سرینگر// نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان جسٹس (آر) حسنین مسعودی نے لوک سبھا میں ہیلتھ اینڈ الائیڈورکرس سے متعلق بل پر ہونے والی بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ جب تک حکومت مطلوبہ افرادی قوت کی تربیت کیلئے اداروں کا قیام عمل میں نہیں لائے گی تب تک ہیلتھ اینڈ الائیڈ ورکرز کو ریگولیٹ کرنے کی مشق سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے ۔ایک بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ تمام دیہی آبادی اور شہروں کی غریب آبادی مکمل طور پر پبلک ہیلتھ سسٹم پر انحصار کرتی ہے اور یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ کم از کم سب ڈسٹرکٹ ہسپتالوں اورPHC سطح کے طبی اداروں میں ریڈیولاجی اسسٹنٹ، لیب ٹیکنیشن، ڈائیلیسس اسسٹنٹ وغیرہ ہر وقت دستیاب ہوں۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ جموں وکشمیر میں زمینی سطح پر طبی شعبے کی صورتحال تسلی بخش نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہر ضلع میں کم سے کم ایک پیرامیڈیکل کالج قائم کیا جائے تاکہ پہلے سے ہی تربیت یافتہ اور تربیت پانے والی افرادی قوت کیلئے مواقع پیداہوسکے۔مسعودی نے کہا کہ جموں و کشمیر پُرآشوب دور سے گذرا ہے اور اسے پچھلی تین دہائیوں کے دوران بڑے پیمانے پر تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے جس نے شدید ذہنی صحت کے مسئلے کو جنم دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک متواتر حکومتیں اس مسئلے کو نظرانداز کرتی آئی ہیں اور مطالبہ کیا کہ جموں وکشمیر میں مینٹل ہیلتھ کیئر سسٹم کو مضبوط بنایا جائے۔حسنین مسعودی نے جونیول جسٹس ایکٹ ترمیم، جس میں ضلع مجسٹریٹوں کو اختیارات تفویض کئے جارہے ہیں، پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اضلاع میں پہلے ہی بہت سارے معاملات کے نپٹارے کی وجہ سے ضلع مجسٹریٹوں پر اضافی دبائو ہوتا ہے اور ایسی صورتحال میں بچوں کی دیکھ بال اور بچوں کے تحفظ جیسے حساس معاملوں کیلئے ان کو بہت کم وقت مل سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس کی بجائے ڈسٹرکٹ چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کو مستحکم کیا جائے اور اس مقصد کیلئے ایک سینئر آفیسر کو ڈسٹرکٹ چائلڈ پروٹیکشن آفیسر کے عہدے پر تعینات کیا جائے۔حسنین مسعودی نے وزیر موصوف کو یاد دلایا کہ بچوں کے حقوق کو جموں وکشمیر کے آئین میں ترجیح دی گئی تھی اور برصغیر میں جموں و کشمیر کا آئین پہلی ایسی دستاویز ہے جس میں خوشگوار بچپن اور 14سال تک مفت اور لازمی تعلیم کی بات کی گئی ہے۔اس سے قبل حسنین مسعودی کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر مملکت معدنیات نے مطلع کیا کہ جموں و کشمیر میں 20-21کے دوران 33000 کروڑ روپئے معدنی فنڈ اکٹھا کیا گیا ہے اور اس میں سے 23,000کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ وزیر موصوف نے انہیں یقین دلایا گیا کہ رواں مالی سال کے دوران اکٹھے کئے گئے فنڈ کے استعمال میں انہیں شامل رکھا جائیگا۔