جموں//کشمیری پنڈت ملازمین نے جموں میں ایک بار پھر احتجاج کرتے ہوئے وادی میں تعینات کشمیری پنڈتوں کی جموں منتقلی کا زور دار مطالبہ کیا ہے ۔ جموں میں درجنوں کشمیری پنڈت ملازمین نے سڑک پر دھرنا دیکر ’’ٹارگیٹ کلنگ‘‘ کے خلاف بھی نعرے بازی کی ۔تفصیلات کے مطابق وادی کشمیر میں وزیر اعظم ترقیاتی پیکیج کے تحت تعینات کشمیری پنڈت ملازمین کی جموں ٹرانسفر کے مطالبے کو لیکر آج جموں میں کشمیری پنڈتوں کی بڑی تعداد نے دھرنا دیکر شدید نعرے بازی کی ۔ کشمیری پنڈت ملازمین نے سرکار پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ سرکار وادی میں تعینات کشمیری پنڈتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے ۔ کشمیری پنڈتوں کا مطالبہ ہے کہ جو پنڈت سرکاری سکیم کے تحت وادی میں تعینات ہیں ان کو فوری طورپر جموں ٹرانسفر کیا جائے ۔ کشمیری پنڈت ملازمین نے اس موقعے پر ’’ٹارگیٹ کلنگ‘‘ کے خلاف بھی نعرے بازی کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکار کشمیری پنڈتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے اور اب تک متعدد کشمیری پنڈتوں کو ہلاک کیا گیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ جب تک نہ وادی کشمیر میں حالات مکمل طور پر بہتر ہوں گے کشمیری پنڈت ملازمین کو جموں میں ہی تعینات رکھا جائے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں تعینات کشمیری پنڈت ملازمین کوٹاگیٹ بناکر ہلاک کرنے کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں جس کی وجہ سے کشمیری پنڈتوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے ۔انہوں نے اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے جموں واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے ۔
ڈیموکریٹک آزاد پارٹی وفد کی احتجاج میںشرکت
جموں//کشمیری پنڈتوں کو ناکام بنانے کے لئے ریاستی انتظامیہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے ڈیموکریٹک آزاد پارٹی نے پیر کو جموں میں احتجاجی پنڈتوں میں شمولیت اختیار کی جس کی قیادت پارٹی کی سینئر قیادت بشمول جنرل سکریٹری آر ایس چب، سابق وزیر جی ایم سروڑی، ڈی اے پی سینئر لیڈر سلمان نظامی، گورو چوپڑا کارپوریٹرنے کی۔ ڈی اے پی رہنماؤں نے کہا کہ حکومت کو کشمیر میں اقلیتی برادری کی حفاظت، سلامتی اور بحالی کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوںنے کہا کہ کئی مہینے ہو گئے ہیں کہ کشمیری پنڈت جموں میں احتجاج کر رہے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ریاستی انتظامیہ بالکل بے حرکت ہے۔ آخر کب تک ریاستی انتظامیہ ان کے حقیقی مطالبات سے بے حس رہے گی۔ رہنماؤں نے مزید کہا کہ جب سے ڈی اے پی وجود میں آئی ہے، پارٹی کے بانی اور چیئرمین غلام نبی آزاد نے کشمیری پنڈتوں کو اقتدار میں آنے کی صورت میں عزت اور تحفظ کے ساتھ واپسی اور بحالی کا یقین دلایا ہے۔ڈی اے پی لیڈروں نے مطالبہ کیا کہ کشمیر میں حالات بہتر ہونے تک کشمیر پنڈت گورنمنٹ ملازمین کو واپس جموں منتقل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی اے پی ان کے ساتھ کھڑی رہے گی اور ہر پلیٹ فارم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔ افسوس کی بات ہے کہ ان کی تنخواہیں روک دی گئی ہیں۔انہوںنے ایل جی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ان کی تنخواہیں جلد از جلد جاری کی جائیں۔