جموں//چیئرپرسن سلیکشن کم اؤر سائٹ کمیٹی جسٹس ( ریٹائرڈ) حسنین مسعودی نے جموں صوبے کے جسٹس جوونائل بورڈز کے لئے2 روزہ ورکشاپ کا آغاز کیا۔جوونائل جسٹس قوانین پر مشتمل اس ورکشاپ کا انعقاد جے کے آئی سی پی ایس نے سٹیٹ جوڈیشل اکاڈمی کے اشتراک سے کیا ہے۔افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس مسعودی نے جوونائل جسٹس نظام کے تحت بچوں کے معاملات سے نمٹنے کے دوران پرنسپل مجسٹریٹس کے رول کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی پی ایس کا رول یہ ہے کہ وہ ضرورت مند بچوں تک رسائی حاصل کرنے اور انہیں تحفظ دینے کے لئے مشنری جذبے کے تحت کام کریں۔پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج سرینگر اور سیکرٹری جوونائل جسٹس کمیٹی ہائی کورٹ عبدالرشید ملک نے جوونائل جسٹس ایکٹ کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بچوں کی بہبودی کے لئے فعال چائلڈ کیئر ادارے قائم کرنے پر زور دیا۔جی اے صوفی سٹیٹ مشن ڈائریکٹر آئی سی پی ایس نے اپنے استقبالیہ خطبہ میں تمام متعلقین پر زور دیا کہ وہ جوونائل جسٹس بورڈز، چائلڈ ویلفیئر کمیٹیوں اور سی سی آئی ایف کے مناسب کام کاج کو یقینی بنانے کے لئے باہمی تال میل کے ساتھ کام کریں۔انہوں نے کہا کہ ایسا کرنا ایکٹ کی موثر عمل آوری کے لئے لازمی راجیو کھجوریہ ممبر ایس سی او سی نے کلیدی خطبہ پیش کیا اور بچوں کے ساتھ اصلاحاتی اُصولوں کے عین مطابق رویہ اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔شریف بٹ جنرل منیجر سیو دِی چلڈرن نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد کے تعلق سے خدو خال پیش کئے اور کہا کہ اس طرح کی ورکشاپ جوونائل جسٹس ایکٹ کی موثر عمل کو یقینی بنانے میں اہم رول ادا کرتی ہے۔جو دیگر ریسورس پرسنز2 روزہ ورکشاپ کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کریں گی، اُن میں گیتانجلی گوئل، سپیشل سیکرٹری دہلی لیگل سروسز اتھارٹی، سربھی نندن تھریپسٹ کاگ ویل نیور ڈیولپمنٹ کلینک واشنگٹن یو ایس اے، ریتو مہرہ اور نتن کمار گور بھی شامل ہیں۔بعد میں جے کے آئی سی پی ایس نے اپنا سالانہ کلینڈر اور پلانر جاری کیا۔