوں کے رکھوالے، سنجیدہ عادل، لاثانی مفکر، بہترین باپ اور بے نظیر شوہر تھے۔ غرض انسانی زندگی کے ان تمام شعبوں اور پہلوئوں میں حضرت محمد ؐ کا کردار اعلیٰ اور ارفع ہے ۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے جو انبیاء ؑ آئے ،وہ خاص قوموں کیلئے بھیجے گئے لیکن آقائے نامدارؐ کو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کیلئے ہی نہیں تمام کائنات کے لیے بھیجا ۔ حضورؐ سے پہلے جو انبیاء آئے، اُن کی نبوت کچھ عرصہ کے لیے رہی ۔لیکن آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت تاقیامت رہے گی ۔ رب العالمین اللہ تعالیٰ کی وصف ہے جبکہ رحمتہ للعالمین حضور ؐ کی وصف ہے ۔ اسے ظاہر ہوتا ہے کی اللہ تعالیٰ کو حضورؐ سے کتنی محبت ہے ۔ رسول رحمتؐ انسان کے ساتھ ساتھ حیوانوں پر بھی رحم کرتے تھے۔ اونٹنی نے جب اپنے مالک کے ستم بیان کئے تو حضورؐ نے اُسے مالک سے آزاد کر دیا۔ جنگل کی ہرنی کو جب شکاری نے قید کر دیا تو حضورؐ اس کے لیے ضامن بن گئے اور ہرنی نے بچوں کو دودھ پلایا۔ چاند کو اشارہ کر کے اس کے دو ٹکڑے کردئے۔ یہ ہے عظمت کے اشارے ہمارے آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے۔ بوڑھی عورت کے آٹے کے بستہ کو اپنے دوشِ مبارک پر اُٹھا کر کائنات کے سردارؐ نے اپنی رحم دلی کا ثبوت دیا۔ جس عورت نے حضورؐ کے پیارے چچا حضرت امیر حمزہ کا جگر چبایا، اُس عورت کو معاف کر دیا۔ جن مکہ والوںنے رسول رحمت ؐ کو تیرہ سال تک اذیتیں دیں ،فتحِ مکہ پر اُن کو بھی معاف کر دیا۔ یہ سب باتیں حضورؐ کی عظمت ،رحمت عالم اور محسنِ انسانیت ہونے کے ثبوت ہیں ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام دین و دنیا میںوہ غیر معمولی اور غیر متنازعہ مقام حاصل ہوا جو آج تک کسی اور پیغمبر کو حاصل نہیں ہواکیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کو معراج کے معجزے، قرآن کے تحفے اور ۹۹؍بہترین اسماء گرامی سے نوازا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ آپؐ کا نام مبارک موجود ہیں : خطیب کے خطبے میں، ادیب کے ادب میں، شاعر کے شعروں میں، مقرر کی تقریر میں، معلم کے علم میں ، مدرس کے درس میں، موذن کی اذان میں اور مورخ کی تاریخ میں ۔غرض آپ ؐ کا نام مبارک کائنات کی ہر محفل اور ہر ذکر میں عیاں اور موجود ہے ۔ اگر دیکھا جائے آپؐ کی حیثیت تاریخی طور پر اس قدر مسلّم ہے کہ آپؐ کے بارے میں جب ایک مبصر قلم اُٹھاتا ہے تو اس کو یہ الفاظ لکھنے پڑتے ہیں
Muhammad(S.A.W.)was born within the full light of history (Hitti). یعنی کہ محمدؐ تاریخ کی پوری روشنی میں پیدا ہوئے ۔ امریکہ سے ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام ہے ’’ایک سو‘‘ “The Hundred” ۔اس کتاب میں ساری انسانی تاریخ کے ایک سو شخصیات کا تذکرہ ہے ،جنہوں نے مصنف کے نزدیک تاریخ پر سب سے زیادہ اثرات ڈالے۔ کتاب کا مصنف نسلی طور پر عیسائی اور تعلیمی طور پر سائنس دان ہے ۔ مگر اپنی فہرست میں اس نے نمبر ایک پر نہ حضرت مسیح ؑ کا نام رکھا ہے اور نہ نیوٹن کا ۔ اس کے نزدیک وہ شخصیت جس کو اپنے غیر معمولی کارناموں کی وجہ سے نمبر ایک پر رکھا جائے وہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ؐ ہے ۔ مصنف کا کہنا ہے کہ آپؐ نے انسانی تاریخ پر جو اثرات ڈالے وہ کسی بھی دوسری شخصیت ، خواہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی نے نہیں ڈالے ۔
قیامت کے دن سب انبیاء نفسی نفسی فرمائیں گے لیکن ہمارے غمخوار پیغمبر ؐ اُمتی اُمتی فرمائیں گے۔ بروزِ قیامت سب سے پہلے حضور ؐ کی قبر انور کھولی جاوے گی اور سب سےپہلے حضور ؐ کو ہی سجدہ کا حکم ملے گا ۔ سب سے پہلے حضورؐہی قیامت کے دن شفاعت فرمائیں گے ۔ شفاعت کا دروازہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست اقدس سے کھلے گا اور جنت میں سب سے پہلے تشریف فرمانے والے حضورؐ ہی ہو ںگے۔ غرض ہر جگہ اولیت کا سہرا ہمارے آقائے نامدار جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہی ہے۔ خاتم النبین کا لقب ، آخری کتاب اور آخری دین حضورؐ کا ہی قیامت تک رہے گا ۔
آئیے !سیرت طیبہؐ کو گواہ کر کے اپنے ضمیر سے پوچھیں آج میں اور امت مسلمہ کہاں کھوئے ہوئے ہیں ؟
(مضمون نگار محکمہ ہارٹی کلچر سے منسلک ہیں) رابطہ۔ 9797052494
<[email protected]>