اشفاق سعید
کیرن //کیرن میں ایک بار پھر ایک ایسا دلخراش منظر دیکھنے کو ملا جس نے دہائیوں پرانے زخموں کو تازہ کر دیا۔ نائب تحصیلدار کنگن لیاقت خان کے انتقال کی خبر جیسے ہی لائن آف کنٹرول کے اُس پار موجود ان کے بہن بھائیوں تک پہنچی، تو وہ سینکڑوں کی تعداد میں انکے عزیز و اقارب دریائے کشن گنگا کے کنارے جمع ہو گئے۔لیاقت خان علاقے کی معروف سماجی شخصیت بھی مانی جاتی تھی۔ایک کنارے پر جنازہ رکھا گیا، تودوسرے کنارے پربچھڑے ہوئے خاندان جمع ہوگئے ۔ درمیان میں ایک ایسی سرحد تھی جس نے سب کو بے بس کر دیا۔ایک کنارے پر جنازہ پڑھایا جارہا تھا تو دوسری طرف میت کیلئے دعائیں دی جارہی تھیں۔لائن آف کنٹرول کے اُس پار رشتہ دار اپنے پیارے بھائی کو سپردِ خاک ہوتے دیکھ تو رہے تھے، لیکن آخری رسومات میں شریک نہیں ہو سکے۔ وہ ہاتھ ہلا ہلا کراپنے غم کا اظہار کررہے تھے۔یہ لمحہ اس قدر درد ناک تھا کہ ہر آنکھ اشکبار تھی۔یہ درد صرف ایک لمحے کا نہیں تھا بلکہ 90 کی دہائی سے جاری ایک کربناک داستان کا حصہ ہے۔
ہجرت
1990 کی دہائی کے اوائل میں کیرن بالا، کیرن پائین، بوگنہ،بچھوال،کھوڑیاں، اوربور نامی دیہات کی50فیصد آبادی ہجرت کر کے ایل او سی پار چلی گئی۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق بوگنہ،بچھوال،کھوڑیاں، اوربور نامی4 دیہات مکمل طور پر خالی ہوگئے۔ جبکہ کیرن سیکٹر میں مجموعی طور پر300 کنبوں پر مشتمل لگ بھگ 2400 افرادسرحد پار چلے گئے۔ انہی کنبوں میں معروف سماجی ورکر ہزارہ خان کا خاندان بھی شامل تھا۔نائب تحصیلدار لیاقت خان( جو فوت ہوئے) کی والدہ ،والد ہزارہ خان، اور 5بھائی نثار خان،شفقت خان،وسیم خان اور شمیم خان، بشارت خان کے علاوہ 2بہنیںشگفتہ اختر اور نصرت اختر کے علاوہ 7چاچے اور چاچیاں، چیچیرے بھائی بہن، دو ماموںانکے خاندان ایک ہی روز کیرن سے اُ س پار چلے گئے۔اس خاندان کے صرف دو کنبے لیاقت خان اور اسکا ایک چاچاشرافت علی خان یہاں رہے۔ لیاقت کا صرف یہی ایک قریبی رشتہ یہاں موجود تھا۔
جنازے کا منظر
6 سال قبل ہزارہ خان فوت ہوئے لیکن انکی اہلیہ، جو لیاقت خان کی ماں بھی ہے، ابھی زندہ ہے اور سرحد کے اُس پار اپنے 5 بیٹوں کیساتھ رہ رہی ہے۔ پرسوں لیاقت خان نے صورہ ہسپتال میں دن توڑ دیا اور انکی میت کیرن میں اپنے آبائی گھر لائی گئی۔انکے رشتہ داروں نے سوشل میڈیا پر انکی موت کی خبر کے بارے میں اطلاع دی اور اتوار کو سہ پہر پونے6بجے انکی کی میت کشن گنگا کے کنارے لائی گئی، جیسا کہ اسکے بھائی بہنوں نے منشا ظاہر کی تھی کہ وہ دور سے میت کو دیکھنا چاہتے ہیں۔جنازہ ایک جلوس کی صورت میں کیرن میں کشن گنگا کے اس نزدیکی پوائنٹ تک لائی گئی جہاں سے ایل او سی کے اس پار قدرے نزدیک سے دیکھا جاسکتا ہے اور اگر پانی کا شور نہ ہو تو آواز بھی سن سکتے ہیں۔جونہی میت کو کشن گنگا کے کنارے پر رکھا گیا تو یہاں بھی درد و کرب کی صورتحال تھی اور وہاں بھی دور دور آوازیں دی جارہی تھیں۔میت کا جنازہ پڑھایا گیا اور اُس پار تب تک دعائیں دی جارہی تھیں۔اسکے بعد میت کو واپس آبائی گھر لایا گیا اور جب تک میت سرحد پار جمع رشتہ داروں کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوئی جب تک وہ کشن گنگا کے کنارے موجود تھے۔لائن آف کنٹرول پر اس طرح کا یہ کپوارہ سیکٹر میں پہلا موقعہ ہے کہ کسی شخص کی میت کو کشن گنگا کے کنارے رکھا گیا جہاں اسکا جنازہ پڑھایا گیا ہو اور اسکے سبھی قریبی رشتہ دار دوسری طرف سوگوار بیٹھے ہوں۔اس سے کئی سال قبل سلی کوٹ اوڑی میں ایک شخص کی موت واقع ہوئی تھی اور اسکا جنازہ سرحد کے اس طرف رکھا گیا تاکہ یہاں موجود اسکے رشتہ دار کم سے کم میت دیکھ سکے۔ لیاقت خان کے انتقال نے ایک بار پھر اس جدائی کو شدت سے محسوس کروا دیا، جب ان کے اپنے، چند قدم کے فاصلے پر ہوتے ہوئے بھی ان کا آخری بار چہرہ نہ دیکھ سکے۔دریائے کشن گنگا کے کنارے آباد کیرن آج بظاہر پرامن ہے۔ توپوں اور گولیوں کی گن گرج بند ہو چکی ہے، کھیتوں میں ہریالی لوٹ آئی ہے اور سیاحوں کی آمد نے زندگی میں نئی رونق پیدا کی ہے۔ لیکن اس خاموشی کے پیچھے ایک ایسا دکھ ہے جو وقت کے ساتھ بھی کم نہیں ہواہے ۔1990 میں ہونے والی ہجرت نے نہ صرف خاندانوں کو تقسیم کیا بلکہ کئی بستیاں بھی ویران کر دیں، ایک خاموش نوحے کی طرح۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالات بہتر ہو چکے ہیں، مگر سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ منقسم خاندانوں کو ایک دوسرے سے ملنے کی اجازت دی جائے۔یہ خونی لکیر ہم سے بہت کچھ چھین چکی ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ ہمیں اپنے اپنوں سے ملنے دیا جائے۔