کرناٹک کی بی جے پی حکومت نے مسلم طالبات کے حجاب کے مسئلہ پر ریاست میں جو ہنگامے برپا کر رکھے ہیں اس سے نہ صرف پورا ملک ایک ہیجانی کیفیت کا شکار ہو گیا بلکہ عالمی سطح پر بھی اس پر احتجاج اور شدید روعمل سامنے آ رہا ہے۔ بیرونی ممالک اس تنازعہ کو کس پہلو سے دیکھ رہے ہیں، اس سے ہمیں غرض نہیں ہے۔ لیکن دنیا کے بدلتے منظر نامہ میں کسی ملک میں ہونے والے کسی بھی قسم کے واقعات کی پردہ پوشی اب ممکن نہیں رہی۔ دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے ۔ اس لئے دنیا کے کسی حصہ میں ہونے والی تبدیلیوں پر تبصرہ کرنے کا حق ہر ملک کے باشندے استعمال کر رہے ہیں۔ اسے کوئی حکومت اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت تصور کرتی ہے اور کوئی حکومت اپنی بگڑتی ہوئی شبیہ کو بہتر بنانے کے لئے سنجیدہ اقدامات کرتی ہے۔ اس وقت حجاب کے مسئلہ پر فرقہ پرست طاقتوں نے جو کہرام مچا رکھا ہے، اس سے دنیا کو یہی پیغام جا رہا ہے کہ ہندوستان میں اب عدم برداشت کا ماحول اپنی جڑیں مضبوط کررہا ہے۔ کچھ ایسی طاقتیں ہندوستانی سماج میں اُبھر رہی ہیں جو اپنی تنگ ذہنیت کا بدترین مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کی صدیوں قدیم روایتوں کو ختم کرکے اپنی مرضی ملک کے سارے طبقوں پر طاقت کے بَل پر مسلّط کرنا چاہتی ہیں۔ یہ صورت حال جمہوریت کی برقراری کے لئے صحت مند نہیں ہے۔ عدم تحمل کی یہ سوچ ملک کے سیکولرازم کے مستقبل کے لئے اچھی علامت نہیں ہے۔ حجاب کی مخالفت کرنے والے عناصر جو ناشا ئستہ اور غیر مہذب لب و لہجہ استعمال کرتے ہوئے جو غلط حرکتیں مسلم طالبات اور مسلم ٹیچرس کے ساتھ ساکررہے ہیں ،اس کی مہذب اور شائستہ معاشرہ میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ مسئلہ مسلم لڑکیوں کے حجاب کا ہے لیکن دنیا دیکھ رہی ہے کہ اسکول میں پڑھانے والی مسلم ٹیچرس کو اپنا برقعہ سَر بازار اُتارنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ یہ جمہوری ملک میں کھلی غنڈہ گردی ہے۔ یہ حق ان کو کس نے دیا کہ وہ مسلم ٹیچرس کے ساتھ اس قسم کی بدتمیزی کریں۔ کرناٹک کی حکومت ان شرپسندوں کے خلاف کیوں کوئی قانونی کاروائی نہیں کرتی، جنہوں نے مقدّس پیشہ سے وابستہ مسلم خواتین کی اس انداز میں کھلے عام توہین کر تے ہوئے بھی کوئی شرم محسوس نہیں کی۔ اُستاد کو ایک اعلیٰ مقام ہوتا ہے۔ اس کا تعلق کسی بھی مذہب و ذات سے ہو وہ بہرحال استاد ہے ، اس کی عزت کرناہر شریف انسان کا فرض ہے۔ لیکن کرناٹک میں مسلم طالبات کے ساتھ مسلم ٹیچرس کو بھی نہ صرف ہراساں کیا جارہا ہے بلکہ انہیں ذہنی تکلیف دینے کی گٹھیا حرکتیں بھی ہورہی ہیں۔ طرفہ تماشا یہ کہ ملک کا گودی میڈیا یہ سوال کرنے کی کرناٹک حکومت سے ہمت نہیں کررہا ہے، آخر کن بنیادوں پر مسلم طالبات کے ساتھ اورمسلم ٹیچرس کے ساتھ حکومت یہ معاندانہ رویہ اختیار کی ہوئی ہے۔ قطع نظر اس کے کہ اس سارے ہنگامے کی سرپرست یا حمایتی پارٹیاں آئندہ کچھ سیاسی فائدہ اٹھاسکتی ہیں لیکن جس منافرانہ ذہنیت کا پرچار کرکے یہ طاقتیں ملک کے سیکولر تانے بانے کو توڑنے کی کوشش کررہی ہیں، اس کے بڑے خطرناک نتائج آنے والے دنوں میںسامنے آ سکتے ہیں۔ کرناٹک ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان میں صدیوں سے پردے کا رواج ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں صرف مسلمان ہی برقعہ کا اہتمام نہیں کرتے بلکہ غیرمسلم خواتین بھی پردے میں رہنا پسند کرتی ہیں۔ سیتا اور ساوتری کے تقدّس کی دُہائی دینے والے جوساری تاریخی حقیقتوں اور تہذیبی روایتوں کوجاننے کا دعویٰ کرتے ہیں کیوں ملک میں حجاب کا مسئلہ کھڑا کر رہے ہیں؟
کرناٹک کی برسرِ اقتدار حکومت کو آخر یہ ’’دورہ ‘‘اچانک کیوں پڑا کہ وہ مسلم لڑکیوں کے حجاب کے پیچھے ایسے پڑگئی کہ اگر مسلم طالبات با حجاب اسکول اور کالج آئیں گی تووہاں کی موجودہ کی حکومت کسی بڑی آزمائش میں پڑجائے گی اور اُس کے ہاتھوں سے اقتدار نکل جائے گا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جب تک مسلم طالبات حجاب پہن کر تعلیم حاصل کر رہی تھیں کرناٹک میں اطمینان اور سکون تھا اور جب سے وہاں کی حکومت نے مسلم طالبات کے ساتھ حجاب کے معاملے میں ان سے امتیازی سلوک روا رکھتے ہوئے ان کے لئے تعلیم کے دروازے بند کردئے، ریاست میں حالات دِگرگوں ہوتے جا رہے ہیں اور عین ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میںایسی صورت حال حکومت کے لئے مشکلات بڑھاتےجائیں گے اور بومئی کو بھی سابق چیف منسٹر یدی یورپّا کی طرح اپنے اقتدار کے دن پورے کئے بغیر چیف منسٹری کی گدّی چھوڑنا پڑے گی۔ ایک طبقہ کو نفسیاتی طور پر پریشان کرکے اس کو دستوری حقوق سے محروم کرنے کی منظم کوشش ،کہیں ایسی ڈرامائی شکل اختیار نہ کرجائے کہ جس کا خمیازہ کرناٹک کے چیف منسٹر کو یقینی طور پر بھگتنا پڑے،اور ساتھ ہی ساتھ ریاست کے عوام اُسے اس کی سزا اسمبلی الیکشن میں دے دیں۔ کرناٹک، جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک مثالی ریاست تھی اور انفارمیشن ٹکنالوجی میں ملک کی کوئی دوسری ریاست اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی لیکن آج زعفرانی سیاست کے بھگتوں نے اُ سے اس قدر پراگندہ کر دیا کہ کوئی ملٹی نیشنل کمپنی اب بنگلورو کا رُخ کرنے تیار نہیں ہے۔ مسلمانوں کی اندھی دشمنی میں موجودہ سرکارنے ایک ترقی کی طرف رواں دواں ریاست کو ہر حیثیت سے کنگال کر دیا۔ درونِ خانہ سر پھٹول پر جو پارٹی قابو نہیں پا سکی وہ ریاست کی عوام کو کیا راحت دے سکتی ہے۔ کیاکرناٹک کو گجرات ماڈل میں تبدیل کرنے کے لئے یہ ساری اوچھی حرکتیں کی جا رہی ہیں۔ اس سے پہلے لوجہاد کے مسئلہ کو ہَوا دے کر مسلم نوجوانوں کو بیجا مقدمات میں پھنسایا گیا۔ پھرجبری تبدیلی مذہب کے نام پر من مانی قوانین بنانے کی کوشش کی گئی اور اب مسلم طالبات کو تعلیم کے میدان میں آ گے آنے سے روکنے کے لئے خوامخواہ حجاب کو ایک متنازعہ موضوع بناکر پیش کیا جارہاہے۔ اس کے لئے عدالت کو بھی گمراہ کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ عین تعلیمی سال کے دوران کیا کسی ضابطہ ٔاخلاق کو نافذ کیا جاسکتا ہے۔ اسکول یونیفارم کوئی قانون نہیں ہے، کسی اسکول کا ایک ضابطہِ اخلاق ہو سکتاہے۔ اس کے لئے مناسب طریقۂ کار یہ ہے کہ طلباء کے داخلہ لینے سے پہلے اسکول کے سارے اصول واضح کر دئے جائیں۔ اگر سرپرستوں یا اولیائے طلباء اسکول کے ضابطہ سے اتفاق رکھتے ہیں تو اُ س مخصوص اسکول میں اپنے بچوں کو داخلہ دلائیں گے، اور اگر اس پر ان کا اتفاق نہ ہو تو اسکول انتظامیہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایسے طلباء یا طالبات کو اپنے اسکول میں داخلہ نہ دیں۔ لیکن اس وقت جو صورتِ حال سامنے آ رہی ہے، وہ یہ کہ ان اسکولوں اور کالجوں میں مسلم طالبات شروع سے حجاب کے ساتھ تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ ان کے حجاب پہن کر آنے پر برسوں سے اب تک کوئی اعتراض نہیں ہوا۔ اب اچانک ان سے کہا جارہا ہے کہ وہ اسکول یا کالج کو بغیر حجاب کے آئیں ورنہ انہیں اپنی تعلیم ترک کرنی پڑے گی۔ ریاست کے بیشتر تعلیمی اداروں میں باحجاب لڑکیوں کو آنے سے عدالتی کاروائی کا بہانہ بناکر روک دیا جا رہا ہے۔ کئی طالبات حجاب کے ساتھ امتحان دیناچاہتی تھیں لیکن یہ ممکن نہ ہوسکا، اس طرح یہ طالبات امتحان میں شریک نہیں ہوسکیں اور اب ان کا تعلیمی سال بھی ضائع ہونے کے آثار پیدا ہوگئے۔ نوجوان نسل سے اس قدر دشمنی شاید ہمارے ملک کے علاوہ کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملے گی۔ اس پر ناز ہے کہ ہندوستان میں مذہبی رواداری کا بڑا خیال رکھا جاتا ہے۔
جس عظیم جمہوری ملک کے وزیراعظم ’’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘‘کا نعرہ قوم کو دیتے ہیں اور جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمیں بیٹی کی پیدائش پر جشن منانا چاہیے اور اپنی بیٹیوں پر فخر کرنا چاہیے ،آج اُ سی ہندوستان کی بیٹی کے لئے تعلیم کے دروازے بند کئے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نریندرمودی نے 22؍ جنوری 2015کو ہریانہ میں پانی پت کے ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے لڑکیوں کی فلاح و بہبود کے لئے ایک انوکھی اسکیم ’’ بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘‘(BBBP)شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے ملک کی عوام سے یہ اپیل بھی کی تھی کہ ہر شخص اپنی بیٹی کی پیدائش کی خوشی میں پانچ پودے لگائے۔ وزیراعظم کے الفاظ اس طرح کے تھے "I urge you to sow five plants when your daughter is born to celebrate the occasion" وزیراعظم نے بارہا یہ دعویٰ بھی کیا کہ ہمارا نعرہ یہ ہونا چاہئے کہ ’’بیٹی، بیٹا ایک سمّان ‘‘یعنی بیٹی ، بیٹا دونوں یکساں احترام کے مستحق ہیں۔ اگر یہی حقیقت ہے تو پھر کرناٹک میں مسلم لڑکیوں کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے کیا اس کا علم وزیراعظم کو نہیں ہے؟ یہ لڑکیاں ملک کے دستور سے ہٹ کر کوئی چیز کا مطالبہ نہیں کررہی ہیں۔ دستورِ ہند نے اپنے شہریوں کو بنیادی حقوق کے ذریعہ جس مذہبی آزادی کو تسلیم کیا ہے اور جس کی دستور نے ضمانت دی ہے ، کرناٹک کی مسلم طالبات اپنے اسی حق کو استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ دستور کی دفعہ 25واضح کرتی ہے کہ ملک کے ہر شہری کو کسی مذہب کو اختیار کرنے، اس کی پیروی کرنے اور اس کی پُرامن تبلیغ کرنے کی مکمل آزادی ہوگی۔ حجاب کا استعمال کرنا مذہب کی پیروی میں شامل ہے۔ کوئی حکومت یا اس کی کوئی ایجنسی کسی بھی شہری کو اس کے مذہب پر عمل کرنے سے روک نہیں سکتی۔ دستور کی اس یقین دہانی کے باوجود کرناٹک کا محکمہ تعلیم حجاب پر پابندی کا کوئی سرکیولر ، تعلیمی سال کے دوران جاری کرتا ہے تو یہ دستور کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متاثرہ طالبات عدالت سے رجوع ہوئیں ہیں۔ یقین ہے کہ عدالتِ عالیہ تمام دستوری پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے شہریوں کو دی گئی مذہبی آزادی کا تحفظ کرے گی۔ معاملہ اس وقت ہائی کورٹ تک جا چکا ہے اور سماعت ابھی جاری ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ اونٹ کِس کروٹ بیٹھے گا۔ انصاف کا تقاضا تھا کہ کرناٹک ہائی کورٹ کی ایک رکنی بنچ ابتدائی مرحلہ میں ہی اس کی سماعت کرکے مسلم لڑکیوں کو حصولِ تعلیم کے لئے پیش آرہی رکاوٹوں کو ختم کردیتی اور حکومت کے سرکیولر کو کالعدم قرار دے دیتی۔ لیکن مسئلہ کو طول دیتے ہوئے اُ سے تین رکنی بنچ سے رجوع کر دیا گیا۔ اس بنچ کے معزز جج صاحبان نے بھی طالبات کو کوئی قانونی تا حال راحت نہیں دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ طالبات کو حجاب کے ساتھ اسکول اور کالج کے احاطہ میں ہی نہیں آنے دیا جا رہا ہے۔ ساتھ میں مسلم ٹیچرس کے ساتھ بھی انتہائی توہین آمیز سلوک کیا جا رہا ہے۔ سڑکوں پر ان کو برقعے اُتارنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ آثار بتا رہے ہیں معاملہ ہائی کورٹ سے نکل کر سپریم کورٹ تک جائے گا۔ وہاں برسوں مقدمہ کی سماعت ہوگی۔ اس دوران طالبات کا جو تعلیمی نقصان ہوگا، اس کے کون ذ مہ دار ہوں گے یہ بھی بتادیا جائے تو بہتر ہے۔ حجاب یا برقعہ مسئلہ نہیں ہے اصل بے چینی فرقہ پرستوں کی یہ ہے کہ کس طرح ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کیا جائے۔ اسکول کے یونیفارم کے نام پر ملک میں یونیفارم سول کوڈ کی تیاری کی جارہی ہے۔ اس لئے مسلمان یہ نہ سمجھ جائیں کہ مسئلہ صرف مسلم طالبات تک محدود ہے بلکہ آپ کے تشخّص اور شناخت کو ختم کرنے کے لئے یہ سارے مسائل چھیڑے جا رہے ہیں۔ مسلمانوں کو ڈرا دھمکا کر ان کے جائز حقوق کو چھیننے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔ اس لئے مسلمان سارے واقعات کی کڑیوں کو جوڑ کر اپنا ایجنڈبنائیں تا کہ وہ اس معاملےمیں اُن کو موثر جواب دیں سکیں۔
(رابطہ۔91+9885210770)