ابراہیم آتش
جس طرح تعلیم کا حاصل کرنا ہر مسلمان کے لئے فرض ہے مگر لیڈرشپ کے معالمے میں ہم تعلیم یافتہ افراد کو نظر انداز کر دیتے ہیں،اس کی وجہ یہی ہے کہ مسلمانوں میں زیادہ تر تعلیم یافتہ نہیں ہیں،اس لئے جب لیڈر کو چنا جاتا ہے عوام کا وہی عکس لیڈروں میں نظر آ جاتا ہے مگر لیڈر کے لئے تعلیم کے ساتھ اور بھی بہت سی خوبیاںہونا ضروری ہے ۔ہر ا یرا غیرا کامیاب لیڈرنہیں بن سکتا ، اس لیڈر کے لئے ضروری ہے دنیا کے معلومات ہوں، حالات حاضرہ پر نظر رکھے، کس طرح دنیا میں قوموں کا عروج وزوال ہوا،لیڈر اسی کو کہتے ہیں جو قوم کی قیادت کر رہا ہو، لیڈر وہ نہیں جو پیسے کے بل بوتے پر کسی بھی سیاسی پارٹی میں اپنا مقام بنا لیا اور روپیہ بٹور لیا، اس کو تجارت کہا جا سکتا ہے لیڈر شپ نہیں ۔سیاسی پارٹیوں کو پیسہ چاہئے جو جتنا زیادہ پیسہ دے گا وہی امیدوار ہوگا۔ اگر گذشتہ چالیس پچاس سال کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو خاندانی پیسے والے تقریباً ختم ہو چکے ہیںاور آج جو دولت مند اُبھر کر سامنے آئے ہیں،ان تمام کا ر شتہ سیاسی پارٹیوں کے ساتھ رہا ہے یا پھر وہ سیاست دان ہیں۔اگر آج کا سروے کیا جائے تونوے فیصدلوگ جو سیاست میں لیڈرشپ کر رہے ہیں،وہ تمام ریئل اسٹیٹ میں کمائے ہوئے پیسے کے بل بوتے پر کر رہے ہیں،پیسے کا اثر رسوخ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اس کے سامنے علم بھی ماند پڑ گیا ہے۔ ترکاری بیچنے والے سرکاری دفتر کا بروکر،آٹو رکشا چلانے والے ،چائے بیچنے والے آج کونسلر سے لے کر بڑے بڑے لیڈر بن چکے ہیں،اس کا مطلب یہ نہیں کوئی پروفیشن غلط ہے مگر علم والے کا مقام اُن سے بلند ہے ۔کونسلر یا ایم یل اے بنتے ہی اس شخص کے پاس تمام ڈگریا ں آ جاتی ہیں ،وہ ڈاکٹر بھی بن جاتا ہے ،وہ اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھنا فخر سمجھتا ہے ۔مذہبی جلسہ ہو گا تو وہاں بھی اس شخص کو بہت عزت سے بلایا جائے گا۔اگر کسی مسجد کا افتتاح ہو تو وہاں بھی اس لیڈر کا لوگ انتظار کر رہے ہوں گے، کسی دکان کا افتتاح ہو تو وہاں بھی وہی لیڈر نظر آئے گا۔ یہ کمال ہوتا ہے لیڈر بننے کا کہ دیکھتے ہی دیکھتے لوگ ہر طبقے کے اس کے ارد گرد جمع ہونے لگتے ہیں۔لیڈر بننے سے کچھ برس پہلے اس کا نہ کوئی کاروبار تھا نہ اس کے پاس کوئی ڈھنگ کی سواری تھی اور نہ ہی اس کا ذاتی مکان تھا۔ مگر جیسے ہی ایک دو چنائوکیا جیت گیا ،اس کے پاس عمدہ کار آگئی، اس کا شاندار بنگلہ تیار ہو گیا، اس کا اثر رسوخ پولیس محکمہ سے لے کر چیف منسٹر تک پہنچ گیا۔ حالانکہ وہ لیڈر اَن پڑھ ہے، اس کو پڑھنا لکھنا نہیں آتا، بس سیاست میں آنے سے پہلے کچھ روپیہ کما لیا ،سیاست میں قدم رکھا ،لوگوں پر دھاک تھی لوگ اس کے خلاف بولنے سے ڈرتے تھے۔ جب اس طرح کے لوگ لیڈر بن جائیں گے تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کا مستقبل کیا ہوگا۔ اس طرح کی مثال ہمیں بی جے پی میں نظر نہیں آئے گی، کیونکہ بی جے پی کے لئے کام کرنے والے لوگ پردے کے پیچھے ہوتے ہیںاور وہ تمام قابل اور ذہین افراد ہوتے ہیں اور یہ لیڈر ان کا حکم مانتے ہیں۔ایک کونسلر سے لے کر وزیر اعظم تک ان کے ہی اشاروں پر چلتے ہیں مگر مسلمانوں کے ان لیڈروں کے لئے کام کرنے والے نہ پردے کے پیچھے ہوتے ہیں اور نہ پردے کے سامنے ہوتے ہیںاور ہمارے لیڈر اپنے سے زیاد ہ کسی کو قابل سمجھتے بھی نہیں ہیں۔حالانکہ انھیں یہ بھی پتہ نہیں ہوتا ،ان کے ضلع میں کتنے تعلقے ہیں،ریاست میں کتنے ضلع ہیںاور ملک میں کتنی ریاستیں ہیں ،یہ تو عام معلومات ہیں،حکومت اور قوموں کے بارے میں ان کو کیا پتہ ہوگااور ایسے لوگ مسلمانوں کے لیڈر بنے ہوئے ہیں،یہ مذاق نہیں ہے پوری قوم کا بوجھ ان کے اوپر ہوتا ہے اور جو ایسا نہیں سمجھتا، میں کہتا ہوں عوام اس کو ہمیشہ کے لئے گھر کا راستہ دکھائے، ان کے پیچھے جی حضور بولنے والوں کی ٹولی ہوتی ہے ۔اس لیڈر کے کسی بھی فیصلے کو ان کے ارد گرد رہنے والے تمام افراد تعریفوں کے پل باندھتے ہوئے نظر آئیں گے۔ اگر کوئی شخص اس لیڈر کی رائے سے متفق نہیں ہوا تو اس شخص کی اہمیت اس لیڈر کے سامنے ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتی ہے اور وہ لیڈر اس کو پھر دیکھنا بھی پسند نہیں کرے گا ۔
مسلمانوں کے لیڈروں کوچاہے وہ کونسلر ہو، ایم یل اے یا وزیر، ان تمام افراد کو چاہئے مسلمانوں کے دانشوروں کی ایک ٹیم بنائیں اور اپنے کسی بھی فیصلے سے پہلے ان دانشوروں کے ساتھ تبادلہ خیال کریں، مسلمانوں کے لیڈرس کویہ جاننا ضروری ہے مسلمانوں کے خلاف بننے والے قانون کے متعلق ان کے سیاسی پارٹی کا اور ان کا کیا موقف ہے ،ان لیڈرس کو یہ بھی معلو م ہونا چاہئے کہ مسلمانوں کو حکومت کی جانب سے ملنے والی اسکیمات کا مسلمان کس طرح زیادہ سے زیاد ہ فائدہ اٹھائیںاور ان کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ اغیارکی سازشوں کو کس طرح نا کام کیا جائے، اپنے حلقے کے گلیوں اور محلوں کو کس طرح صاف رکھا جائے۔ آج یہ بات عام طور پر دیکھی جا سکتی ہے اگر کوئی محلہ گندہ ہے تو ہم سمجھ سکتے ہیںیہاں مسلمانوں کی آبادی ہے۔
اہم سوال یہ ہے تعلیم یافتہ لیڈرشپ کو سامنے کس طرح لائیں،موجودہ حالات میں تعلیم یافتہ لیڈر شپ کو سامنے لانا ممکن نہیں ہے کیونکہ آج جو انتخابات ہو رہے ہیں،اس سسٹم میں بغیر پیسے کے انتخابات جیتنا ممکن نہیں ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت جس پارٹی کو سیکولر سمجھتی ہے، اس پارٹی کے تمام لیڈرس اپنی سیاسی حکمت عملی میں یہ ضرور شامل کرلیں۔اپنے شہر کے تمام دانشوروں کو جو غیر جانبدار ہیں،جن کا کسی بھی سیاسی پارٹی سے تعلق نہ ہو، ان افراد کا نام و پتہ فون نمبر نوٹ کر لیں اور انتخابات سے بہت پہلے ان کے ساتھ میٹنگ منعقد کریں ،ہر لیڈر کی یہ ذمہ داری ہے اس طرح کے افراد اپنی صلاح کار ٹیم میں رکھیں کیونکہ ریاست اور ملک کے حالات پر ان کی بہت گہری نظر ہوتی ہے۔ جب وہ لیڈر انتخابات میں کامیاب ہوگا تو ہم سمجھ سکتے ہیں تعلیم یافتہ لیڈر شپ کامیاب ہوئی گو کہ وہ لیڈر اَن پڑھ ہی سہی، اس طرح دانشوروں کی ٹیم تعلقہ ،ضلع ،ریاست اور قومی سطح پر ہونی چاہئے۔ اس طرح کی کوشش کو ہم آر یس یس میں دیکھ سکتے ہیںاور اس کا نتیجہ بھی ہمارے سامنے ہے ۔آر یس یس کا نعم البدل بی جے پی اقتدار میں ہے اور اگر مسلمانوں میں یہ چیز اگر کہیں نظر آتی ہے تو وہ جماعت اسلامی میں نظر آتی ہے، وہ ملک میں انتخابات ہوں یا ملک میں سنگین حالات ہوں ،دانشوروں کے ساتھ تبادلہ خیال ضرور کرتے ہیں۔ یہ عین اسلام کا اصول بھی ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ کہ مسلمانوں کو یہ بھی علم نہیں کہ دانشور کون ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلما ن اتنے خانوں میں بٹ چکے ہیں،وہ اپنی ہی جماعت کے شخص کو جو لفاظی اور شعلہ بیان تقریر کرتا ہے، اس کو ہی دانشور سمجھتے ہیں۔اگر ایمانداری سے کہا جائے تومسلمان ان ہی کو دا نشور سمجھتے ہیں جو مسلکی شدت پسندی اختیار کرتے ہیںاور جذباتی تقاریر کرتے ہیںاور فضول بحثوں میں الجھتے ہیں، اور مسلمان آج تک ان ہی کی وجہ سے نہ سہی لیڈر شپ پیدا کر سکے اور نہ تعلیمی پستی کو دور کر سکے اور نہ سیاسی غلبہ حاصل کر سکے ۔دانشور وہ ہے جو ایک کتا ب لکھنے کے لئے سو کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے، دنیا بھر کے معلومات اکٹھا کرتا ہے، تمام قوموں کا حال پڑھتا ہے، قدیم تاریخ سے جدید زمانہ اس کے سامنے ہوتا ہے کہ کس طرح قوموں کا زوال ہوا،وہ بتاتا ہے کس طرح قوموں کو عروج حاصل ہو سکتا ہے، اس کے لئے راہنمایانہ ہدایت دیتا ہے۔ اب اگر کوئی قوم ان کی رائے کو رد کر کے لفاظی کو قبول کرے تو یقیناً اس قوم کو برباد ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔
(رابطہ۔9916729890 )
[email protected]>