عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// جموں و کشمیر کے شوپیان ضلع میں مبینہ طور پر کالعدم تنظیم سے وابستہ افراد کے ذریعہ چلائے جانے والے ایک سکول کو غیر قانونی سرگرمیاں(روک تھام)ایکٹ ((یو اے پی اے) کے تحت “غیر قانونی ادارہ” قرار دیا گیا ہے۔کشمیر کے ڈویژنل کمشنر انشول گرگ نے شوپیان کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی طرف سے پیش کردہ ایک ڈوزئیر کی بنیاد پر دو صفحات کا حکم جاری کیا، جس میں شوپیان کے امام صاحب میں دارالعلوم جامعہ سراج العلوم میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔24 اپریل کو گرگ کے جاری کردہ حکم کے مطابق، “ریکارڈ پر معتبر معلومات اور ثبوت موجود ہیں، جو جماعت اسلامی کے ساتھ ادارے کے مستقل اور خفیہ روابط کی نشاندہی کرتے ہیں، جس پر مرکز نے 2019 میں پابندی لگا دی تھی۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کالعدم تنظیم سے وابستہ افراد کا ادارہ پر ڈی فیکٹو کنٹرول ہے، جس میں اہم انتظامی اور تعلیمی عہدوں پر ان کی تعیناتی بھی شامل ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ ادارے نے کچھ عرصے کے دوران، شدت پسندی کے لیے سازگار ماحول کو فروغ دیا ہے اور اس ادارے سے متعدد پاس آئوٹ ہوئے ہیں جو عسکریت پسندانہ سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں اور قومی سلامتی کے لیے منفی کام کرتے ہیں۔ڈوزیئر میں مالیاتی دھندلاپن، ادارہ جاتی فنڈز کی مشکوک ہینڈلنگ اور مالیاتی کنٹرول کے ڈھانچے میں تبدیلیوں، رقم کی منتقلی اور غلط استعمال کے خدشات کو بھی اٹھایا گیا۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ “مجموعی حقائق اور حالات، جو انٹیلی جنس معلومات اور فیلڈ کی تصدیق سے تعاون کرتے ہیں، معقول طور پر یہ یقین کرنے کے لیے کافی بنیاد فراہم کرتے ہیں کہ احاطے کو غیر قانونی ایسوسی ایشن کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔”تاہم انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین محمد شفیع لون نے کہا کہ ان کا جماعت اسلامی یا کسی غیر قانونی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔لون نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ “ہم قانون کی پاسداری کرنے والے ادارے ہیں اور اس کا کالعدم جماعت اسلامی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس وقت اس سکول میں 814 طلبا داخل ہیں جو بورڈ آف اسکول ایجوکیشن اور کشمیر سکول فیڈریشن سے منسلک ہیں،” ۔انہوں نے کہا کہ ادارے کو گزشتہ ماہ حکام کی جانب سے وجہ بتا نوٹس موصول ہوا تھا جس کا مناسب جواب دیا گیا تھا۔لون نے کہا، “اگر حکام کو اب بھی کوئی شک ہے تو وہ ایک کمیٹی تشکیل دیں اور ہمارے ادارے کے خلاف الزامات کی چھان بین کریں۔ اگر یہ الزامات درست پائے جاتے ہیں، تو ہم حکومت کے ساتھ ہیں جو بھی کارروائی کرنے کا فیصلہ کرے گی،” ۔ایک اور پیش رفت میں، ضلع مجسٹریٹ، شوپیاں، ششیر گپتا نے پیر کو تعلیمی ادارے میں کسی بھی غیر مجاز شخص کے داخلے کے خلاف امتناعی احکامات جاری کیے ہیں۔گپتا کی طرف سے جاری کردہ حکم نامے میں کہا گیا، کوئی بھی شخص، جو دارالعلوم جامعہ سراج العلوم، امام صاحب، شوپیان کا آج تک رہائشی نہیں ہے، میری پیشگی تحریری اجازت کے بغیر مذکورہ احاطے میں داخل نہیں ہو گا، نہ ہی اندر ہو گا۔ حکم کے مطابق، داخلے پر پابندی کا اطلاق ان افراد کے کسی بھی “قریبی رشتہ دار” پر نہیں ہوگا جو نوٹیفکیشن جاری ہونے کے وقت مطلع شدہ جگہ کے رہائشی تھے۔
ہزاروں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ جائیگا
پابندی پر نظر ثانی کی جائے:بخاری
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے حکومت سے شوپیان میں واقع دارالعلوم پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے پر نظرِ ثانی کرنے کی اپیل کی ہے۔ انتظامیہ کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بخاری نے اپنے ایکس ہینڈل پر لکھا ’’میں حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ شوپیان کے دارالعلوم جامعہ سراج العلوم پر عائد پابندی پر نظرِ ثانی کی جائے۔ ہزاروں طلبہ کو سزا نہیں ملنی چاہیے۔ تقریباً 10 ہزار طلبہ اپنی تعلیم اور مستقبل کے لیے اس ادارے پر انحصار کرتے ہیں‘‘-انہوں نے مزید کہا ’’ایسا کوئی ریکارڈ نہیں ہے کہ اس ادارے سے ایسے افراد نکلے ہوں جنہوں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا ہو۔ اگر چند انفرادی مثالیں موجود بھی ہوں تو وہ محض استثنا ہیں۔ ملک میں کوئی بھی ادارہ، حتیٰ کہ آرمی اسکولز بھی، ایسے اُکے دُکے واقعات سے مکمل طور پر مبرا نہیں ہے‘‘-انہوں نے کہا:’’یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو افراد پہلے جماعت اسلامی سے وابستہ تھے، انہوں نے بعد میں ایک سیاسی جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ فرنٹ (جے ڈی ایف) قائم کی، جسے الیکشن کمیشن آف انڈیا نے رجسٹر بھی کیا۔ اگر انہیں آگے بڑھنے کی اجازت دی گئی، تو طلبہ کو کیوں نقصان اٹھانا پڑے؟ لہٰذا حکومت کو اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔ اس مسئلے کو تعمیری انداز میں حل کیا جانا چاہیے۔ ادارے کی نگرانی کے لیے ایک مناسب انتظامی ڈھانچہ قائم کرنا ایک منصفانہ اور عملی قدم ہوگا تاکہ طلبہ متاثر نہ ہوں اور ان کی تعلیم بلا تعطل جاری رہے’‘- الطاف بخاری نے لکھا“اس طرح کے تعلیمی اداروں پر پابندی جیسے اقدامات سے صرف عوام میں مایوسی پھیلے گی اور شکایات میں اضافہ ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اعتماد کے فقدان کو دور کیا جائے۔ موجودہ صورتحال مفاہمت اور بامعنی اعتماد سازی کے اقدامات کی متقاضی ہے تاکہ جموں و کشمیر میں پائیدار امن اور استحکام یقینی بنایا جا سکے۔‘‘