مستقل طور پر عام زمرے کیلئے37اور مخصوص زمروں کیلئے عمر کی حتمی حد40سال مقرر کرنے کی مانگ
یٰسین جنجوعہ
جموں //جموں و کشمیر میں اعلیٰ سرکاری خدمات میں شمولیت کا خواب دیکھنے والے ہزاروں نوجوان اس وقت سخت ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔امیدواروں کا کہنا ہے کہ موجودہ عمر حد، جس کے مطابق عام زمرے (General Category) کے امیدواروں کے لئے زیادہ سے زیادہ عمر 35 سال، ریزروڈ زمرے اور اِن سروس امیدواروں کے لئے 37 سال جبکہ جسمانی طور پر معذور امیدواروں کیلئے 38 سال مقرر ہے، ہزاروں نوجوانوں کے لئے رکاوٹ بن چکی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ عام زمرے کی عمر حد کم از کم 37 سال اور ریزروڈ اور دیگر زمروں کے لئے 40 سال تک بڑھائی جائے، تاکہ وہ بھی اپنے تعلیمی سفر اور محنت کے مطابق اس امتحان میں شامل ہوسکیں۔امیدواروں نے بتایا کہ گزشتہ کئی برسوں کی سیاسی و انتظامی تبدیلیوں کے سبب متعدد بار امتحانات کے انعقاد میں تاخیر ہوئی، جس کی وجہ سے عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کے مواقع بھی محدود ہوتے گئے۔ انہوں نے کہاکہ ’ہم میں سے کئی ایسے افراد ہیں جنہوں نے اپنی تعلیمی ذمہ داریوں کے ساتھ گھر کی معاشی ضروریات کو بھی پورا کیا۔کچھ نے نوکریاں کیں، کچھ نے چھوٹے موٹے کاروبار چلائے، لیکن عمر حد کم ہونے کی وجہ سے آج ہم امتحان دینے کے قابل ہی نہیں رہے‘۔متعدد امیدواروں نے اس بات پر بھی توجہ دلائی کہ جموں وکشمیر کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان اکثر اعلیٰ معیار کی کوچنگ اور تیاری کے لئے دستیاب وسائل تک رسائی نہیں رکھتے۔ مالی کمزوری، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور معلومات کی کمی ان کے تعلیمی سفر کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’جو بچے امیر خاندانوں سے آتے ہیں، وہ بہترین کوچنگ سینٹرز اور اسٹڈی میٹریل حاصل کر لیتے ہیں لیکن جو غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے لئے یہ سب کچھ بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ان کے خواب وقت سے پہلے ہی بجھ جاتے ہیں‘‘۔کئی امیدواروں نے یہ بھی کہا کہ ملک کی دیگر ریاستیں اور مرکزی خدمات میں عمر حد کافی زیادہ ہے، جس کی وجہ سے ریاست جموں و کشمیر کے نوجوان خود کو مقابلہ جاتی میدان میں کمزور اور غیر برابر محسوس کرتے ہیں جبکہ کچھ ریاستیں اپنی اوپری عمر حد کو 37 سے 40 سال تک رکھتی ہیں، تو جموں و کشمیر میں عمر حد اتنی کم کیوں؟ یہ ہمارے ساتھ ناانصافی ہے‘‘۔کورونا وبا کے دو سال نے بھی امیدواروں کی تیاری اور مواقع پر بْرا اثر ڈالا۔ لاک ڈاؤن، اقتصادی دباؤ اور آن لائن تعلیم کے فقدان نے پہلے سے موجود مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا۔ کئی طلبہ نے کہا کہ اْن سالوں کی تعلیمی تاخیر کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کو چاہیے کہ عمر حد میں مناسب اضافہ کرے اور اْن نوجوانوں کو ایک آخری موقع فراہم کرے جنہوں نے برسوں تک تیاری کی لیکن وقت اور حالات نے انہیں پیچھے چھوڑ دیا۔امیدواروں نے حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عمر حد میں اضافہ کرنا نہ صرف ایک ہمدردانہ قدم ہوگا بلکہ ریاست کے تعلیمی اور انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے میں بھی مدد کرے گا، کیونکہ زیادہ تعداد میں قابل اور سنجیدہ نوجوان امتحان میں شریک ہو سکیں گے۔انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ، جی کے پی ایس سی (JKPSC) اور وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری پالیسی فیصلے کئے جائیں۔ امیدواروں کا کہنا ہے کہ ’’ہم ایک موقعہ نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر مذکورہ زمرے کو قائم کرنے کے خواہشمند ہیں ۔