عظمیٰ نیوزسروس
جموں// وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر میں ورثہ کے فروغ اور ثقافتی سیاحت کے حوالے سے ایک میٹنگ کی صدارت کی جس میں سیاحت کو فروغ دینے کے مقصد سے تاریخی اثاثوں کے تحفظ اور ان کے مؤثر اِستعمال کے اَقدامات کا جائزہ لیا گیا۔وزیراعلیٰ نے ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے اور ورثہ پر مبنی سیاحتی سرکٹس تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ جموں و کشمیر کو ایک نمایاں ثقافتی سیاحتی مقام کے طور پر پیش کیا جا سکے۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ قومی اور بین الاقوامی اداروں کے تجربات سے سیکھا جائے جنہوں نے تاریخی ورثے کے تحفظ اور مؤثر استعمال میں کامیاب اقدامات کئے ہیں۔ اُنہوں نے ایسے شراکت داروں کے ساتھ منظم مشاورت کی ضرورت پر زور دیا تاکہ تکنیکی مہارت اور پیشہ ورانہ رہنمائی حاصل کی جا سکے اور تاریخی مقامات کو قابلِ عمل سیاحتی اثاثوں میں تبدیل کیا جا سکے۔وزیر اعلیٰ نے ایک جامع اور آگے کی سوچ رکھنے والے طریقہ کار کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ تحفظ کو تجارتی امکانات اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت کے ساتھ ملا کر چلانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے وسیع تاریخی ورثے کو سیاحت اور معاشی ترقی کے ایک متحرک ذریعہ کے طور پر اِستعمال کیا جانا چاہیے جبکہ اس کی ثقافتی میراث کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے ۔ میٹنگ میں موجود جموں و کشمیر ہیرٹیج کنزرویشن اینڈ پریزرویشن اتھارٹی کے قیام کی تجویز پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا جس میں اس کی ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور تحفظ کی پالیسیوں کے موثر نفاذ پر زور دیا گیا۔ میٹنگ میں وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی ، چیف سیکرٹری ، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ٹورازم اینڈ پبلک ورکس ( آر اینڈ بی ) ، کمشنر سیکرٹری اِنفارمیشن ، سیکرٹری کلچر اور دیگر سینئر اَفسران نے شرکت کی ۔میٹنگ کے دوران سیکرٹری کلچر نے جموں و کشمیر کی وسیع ثقافتی ورثے کی صلاحیت پر ایک تفصیلی پرزنٹیشن پیش کی جس میں ٹینجی بل اور اِن ٹینجی بل اثاثوں جیسے کہ یادگاریں ، قلعے ، زیارت گاہیں اور فنون لطیفہ کی روایات دونوں کو شامل کیا گیا ۔ پرزنٹیشن میں بتایا گیا کہ جموں و کشمیر میںزائد اَز 600 تاریخی مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں محفوظ اور غیر فہرست شدہ یادگاریں شامل ہیں جو اس شعبے میں وسیع مواقع کی عکاسی کرتی ہیں۔ پرزنٹیشن کا ایک اہم فوکس خاص طور پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ( پی پی پی ) فریم ورک کے ذریعے ایڈاپٹیو رِی یوز ماڈلز کو اَپنانا تھا ۔ پڑوسی ریاست پنجاب ، راجستھان ، مدھیہ پردیش اور اتر پردیش جیسے کامیاب مثالیں پیش کرتے ہوئے یہ بتایا گیا کہ کیسے نظر انداز کی گئی ورثے کی عمارتیں متحرک ثقافتی اور سیاحت کے مراکز میں تبدیل کی جا سکتی ہیں ۔