یوسف میر
اپریل مہینے کی دسویں تاریخ کی شام ڈھل رہی تھی۔ اسلم نے اپنے بچپن کے دوست ساحل کو فون کیا اور اُس کے چھوٹے بھائی اصغر کے انتقال پر تعزیت کی۔ اصغر ایک مہلک بیماری، کینسر، میں مبتلا تھا۔ اسلم نے شریک نہ ہونے پر معذرت کی اور اپنی غیرحاضری کی وجہ بتاتے ہوئے ساحل کو مطمئن کرنے کی کوشش کی۔ پھر اُس نے دھیرے سے کہا:
’’السلام علیکم…‘‘
دوسری طرف سے تھکی ہوئی آواز سنائی دی:
’’وعلیکم السلام…‘‘
اسلم چند لمحے خاموش رہا، پھر آہستہ سے بولا:
’’اصغر کے انتقال کی خبر سن کر بہت افسوس ہوا۔ اللہ اُن کی مغفرت فرمائے اور اُن کے پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔‘‘
فون کے دونوں سروں پر خاموشی پھیل گئی۔ ایسی خاموشی جس میں انسان لفظوں سے زیادہ سانسوں میں دکھ محسوس کرتا ہے۔
کچھ دیر بعد ساحل بولا:
’’ایک مہینہ گزر گیا اسلم… مگر گھر اب بھی اُسی دن میں رکا ہوا لگتا ہے۔ کبھی کبھی امی آج بھی اُس کے کمرے کا دروازہ آہستہ سے کھولتی ہیں… جیسے وہ ابھی بھی اندر موجود ہو۔‘‘
اسلم نے نظریں جھکا لیں۔
’’کیا بیماری اچانک بڑھ گئی تھی؟‘‘
ساحل نے گہری سانس لی۔
’’نہیں… شاید بیماری بہت پہلے شروع ہو چکی تھی۔ بس ہم سمجھ نہیں پائے۔ یا شاید کسی نے ہمیں سمجھنے ہی نہیں دیا۔‘‘
پھر وہ آہستہ آہستہ پوری کہانی سنانے لگا۔
شہر کے ایک معروف اسپتال سے ایک ریڈیالوجسٹ اُن کے علاقے میں آیا کرتا تھا۔ اُس نے اصغر کا الٹراساؤنڈ کیا، مگر مریضوں کی بھیڑ کی وجہ سے رپورٹ لاپرواہی سے لکھی گئی۔ ضروری پیمائش تک درج نہیں کی گئی۔
ساحل تلخی سے مسکرایا۔
’’آج کبھی کبھی مجھے لگتا ہے بیماری اُسی دن جیت گئی تھی… جس دن پہلی رپورٹ لاپرواہی سے لکھی گئی تھی۔‘‘
بعد میں اصغر کو ایک سرجن کے پاس لے جایا گیا۔ ڈاکٹر نے سرجری کا مشورہ دیا، مگر اُس کا انداز معمولی سا تھا۔ چونکہ اصغر کو کوئی درد محسوس نہیں ہو رہا تھا اور الٹراساؤنڈ رپورٹ بھی واضح نہیں تھی، اس لیے معاملہ سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
’’جب درد ہوگا… تب آ جانا۔‘‘
ساحل چند لمحے خاموش رہا۔
’’یہ الفاظ آج بھی میرے ذہن میں گونجتے ہیں۔ عجیب بات ہے اسلم… درد نہیں تھا، مگر بیماری خاموشی سے اندر بڑھتی جا رہی تھی۔‘‘
پھر ایک دن سب کچھ بدل گیا۔
اصغر کو ملک کے ایک بڑے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اُس کی سرجری عمل میں لائی گئی۔ کچھ عرصے تک لگا جیسے خطرہ ٹل گیا ہو۔ گھر میں امیدیں واپس آنے لگیں۔ اصغر دوبارہ چلنے پھرنے لگا۔ امی نے سکون کا سانس لیا۔ بچے بھی بہتر حالت میں دکھائی دینے لگے۔
مگر یہ سکون زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔
تقریباً ڈیڑھ سال بعد بیماری دوبارہ لوٹ آئی اور اس بار پہلے سے زیادہ بے رحم ہو کر۔
دو مہینوں کے اندر درد بڑھتا گیا۔ جسم کمزور ہوتا گیا۔ دواؤں کی مقدار بڑھتی گئی۔ اسپتالوں کے چکر ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
پھر ایک دن اصغر خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔
ساحل کی آواز کانپ گئی۔
’’اسلم، تم یقین نہیں کرو گے… اُس کی چھ سالہ بیٹی روحی کہہ رہی تھی، ‘حوصلہ مت ہارو… ابو یہیں ہیں… وہ ہمارے ساتھ چھپن چھپائی کھیل رہے ہیں۔‘‘
فون پر ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔
اسلم نے نم آنکھوں سے چھت کی طرف دیکھا، پھر دھیرے سے بولا:
’’کچھ عرصہ پہلے میں موبائل پر ایک آنکولوجسٹ کا انٹرویو سن رہا تھا۔ اُس نے ایک عجیب بات کہی تھی۔‘‘
’’کیا کہا؟‘‘ ساحل نے پوچھا۔
اسلم نے آہستہ سے کہا:
’’کبھی کبھی علاج نہ کرنا بھی ایک علاج ہوتا ہے۔‘‘
ساحل چند لمحے خاموش رہا۔
’’یعنی؟‘‘
’’یعنی بعض اوقات، جب بیماری آخری مرحلے میں پہنچ جائے، تو مریض کو تکلیف دہ علاج، مہنگی دواؤں اور ختم نہ ہونے والی جھوٹی امید سے بچانا بھی ایک طرح کا علاج بن جاتا ہے۔‘‘
اسلم کچھ دیر رکا، پھر بولا:
’’وہ ڈاکٹر ایک ایسے آدمی کا ذکر کر رہا تھا جو گھوڑا گاڑی چلا کر روزی کماتا تھا۔ اُس کی بیوی کینسر میں مبتلا تھی۔ پہلے اُس کے زیور بکے، پھر زمین۔ بعد میں گھوڑا اور گاڑی بھی فروخت ہو گئے، جو اُن کی روزی کا واحد سہارا تھے۔ آخر میں اُن کا چھوٹا سا گھر بھی بک گیا۔‘‘
ساحل خاموشی سے سنتا رہا۔
’’ڈاکٹر کہہ رہا تھا کہ بعض اوقات اُسے پہلے ہی معلوم ہوتا تھا کہ مریض شاید اب نہیں بچے گا، مگر گھر والے پھر بھی امید کا دامن نہیں چھوڑتے تھے۔ وہ ہر نئی دوا میں زندگی تلاش کرتے رہتے تھے۔‘‘
اسلم کی آواز کانپ گئی۔
’’عورت تو آخرکار مر گئی… مگر اُس کے بعد وہ آدمی بھی کہاں زندہ رہا؟ وہ صرف سانس لیتا رہا۔‘‘
فون کی دوسری طرف سے دبی ہوئی سسکی سنائی دی۔
کچھ دیر بعد ساحل بولا:
’’انسان واقعی عجیب مخلوق ہے اسلم… وہ آسمان تک پہنچ گیا، مگر اپنے ہی جسم کے اندر پلنے والی ایک بیماری سے اب بھی ہار جاتا ہے۔‘‘
اسلم نے کھڑکی سے باہر پھیلے اندھیرے میں دیکھا۔
’’شاید بیماری سے زیادہ خوفناک چیز وہ بے بسی ہے… جب ایک انسان اپنے پیارے کو بچانے کے لئے سب کچھ داؤ پر لگا دیتا ہے، اور پھر بھی اُسے بچا نہیں پاتا۔‘‘
رات مزید گہری ہو چکی تھی۔
دونوں دوست خاموش تھے۔
شاید اُن کے ذہن میں صرف اصغر کی موت نہیں تھی… بلکہ وہ لمحہ بھی بار بار زندہ ہو رہا تھا، جب بیماری خاموشی سے بڑھ رہی تھی اور ڈاکٹر نے کہا تھا:
’’جب درد ہوگا… تب آ جانا۔‘‘
���
بانڈی پورہ کشمیر
موبائل نمبر؛9906786741