عظمیٰ نیوز سروس
جموں// جموں خطہ میں جاری شدید گرم موسم سے لوگوں کو راحت فراہم کرنے کی کوششوں میں، جموں و کشمیر پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ (جے کے پی ڈی ڈی) نے اعلان کیا ہے کہ 20 جون سے جموں شہر میں بجلی سپلائی میں کوئی کٹوتی نہیں کی جا ئے گی۔ اس سلسلے میں منگل کو جاری ایک سرکاری سرکلر کے مطابق، جموں کے دیہی/غیر میٹر والے علاقوں میں بجلی کی کٹوتی 6 گھنٹے سے کم ہوگی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، بجلی کی فراہمی کی صورتحال میں اس بہتری کی وجہ جموں و کشمیر کے پاور سیکٹر میں ہونے والی کچھ حالیہ پیش رفتوں سے منسوب کی گئی ہے۔
اُنہوں نے بتایا کہ جموں و کشمیر کا اپنا پاور جنریٹنگ پلانٹ یعنی 900 میگاواٹ بگلیہار پن بجلی منصوبے، جو دریائے چناب میں پانی کے کم اخراج کی وجہ سے کم بجلی پیدا کر رہا تھا، کا اب اپ گریڈیچن کام مکمل ہو چکا ہے، تاہم اب اس کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ مرکزی سیکٹر کے ہائیڈرو جنریٹرز ، جن میں، نپتھا جھاکری، کولڈم اور ٹہری میں بہتر پیداوار کی وجہ سے، حکومت ہند کی طرف سے جموں و کشمیر سے باہر واقع ہائیڈرو جنریٹنگ سٹیشنوں سے بجلی کی تقسیم میں 200 میگاواٹ کا اضافہ ہوا ہے جہاں سے جموں و کشمیر بجلی درآمد کرتا ہے۔
مزید ، تھرمل جنریشن میں بھی تقریباً 60 میگاواٹ کی بہتری آئی ہے، جس کی وجہ سے جموں و کشمیر کو زیادہ بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ جے کے پی ڈی ڈی کے ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن کے موجودہ دور میں، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (جینکوز) کی طرف سے ادائیگی کے سخت حفاظتی طریقہ کار متعارف کرائے گئے ہیں، جس کے تحت، جے کے پی ڈی ڈی کو بجلی کی خریداری کے لیے جینکوز کو پیشگی ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مارکیٹ سے بجلی کی خریداری کی قیمت میں بھی اضافہ ہو رہی ہے جس کی اوسط فی یونٹ قیمت 5 سے 7 روپے ہے، جس کے خلاف جموں و کشمیر کے صارفین سے صرف 3 روپے فی یونٹ سبسڈی والے اوسط ٹیرف سے بجلی حاصل کر رہے ہیں۔ محکمہ کے ترجمان نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بجلی کا درست استعمال کریں اور بروقت اپنے بجلی بل ادا کریں تاکہ محکمہ جینکوز کو بروقت ادائیگی کر سکے اور گرمی کے ان دنوں میں صارفین کو بجلی کی ہموار فراہمی کو یقینی بنائے۔