جموں//جموں و کشمیر ٹیچرس فورم نے منگل کے روز اپنے مطالبات کو لے کر احتجاج درج کیا۔احتجاجوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈس اتھا کرے تھے اور وہ جم کر نعرہ بازی کر رہے تھے۔اس موقع پرمظاہرین نے کہا کہ ہم آج چار سال بعد احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ ہم سال2018 میں مجبور ہو کر سڑکوں پر آئے تھے لیکن آج جب بات چیت اور میمورنڈم پیش کرنے سے ہمارے مسائل حل نہیں ہوئے تو ہم سڑکوں پر آنے کے لئے مجبور ہوگئے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹیچر سے ماسٹر کی ترقی پچھلے آٹھ برسوں سے رکی پڑی ہے اور ماسٹر سے ہیڈ ماسٹر کی پرموشن جو 25 یا 28 برسوں کے بعد ہوتی ہیں وہ بھی نہیں ہو رہی ہے۔احتجاجی مظاہرین نے کہا کہ یہاں ساڑھے تین ہزار اسامیاں خالی ہیں اور ساڑھے چار سو ہیڈ ماسٹروں کی اسامیاں خالی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہاں ساڑھے پندرہ سو لیکچررز کی اسامیاں بھی خالی ہیں لیکن اس کے باوجود ماسٹرس کی پرموشن نہیں کی جا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ پرانی پنشن اسکیم کو لاگو کیا جائے اور رہبر تعلیم اساتذہ کے لئے ٹرانسفر پالیسی مرتب کی جائے۔انہوںنے مزید کہا کہ ہمارے سی پی ڈبلیو آج بھی دو سو روپیے ماہانہ تنخواہ پر کام کرتے ہیں اور ہماری استانیوں کو ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں ڈیوٹی انجام دینا پڑتی ہے۔