عبدالقیوم شاہ
قابل تعریف ہیں جموں و کشمیر بینک کے وہ افسران جو آج کل بینک کے ٹویٹر ہینڈل پر لوگوں کی شکایات پڑھ کر اُن سے معافی مانگ رہے ہیں اور شکایات دور کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ لیکن سینکڑوںکروڑ روپے کی آمدن اور سوا لاکھ کروڑ روپے کے اثاثوں پر مشتمل جموں و کشمیر بینک جیسا ادارہ جب صرف معافیاں مانگتا پھرے تو کیا یہ اچھی بات ہے؟۔
عام لوگوں اور جے کے بینک کے ملازمین دہائیوں سے ایک بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ عام لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ بینک بھی دیگر سرکاری اداروں کی طرح ایک سرکاری دفتر ہے جہاں دفتری طوالت ایک معمول ہے۔ اس تاثر کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ لوگوں کو بینک سے اپنا ہی پیسہ نکالنے یا اپنا پیسہ جمع کرنے میں دشواری ہوجائے تو وہ اسے مقدر جان کر نظرانداز کرتے ہیں۔ اسی طرح بینک کے ملازمین سمجھتے ہیں کہ وہ دراصل سرکاری ملازم ہیں اُن ہی کی طرح ’’پبلک ڈیلنگ‘‘ کررہے ہیں، اور بینک میں آنے والے لوگ خریدار (Customer) نہیں بلکہ سائل ہیں ، جن کا وہ کوئی مسئلہ حل کررہے ہیں۔ اس نفسیاتی پرابلم نے جموں کشمیر بینک کا خریداروں کے ساتھ رویہ یعنی Customer Relation کو تجارتی رابطہ نہیں بلکہ حاکم اور سائل کا رشتہ بنا کررکھ دیا ہے۔
کئی سال پہلے میں سرکاری نوکری سے ریٹائیر ہوکر اُن لاکھوں پنشن یافتہ لوگوں میں شامل ہوگیا ہوں جو ہر ماہ بینکوں میں اپنا ہی پیسہ نکالنے یا کبھی قرض کی درخواست دینے کے لئے دھکے کھاتے ہیں۔ اس مختصر تجربے سے مجھے سمجھ میں آگیا ہے کہ جموں کشمیر بینک کی شاخوں کے درمیان کوئی تال میل نہیں ہے۔ میں ایک شاخ کے منیجر سے ملا اور قرض کی خواہش ظاہر کی تو صاحب نے بہت خوش اسلوبی سے کہا کہ ’’ آپ قرض کے اہل ہیں، بس تھوڑی بہت فارملٹی ہے لون مل جائے گا‘‘۔ میں نے سود کی شرح معلوم کی تو صاحب بولے ’’یہی کوئی آٹھ نو فی صد‘‘۔ میں نے بینک کی دوسری شاخ سے رابطہ کیا ،وہاں کے صاحب بولے ’’ویسے تو مشکل ہے، لیکن اگر آپ مکان وغیرہ گروی رکھ لیں تو ہوسکتا ہے‘‘۔ اِن صاحب سے بھی میں نے سود کی شرح معلوم کی تو وہ بولے ’’یہی کوئی چھ سات فی صد‘‘۔ بینک کی دو الگ الگ شاخوں کے ذمہ دار افسران قرض کی لوازمات سے متعلق دو الگ الگ بیان دے رہے ہیں۔ اس سے بینک کی شبیہ ایک منڈی کی سی بن جاتی ہے، جہاں ایک ہی چیز الگ الگ پنڈالوں میں الگ الگ دام سے بکتی ہے۔ کہیں کہا جاتا ہے کہ ہائوسنگ لون کے لئے مکان کی رجسٹریشن کے کاغذ کافی ہیں ، کسی اور شاخ پر جائیے تو کہا جاتا ہے کہ میونسپلٹی کا نقشہ بھی چاہئے۔ کیا لوازمات کی فہرست کو ایک ساتھ مشتہر نہیں کیا جاسکتا ہے؟ ۔اسی طرح کوئی شخص اپنا ہی پیسہ بینک سے نکالنا چاہے تو اْس سے کہا جاتا ہے کہ اپنے پین کارڈ اور آدھار کارڈ کی فوٹو سٹیٹ کاپیاں باہر سے بنوا کر لائیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ کھاتے داروں کا آدھار اور پین پہلے سے کھاتوں کے ساتھ لِنک ہیں۔ اب اگر ایک اضافی شرط بھی ہے تو 60 سالہ پنشنر کو جس بے حسی اور بے دردی کے ساتھ شدید گرمی اور شدید سردی کے دوران باہر بھیج دیا جاتا ہے اسے غیرانسانی سلوک ہی کہا جاسکتا ہے۔
بینک حکام سیونگ اور کرنٹ اکائونٹ کا فرق بھی بھول گئے ہیں۔ سیونگ کھاتے میں تیزرفتار لین دین نہیں ہوتا۔ ایک پنشنر، طالب علم، ہاوس وائف یا کوئی غریب مزدور بینک میں پیسہ رکھتا ہے۔ کبھی مہینوں تک اکائونٹ میں ٹرانزیکشن نہیں ہوتا۔ لیکن اب جموں و کشمیر بینک کے کسی بھی کائونٹر پر پوچھئے کہ میرے اکائونٹ سے خودبخود پیسے کیوں کٹ رہے ہیں، تو صاحب بولیں گے’’یہ تو کمپیوٹر کاٹ لیتا ہے، ہمیں نہیں معلوم‘‘۔ بھلا یہ کیا بات ہوئی؟
جموں کشمیر بینک کو اُس وقت کے مہاراجہ ہری سنگھ نے یکم اکتوبر 1938 میں 5 لاکھ روپے کے پیڈاپ کپیٹل سے شروع کیا تھا۔ پہلے پہلے بینک کی مالی سرپرستی حکومت نے ہی کی ،بعد میں یہ حکومت کی شراکت والا پہلا خودمختار پبلک سیکٹر مالی ادارہ بن گیا۔ جو لوگ چالیس سے ساٹھ سال کی عمر کے ہیں اُنہیں یاد ہوگا کہ تعلیمی اداروں کی فیس، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن، حکومت کے مالیاتی آپریشن ، سوشل ویلفیئر کی محتاجوں کو مالی معاونت ،سب کچھ اسی بینک سے ہوتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ اب بجلی فیس اور راشن کارڈ وغیرہ کا کام بھی بینک کے ہاتھ ہے۔ یعنی سوشل بینکنگ کا بہت بڑا بوجھ بینک نے سالہاسال سے اُٹھا رکھا ہے۔
لیکن اس نمایاں کردار کے باوجود لوگوں کے ساتھ رشتے اچھے کیوں نہیں ہیں؟۔ ڈاکٹر حسیب درابو مفتی محمد سید کی حکومت کے مالی مشیر تھے، بعد میں جموں کشمیر بینک کے چیئرمین بھی رہے اور پھر بعد میں وزارت خزانہ کا قلمدان بھی سنبھالا۔ انہوں نے اس مسئلہ کو بھانپ لیا تھا۔ انہوں نے بینک کی ازسرنو برانڈنگ کا بیڑا اُٹھایا۔ نہ صرف بینک کا LOGO تبدیل کیا بلکہ خریداروں کے ساتھ بینک کے رشتوں کو ٹھیک کرنے کے لئے
I am Listeningیعنی ’’ میں سْن رہا ہوں ‘‘عنوان سے ایک مہم چھیڑ دی۔ پوری وادی میں بڑے بڑے پوسٹر لگے، جس پر بینک کے نوجوان افسروں کی مسکراتی تصویریں تھیں، اور جلی حروف میں لکھا تھا ’’ میں سن رہا ہوں ‘‘۔ بینک کا LOGO تو تبدیل ہوگیا ، لیکن خریداروں کی آواز آج تک کسی نے نہ سنی۔
بینک ایک کمرشل ادارہ ہوتا ہے، جہاں لوگ اپنا پیسہ رکھتے ہیں، اُسی پیسے سے بینک کی کمائی ہوتی ہے۔ اس کے عوض بینک خریداروں کو بہترین سروس دینے کا پابند ہوتا ہے۔ کئی کئی روز تک Mpay نہ چلے تو ’’سسٹم ڈائون ‘‘ ہے کے دو الفاظ بول کر بینک حکام اپنا دامن جھاڑ لیتے ہیں۔قطار میں درجنوں افراد کھڑے ہوں تو کلرک بڑی آسانی سے کہہ دیتا ہے کہ ’’سسٹم ڈائون ہے، دوپہر کے بعد آجائو‘‘۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کبھی بھی دھوکہ دے سکتی ہے، لیکن جموں کشمیر بینک میں یہ ایک معمول بن چکا ہے۔ ATM پر جائیے تو وہاں ایک پرچی لگی رہتی ہے جس پر لکھا ہوتا ہے’’Press no for receipt‘‘۔ جموں کشمیر بینک جیسا اہم ادارہ بھی جب ’’کام چلائو‘‘ اصول پر کام کرنے لگے تو باقی اداروں کا اللہ ہی حافظ ہے۔
ظاہر ہے بینکوں کا باقاعدہ آڈِٹ ہوتا ہے۔ اسی طرح جموں کشمیر بینک کا بھی ہوتا ہے۔ باضابطہ مالی گوشوارہ شایع ہوتا ہے۔ یہ اچھی بات ہے لیکن جموں کشمیر بینک میں اب Relations Customer اور Quality Service کا بھی آڈِٹ ہونا چاہئے۔ گزشتہ ماہ جموں و کشمیر نے فخریہ اعلان کیا کہ اپریل۔مئی۔ جون 2022 کے کوارٹر میں بینک کو 2308.22کروڑ روپے کی آمدن ہوئی جس میں سے 161.02کروڑ روپے منافع ہے۔ سادہ زبان میں سمجھیں تو بینک کا ماہانہ منافع 50 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ لیکن افسوس کہ نہ خریداروں کے ساتھ رابطے اچھے ہوئے اور نہ ATM درست ہوسکے۔ ڈاکٹر حسیب درابو کی ’’ میں سن رہا ہوں مہم‘‘ کے پوسٹروں پر جو ملازمین مسکرا رہے تھے، وہ آج کل سیدھے منہ بات نہیں کرتے، کجا کہ مسکرا دیں۔ لیفٹنٹ گورنر، چیئرمین اور دوسرے متعلقین کو ان باتوں پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔گوکہ بنک آج کل آزادی کے امرت مہو اتسو کے تحت صارفین کے ساتھ میٹنگوںکا اہتمام کرنے کا دعویٰ کررہا ہے جو اچھی پیش رفت ہے تاہم ایسی اطلاعات صرف میڈیا کے ذریعے ہی مل رہی ہیں اور کسی کو معلوم نہیںکہ آخر یہ میٹنگیں کہاں اور کن صارفین کے ساتھ ہورہی ہیں۔میڈیا کے ذریعے بنک کی تشہیر میںکوئی مذائقہ نہیںلیکن جب تک بنک زمینی سطح پر صارفین سے نہیںجڑ پائے گا،اس کے ساتھ صارفین کے ساتھ تعلقات اچھے نہیںہوسکتے اور جب تعلقات اچھے نہ رہیںتو بنک کا ترقی کی نئی بلندیوںکو چھونا بھی مشکل ہی ہوجاتا ہے۔
رابطہ۔([email protected]
469679449، 70780882411)