تعلیم سے نسلوں میں تبدیلی کا آغاز ہوتا ہے ،اساتذہ کی بااِختیاری دراصل طلبأ میں اعتمادپید ا کرنے کا ذریعہ :ایل جی
جموں // لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے بھارتی ایئرٹیل فاؤنڈیشن، سٹیٹ کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ، جموں و کشمیر اور محکمہ سکولی تعلیم کے اِشتراک سے منعقدہ ’’ایک روزہ صلاحیت سازی پروگرام‘ میں شرکت کی۔ یہ تقریب ان تین اِداروں کی طرف سے مشترکہ طور پر تیار کردہ تدریسی وسائل کے باضابطہ آغاز کا پلیٹ فارم ثابت ہوئی جن کا مقصد اَساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مضبوط کرنا اور یو ٹی بھر میں سکولی تعلیم کے مجموعی معیار کو بہتر بنانا ہے۔اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر نے اَپنے خطاب میں کہا کہ یہ اقدام ایک اِجتماعی عہد کی علامت ہے جس کی بنیاد اس حقیقت پر ہے کہ جب اساتذہ کو بااختیار بنایا جاتا ہے تو طلبأ میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔اُنہوں نے کہا،’’جب اساتذہ کو بااِختیار بنایا جاتا ہے تو طلبأ کو اعتماد پیدا ہوتا ہے، جب سکول مضبوط ہوتے ہیں تو معاشرہ زیادہ مستحکم بنتا ہے اور جب تعلیم صحیح سمت میںجاتی ہے تو جموں و کشمیر اور ملک روشن، محفوظ اور خوشحال مستقبل کی طرف گامزن ہوتا ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنرنے کہا کہ تعلیم کا اصل مقصد صرف اِمتحانات میں کامیابی نہیں بلکہ اِنسان کی زِندگی میں مثبت تبدیلی لانا ہے۔
جب تعلیم عملی زندگی سے جڑتی ہے تو نسلوں میں تبدیلی کا آغاز ہوتا ہے۔ ایک مخلص اُستاد تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اِس لئے جموں و کشمیر کے سکولوں کو زندگی سنوارنے کی تجربہ گاہیں بننا چاہیے۔اُنہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ’’منشیات سے پاک جموں و کشمیر‘‘ مہم سے بھی منسلک ہے جس کا مقصد تدریسی طریقوں کو بہتر بنانا اورطالب علموں کو منشیات، ذہنی تنائو، سماجی دباؤ، ڈیجیٹل دُنیا کے خطرات اور بدلتے طرزِ زندگی جیسے چیلنجوں سے نمٹنے کے قابل بنانا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اَساتذہ کو جدید تربیت اور وسائل فراہم کئے جا رہے ہیں تاکہ وہ طلبأ کی شخصیت سازی میں مؤثر کردار اَدا کر سکیں اور انہیں زندگی کے مختلف چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لئے تیار کریں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ہر طالب علم منفرد صلاحیتوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور ہماری ذِمہ داری ہے کہ ان صلاحیتوں کو پہچان کر ان کی مناسب رہنمائی کی جائے۔ تعلیم کو محض مقابلہ آرائی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے خود شناسی، جذباتی توازن، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، تخلیقی سوچ اور تنقیدی فکر کو فروغ دینا چاہیے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں قومی تعلیمی پالیسی کا مقصد ایسے شہری تیار کرنا ہے جو تخلیقی، ذِمہ دار، اِختراعی، ہمدرد اور خود انحصار ہوں۔
اُنہوں نے ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن جموں کی جانب سے دس اضلاع میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے لئے آن لائن کلاسوں کے آغاز کو بھی سراہا اور کہا کہ اس سے دُور دراز علاقوں کے طالب علموں کو بھی معیاری تعلیم تک رَسائی حاصل ہوگی۔اُنہوں نے کہا کہ ان تمام کوششوں کی کامیابی کا پیمانہ طلبأ کا اعتماد اور خود انحصار جموں و کشمیر کی تعمیر میں ان کا کردار ہوگا۔ تعلیم کا مقصد پوری اِنسانیت کی فلاح ہے اور جموں و کشمیر اس عالمی مقصد میں اپنا اہم کردار اَدا کر رہا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ،’’تعلیم کا مقصد پوری اِنسانیت کی ترقی ہے۔ آج جموں و کشمیر اس عالمی کاوش میں اپنا اہم رول ادا کررہا ہے۔ یہاں اٹھایا گیا ہر مثبت قدم آنے والے برسوں میں لاکھوں بچوں کی زندگیوں کو تبدیل کر سکتا ہے۔ یہ اقدام حکومت، اساتذہ، والدین، صنعت اور معاشرے کے درمیان طویل مدتی تعاون کے جذبے کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ تمام شراکت داروںکو مل کر ایسا جموں و کشمیر تعمیر کرنا چاہیے جہاں ہر طالب علم خود کومحفوظ، عزت دار اور متاثر محسوس کرے، جہاں ہر اُستاد علم، ہمدردی اور لگن کے ذریعے اگلی نسل کی تعمیر کرے اور جہاں تعلیم تبدیلی، اعتماد، سماجی ہم آہنگی اور امید کا بنیادی ذریعہ بن جائے۔‘‘اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبأ اور ٹوبیکو فری ایجوکیشنل اِنسٹی چیوشن (ٹی او ایف اِی آئی) مہم کے فاتحین کو بھی اعزازات سے نوازاجبکہ زِندگی کی مہارتوں سے متعلق کئی کتابوں کی بھی رسم رونمائی اَنجام دِی گئی۔