ایجنسیز
واشنگٹن+تہران// امریکہ اور تہران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع کرنے میں ڈیڈ لاک بدستور قائم ہے اور اسلام آباد میں بات چیت جاری رکھنے کے بارے میں ابھی کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔اگرچہ مصالحت کاروں نے فائر بندی میں توسیع کرنے کی اپیل کی ہے لیکن فی الحال فریقین اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ جنگ بندی کی مدت آج یعنی بدھ کی صبح 4بجکر 50منٹ پر ختم ہورہی ہے اور پاکستان کا کہنا ہے کہ مدت ختم ہونے سے قبل ایران کی بات چیت میں شمولیت بہت اہم ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ نائب صدر جے ڈی ویز منگل کی رات اسلام آباد کیلئے روانہ ہوسکتے ہیں کیونکہ بات چیت کے بات میں کچھ اشارے مل گئے ہیں ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ جنگ بندی میں توسیع کرنے کے حامی نہیں ہیں جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ قومی مفاد کے منافی کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر کل جنگ بندی کے خاتمے تک کوئی معاہدہ نہیں ہوتا ہے تو وہ ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ کے لیے تیار ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران جلد ہی امریکہ کے ساتھ بات چیت کرے گا،جنگ بندی میں توسیع نہیں کرنا چاہتا، مذاکراتی وفد بھیجنے کے سوا ایران کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے ایران پر جنگ بندی کی بارہا خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا۔ ایرانی حکام بھی امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگا چکے ہیں۔ تاہم تہران نے اب تک اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ وہ اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے کوئی وفد بھیجے گا۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاملات کو بہت کامیابی سے سنبھال رہے ہیں، ہم مذاکرات میں مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی ناکا بندی کامیاب رہی ہے، ہمارے پاس اس معاملے پر مزید وقت نہیں ہے، امریکا ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کرنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔تاہم ساتھ ہی کہا کہ ایران کے معاملے میں جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کروں گا،جنگ بندی میں مزید توسیع نہیں چاہتا، ایران کا معاملہ بڑی ڈیل کے ساتھ ختم ہو جائے گا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران معاہدہ کر لے تو وہ بہت مضبوط پوزیشن میں آ سکتا ہے، ہم نے ایران کی بحریہ، فضائیہ اور ان کی قیادت کو ختم کر دیا ہے۔ادھرایران پر امریکہ اسرائیل جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں غیر یقینی ہیں۔
تہران کا کہنا ہے کہ وہ “خطرات کے سائے” میں یا امریکی بحری ناکہ بندی کے تحت مذاکرات نہیں کرے گا۔ترجمان نے کہا کہ ایران کی مذاکراتی ٹیم قومی مفاد پر سمجھوتہ نہیں کرے گی، ممکنہ مذاکرات کے دوران تہران نے اپنی انگلی ٹریگر پر رکھی ہوئی ہے اور دفاعی فورسز مکمل تیاری کی حالت میں ہیں۔تاہم ترجمان نے تصدیق کی اور نہ ہی تردید کی کہ آیا ایران اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے اگلے دور میں شرکت کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے دو حکمتِ عملیاں ہیں۔ پہلی جنگ کی حکمتِ عملی اور دوسری سفارت کاری کی حکمتِ عملی۔ادھر بات چیت دوبارہ شروع کرنے کیلئے چین اور روس بھی کود پڑے ہیں اور دونوں ملکوں نے فائر بندی میں توسیع اور مذاکرات شروع کرنے پر زور دیا ہے۔