جموں//جموں، سانبہ، ریاسی اور ادھم پور اضلاع میں مسلسل موسلا دھار بارش اور ژالہ باری نے تباہی مچا دی ہے جس سے دھان کی کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں جبکہ بارشوںسے سچیت گڑھ (ضلع جموں) میں اور دو ادھم پور میں چار کچے مکانات تباہ ہوگئے۔ جموں کے میدانی علاقوں میں صبح سے ہی موسلادھار بارش اور ژالہ باری دیکھنے میں آئی جس سے خطے میں درجہ حرارت گر گیا اور جموں، سانبہ اور ادھم پور اضلاع کے مختلف علاقوں میں کسانوں کو دھان کی فصلوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔جموں شہر میں مسلسل موسلا دھار بارش کے دوران نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔سانبہ ضلع کے رام گڑھ سے تعلق رکھنے والے بارڈر کسان یونین کے صدر موہن سنگھ بھٹی نے بتایا ہے کہ ژالہ باری کے بعد کسان تباہ ہو گئے ہیں کیونکہ ان کی دھان کی فصل مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔بھٹی نے کہا کہ دھان تقریبا ً تیار تھا لیکن ژالہ نے بیشتر دیہات میں فصل کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ آر ایس پورہ تحصیل (ضلع جموں) کے سچیت گڑھ میں فلورا پنچایت کے سرپنچ سرجیت چودھری نے بتایا کہ چار گاو¿ں میں 100 فیصد کھڑی دھان کی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے اور دو کچے مکانات (روشن کمار اور انیتا دیوی کے) کو بھی ژالہ باری سے نقصان پہنچا ہے۔انہوںنے کہا”میں نے اپنی زندگی میں اس قدرژالہ باری نہیں دیکھی۔ اس نے کھڑی فصل کو تباہ کر دیا ہے۔ اس لیے حکومت کو کے سی سی کے قرضے معاف کرنے چاہئیں کیونکہ وہ قسطیں ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں“۔ ادھم پور کی ڈپٹی کمشنر اندو کنول چِب نے کہا”دو کچے مکانات کو نقصان پہنچا لیکن انسانی جانوں کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ فصلوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ ہم ضلع میں ہونے والے نقصانات کے بارے میں ایک رپورٹ تیار کر رہے ہیں“۔کٹھوعہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر راہل یادو نے کہا کہ ”کسی قسم کے نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ تاہم ہم بنی اور لوہائی ملہار کے بالائی علاقوں سے رپورٹوں کا انتظار کر رہے ہیں جہاں اولے پڑ چکے ہیںجبکہ ڈپٹی کمشنر ریاسی چرندیپ سنگھ نے کہا”ہم نے نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے ایک عمل شروع کیا ہے۔ تاہم شدید بارشوں کی وجہ سے نقصانات کا اندیشہ ہے۔ کئی مقامات پر درخت گر چکے ہیں۔ درخت گرنے کی وجہ سے کچھ سڑکیں بند ہوگئیں یعنی مہور، کٹرا ریاسی۔ لیکن ان سڑکوں کو فوری طور پر گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے بحال کر دیا گیا“۔ڈپٹی کمشنر کشتواڑ اشوک کمار شرما نے کہا کہ پہاڑی ضلع میں برف باری ہو رہی ہے۔