نیوزڈیسک
جموں//ڈیموکریٹک آزاد پارٹی کے چیئرمین غلام نبی آزاد نے ہفتے کے روز کہا کہ جب تک ووٹر ان کے ساتھ نہیں ہیں، وہ لیڈروں کے پارٹی چھوڑنے کی فکر نہیں کرتے۔ان باتوں کا اظہار انہوں نے مسلسل دوسرے دن بانہال حلقہ کے ہزاروں لیڈران بشمول ڈی ڈی سی ممبر فیاض نائک، الیاس بانہالی، منیر بٹ، سابق ضلع رام بن کانگریس صدر فاروق کٹوچ، سرپنچ خورشید، اعجاز نظامی، شیخ منظور، سرپنچ رئیس کھانڈے، بشیر نائک، بشیر کمار اور دیگر ان کی ڈیموکریٹک آزاد پارٹی میں شمولیت اختیارکرنے کے موقعہ پر کیا۔آزاد نے کہا کہ وہ یہاں کے لوگوں کی تکالیف دیکھ کر جموں و کشمیر آئے ہیں اور وہ لیڈروں پر ’’بھروسہ‘‘ نہیں کرتے۔اْنہوں نے کہا،’’مجھے فکر نہیں ہے کہ 10 یا 12 لیڈر دہلی جائیں گے۔ جب تک ووٹر میرے ساتھ ہیں، میں لیڈروں کی فکر نہیں کرتا۔ آپ (ووٹر) لیڈر بناتے ہیں۔ میں ٹکٹ دیتا تھا، تم نے انہیں جتوایا‘‘۔اب ٹکٹ دینے والے اور جتوانے والے اکٹھے ہو گئے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ کتنے جیتیں گے‘‘۔بتا دیں کہ جمعہ کے روز 17 ڈی اے پی لیڈربشمول سابق نائب وزیر اعلیٰ تارا چند اور جے کے پی سی سی کے سابق سربراہ پیرزادہ محمد سعید نے دہلی میں دوبارہ کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔آزاد نے کہا کہ ان کی پارٹی چھوڑنے والے لیڈران کو “انشاء اللہ ان کے اپنے حلقوں میں بدترین حالات کا سامنا کرنا پڑے گا”۔آزاد نے کہا کہ وہ لیڈروں پر بھروسہ کرتے ہوئے جموں کشمیر نہیں آئے ہیں بلکہ عوام کے لیے آئے ہیں،’’میں یہاں تمہارے دکھوں، مصیبتوں کو دیکھ کر آیا ہوں۔ غربت، بے روزگاری دیکھ کر واپس آیا ہوں‘‘۔اْنہوں نے مزید کہا،”ہمارے لوگ خوف کے ماحول میں جی رہے ہیں۔ کب کسی کو گرفتار کیا جائے گا، کوئی نہیں جانتا، لوگوں کی زمین، عمارت یا مکان کب چھینے جائیں گے، اس کی کوئی گارنٹی نہیں۔ کوئی لیڈر یا سیاسی جماعت اس کے خلاف آواز نہیں اٹھاتی۔ اس لیے، میں نے یہاں آنے کے لیے سب کچھ چھوڑ دیا‘‘۔جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملک یا جموں و کشمیر کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جس کا انہوں نے دورہ نہ کیا ہو اور جہاں انہوں نے لوگوں کی مدد نہ کی ہو۔انہوں نے کہا کہ ان میں ہمت کے ساتھ ساتھ “شناخت اور اثر و رسوخ” بھی ہے کہ وہ اسے جموں و کشمیر کے لوگوں کی بہتری کے لیے استعمال کر سکے۔آزاد نے مزید کہا،”لوگ مجھے بتاتے ہیں کہ میں نے کسی خاص جگہ پر اس سے 10 گنا ترقیاتی کام کیے ہیں۔ اور جب میں یہاں آنے کے لیے سب کچھ چھوڑ کر آیا تو آپ نے بھی مجھے 10 گنا پیار اور بھروسہ دیا۔ میرے پاس دولت نہیں ہے لیکن میرے پاس پروگرام ہیں۔ میرے پاس ہمت ہے، میرے پاس واقفیت ہے، اثر و رسوخ ہے، جسے میں اس ریاست کی بہتری، اس کے نوجوانوں کے روزگار کے لیے استعمال کر سکتا ہوں‘‘۔آزاد نے کہا کہ جب وہ جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ بنے تو وہ بانہال حلقہ کو یکے بعد دیگرے حکومتوں سے غیر حاضر دیکھ کر مایوس ہوئے۔انکاکہناتھا “میں نے بانہال حلقہ کو اپنی ترجیح بنایا اور اسے درجنوں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے ساتھ تیار کیا۔ میں نے اس کے لیے سکول، کالج، سڑکیں، اسپتال اور درجنوں دیگر پروجیکٹوں کی منظوری دی۔ ہزاروں لوگ مستفید ہوئے ہیں اور ایک بار جب ہم اقتدار میں واپس آجائیں گے تو بانہال کو پورے ملک میں ماڈل حلقہ بنانے کے لیے تین شفٹوں میں کام دوبارہ شروع کیا جائے گا‘‘۔ آزاد نے کہا کہ بانہال کے لوگ ان کے دل کے قریب ہیں اور وہ انہیں کبھی مایوس نہیں ہونے دیں گے۔انکاکہناتھا “آپ کو مجھ پر اعتماد ہے جو آپ کی حمایت سے ظاہر ہوتا ہے۔ میں آپ کو کبھی مایوس نہیں کروں گا”