حافظ نوید الاسلام
امتوں کی حیات و بقاء کے لیے اخلاق کی اہمیت کلیدی نوع کی ہوتی ہے، اخلاق کی دولت سے محرومی زندگی کو بے روح و بے کیف بنادیتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ خداوند قدوس نےانسانیت کی رہنمائی کے لیے اپنے پیغمبروں کو مبعوث فرمایا تو انہیں خود اخلاق کا اعلیٰ مرتبہ عطاکیا اور ان کی تعلیمات میں اصلاح اخلاق کو بنیادی درجہ عطا کیا، یوں تو دنیا کے تمام مذاہب کی اساس اخلاق ہی پر ہے، تمام انبیاء و مصلحين نےاخلاق کی تعلیم دی، لیکن اسلام میں اخلاق کو بےحد اہمیت دی گئی ہے۔اسلام نے جو عبادات فرض کی ہیں ان کا بھی ایک اہم مقصد اصلاح اخلاق ہے،نمازکے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ وہ برائیوں و بے حیائیوں سے روکتی ہے ، روزہ کا مقصدتقویٰ وشکر کی کیفیت پیدا کرنا بتایا گیا ہے، زکوۃ کے ذریعہ انسانیت کی ہمدردی و مدد کا سبق دیاجاتا ہے، اس لحاظ سے ہر عبادت کا اساسی مقصد اخلاق کی پاکیزگی ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کے بعد اخلاقِ حسنہ کو سب سے زیادہ مقدم قرار دیا ہے،قرآن میں انہیں اہل ایمان کو فلاح یاب قرار دیا گیا ہے جو اپنے ایمان کے بعد اخلاق کی
اصلاح کرلیں، مثلا نماز میں خشوع ،لغویت سے اجتناب، آبرو کی حفاظت ، بے حیائی سےدوری، وعدہ ومعاہدہ کی پاس داری ، امانتوں کی ادائیگی وغیرہ کی پابندی کریں-
حسن اخلاق کی قرآن و حدیث میں بڑی اہمیت و فضیلت وارد ہوئی ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے: ’’یقینا تمہارے لئے رسول اللہؐ کی ہستی میں بہترین نمونہ ہے ‘‘۔اس آیت کی رو سے ہر صاحب ایمان کیلئے یہ بات ضروری و لازمی ہے کہ وہ رسول اللہؐ کی ہستی کو اپنے لئے ’’اسوۂ حسنہ‘‘ یعنی عمدہ نمونہ اور بہترین و قابلِ تقلید مثال تصورکرے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات اور احکام و ہدایات کی صدقِ دل سے تعمیل، نیز آپؐ کے طور طریقوں اور اخلاق و عادات کو اپنانے کی مکمل اور مخلصانہ کوشش کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق و عادات کے بارے میں ادنیٰ غور وفکر اورتدبر وتتبع کرنے والےپر یہ بات بلاشبہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ آپؐ کی ہستی اور آپؐ کی تمام زندگی ’’اخلاق حسنہ‘‘ کا ایسا بہترین نمونہ تھی کہ تمام دنیائے انسانیت اس کی مثال پیش کرنے سے قطعاً و یقیناً عاجز و قاصر ہے۔
بیماروں کی تیمارداری، ہمسایوں وقرابت داروں کے حقوق کا پاس و لحاظ، چھوٹوں پر شفقت، بڑوں کی عزت، یتیموں اور بیواؤں کی امداد، بیکسوں اور کمزوروں کی دست گیری، ہر حالت میں حق گوئی وراست بازی، عدل وانصاف کے اصولوں کی ہر قیمت پر اور بہرصورت مکمل پاسداری، بدترین دشمنوں کے ساتھ بھی عفوو درگذر اور رحمدلی ومہربانی کا سلوک۔ یہ تھا آپؐ کا شیوہ واخلاق۔اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خالقِ ارض و سماء اور رب العالمین کی طرف سے ’’رحمۃ للعالمین‘‘ کےلقب سے نوازا گیا۔چنانچہ ارشادِ باری تعالی ہے: ’’وَما اَرسلناكَ الارحـمـة لـلـعـالـميـن‘‘ ،نیز قرآن کریم میں رسول اللہؐ کے اعلیٰ اخلاق وعمدہ عادات وصفات کی تعریف اسطرح بیان کی گئی ہے: ’’واِنك لعلى خلق عظیم ‘‘ ۔ اسی طرح ارشاد ہے: ’’اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باعث آپ ان پر نرم دل ہیں، اور اگر آپ بد زبان اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے، سو آپ ان سےدر گذر کریں اور ان کیلئے استغفار کیا کریں اور کام کا مشورہ ان سے کیا کریں‘‘۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی ابتداء کے موقع پر جب غارِ حراء میں آپؐ پر پہلی وحی نازل
ہوئی اور اس موقع پر آپؐ کو من جانب اللہ تبلیغِ دین کا فریضہ سونپا گیا تو آپ ؐ یہ سوچ کر انتہائی پریشانی میں مبتلا ہو گئے کہ میں یہ بارِگراں کس طرح اٹھا سکوں گا، اور اس قدر عظیم فریضہ کو کس طرح انجام دے سکوں گا؟ اسی پریشانی اور شدتِ تفکیر کی وجہ سےآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت بھی ناساز ہوگئی، آخر اسی کیفیت میں آپؐ گھر پہنچے ، اپنی رفیقہ حیات ام المؤمنین حضرت خدیجہؓ کے سامنے تمام ماجرا بیان فرمایا اور اسی پریشانی کا اظہار کیا۔ جس پر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئےفرمایا:’’نہیں نہیں ! اللہ کی قسم ! اللہ آپ کو ہرگز اس کام میں رسوا نہیں کرے گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، مہمان نواز ہیں،محتاجوں اور غریبوں کی مدد کرتے ہیں اور راہِ حق میں لوگوں کی مدد کرنے والے ہیں۔‘‘غور طلب بات ہے کہ بعثت سے قبل ہی آپؐ کے اخلاق کی بلندی وعظمت کا یہ حال تھا تو بعثت کے بعد کیا کیفیت ہوگی؟اور پھر یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعوتِ اسلام کے بالکل ابتدائی دور سے ہی اپنے اصحاب کوبھی ہمیشہ انہی اخلاقِ عالیہ وصفاتِ حمیدہ کواپنانے کی تاکید و تلقین فرمائی۔ چنانچہ نجاشی شاہِ حبشہ نے جب دین ِ اسلام کے بارے میں استفسار کیا تو اس موقع پر وہاں موجود مسلمانوںکی جماعت میں سے حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ اس طرح گویا ہے : ’’اے بادشاہ! ہم جاہل تھے، بتوں کی پرستش کیا کرتے تھے ،مردار کھاتے تھے، ہمسایوں کو ستاتے تھے، ہم میں سےجو طاقتور تھے وہ کمزوروں کو کھا جاتے تھے، اسی دوران اللہ نے ہم میں سے ہی ایک ہستی کو نبی بنا کر بھیجا، جس کی شرافت، خاندانی نجابت، امانت و دیانت اور راست بازی سے ہم بخوبی واقف تھے،اس نے ہمیں ایک اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دی، ہم اور ہمارےباپ دادا اللہ کے سوا جن پتھروں اور بتوں کو پوجتے چلے آرہے تھے ان سے کنارہ کشی کی تاکید کی، اس نے ہمیں راست بازی، امانت و دیانت، صلہ رحمی، ہمسایوں کے ساتھ ہمدردی وحسنِ سلوک کا حکم دیا، ہرقسم کی فحاشی و بے حیائی سے دامن بچانے، جھوٹ بولنے، یتیموںکا مال دبا لینے اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے سے باز رہنے کی تلقین کی ‘‘۔یہ ہے اس اخلاقِ حسنہ کی ایک جھلک جس کی تاکید وتلقین رسول اللہؐ نے اسلام کےبالکل ابتدائی دور میں ہی فرمائی، اور پھر جس کی بدولت حق کی پکار پر لبیک کہنے والوں کی زندگیوں میں ایسا حیرت ناک انقلاب برپا ہوا کہ وہ لوگ دیکھتے ہی دیکھتے ذلت کی پستیوںسے نکل کر عزت کی بلندیوں تک جا پہنچے، جو نہ صرف یہ کہ اَن پڑھ تھے بلکہ اپنی جہالت پر انہیں فخر اور ناز تھا۔اب وہ دنیا بھر کے استاد، معلم و مربی اور تمام انسانیت کیلئے روشنی کامینار بن گئے، صدیوں سے جہالت کے اندھیروں میں بھٹکنے والے اب ایک نئے دور کےمشعل بردار بن گئے، معمولی باتوں پر باہم قتل وخونریزی جن کا معمول بلکہ پسندیدہ ترین مشغلہ تھا اب وہ ہمدردی وایثار کا نمونہ بن گئے، جن کی دشمنی ضرب المثل تھی اب ان کیاخوت و محبت دنیا بھر کیلئے مثال بن گئی، لوٹ مار جن کا شیوہ تھا اب وہ دوسروں کے ہمدرد اور غمگسار بن گئے، جن کی زندگی شراب نوشی، قمار بازی اور لہو و لعب میں بسر ہوئی تھی، اب وہ رات کی خاموشیوں میں اللہ کے سامنے سر بسجود رہنے لگے!اور پھر اس ابتدائی دور کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ حسنِ اخلاق کا سبق سکھایا اور اسی کی تاکید وتلقین فرمائی، اور ارشاد فرمایا کہ: ’’بے شک مجھے اس خاطر رسول بنا کر بھیجا گیا ہے کہ میں اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کروں‘‘۔ اخلاقِ فاضلہ وصفاتِ حمیدہ کی تاکید وتلقین کے بارے میں چند احادیثِ مبارکہ ملاحظہ ہوں:
۱۔’’اصل نیکی تو حسنِ اخلاق ہے‘‘۔۲۔’’ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جس کا اخلاق عمدہ ہو‘‘۔۳۔’’ تمام اہلِ ایمان میںسے کامل ایمان والا شخص وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہو‘‘۔
۴۔’’قیامت کے روز مؤمن کے تمام اعمال میں ’حسنِ اخلاق‘ سے بڑھ کر وزنی اورکوئی عمل نہیں ہوگا‘‘۔
حاصل کلام یہی ہے کہ ہم سب کو اخلاق سے تعلق رکھنے والے افعال کو اپنانے میں من و عن عمل پیرا ہونا چاہیے چونکہ تمام انسانی نیکیاں مثلاً عقلمندی،سخاوت،ہمدردری اور شجاعت کے بغیر انسان ایک بے جان جسم کی طرح ہے اور یہی چھوٹی چھوٹی نیکیاں انسان کو ایک دن غیر محسوس طریقے پر ہر دلعزیز بناتی ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال و اعمال ،اقوال و احادیث اور ان کی مکمل سیرت کی فرمانروائی اور اسلام میں حسنِ اخلاق کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوے ہم پر واجب اور لازم ہے کہ ہم اپنے ایمان کو تقویت بخشے اور اللہ کے محبوب بندوں میں شامل ہوجائے ۔
(رابطہ۔7006753616 ،متعلم ۔شعبہ اردو، کشمیر یونیورسٹی )
���������������������������������