سرینگر //بیرون ممالک اوربھارت کی مختلف ریاستوں سے جموں و کشمیر آنے والے 156افراد سمیت915کی رپورٹیں مثبت قرار دی گئی ہے۔ ان میں 288جموں صوبے جبکہ 627کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس دوران کشمیر میں مزید 5افراد وائرس سے فوت ہوگئے۔ پچھلے 24گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے 43 ہزار821ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے 915افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیںجن میں 288جموں جبکہ 627کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں ۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے627افراد میں 520افراد مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ سے متاثر ہوئے جبکہ بیرون ریاستوں اور ممالک سے کشمیر آنے والے 107افراد کو بھی وائرس سے متاثر پایا گیا ۔ کشمیر کے 627متاثرین میں سرینگر میں 362، بارہمولہ میں 111، بڈگام میں 27، پلوامہ میں15، کپوارہ میں 38، اننت ناگ میں 25، بانڈی پورہ میں 12، گاندربل میں 8، کولگام میں 15 اور شوپیان میں 14افراد وائرس میں ملوث پائے گئے۔ اتوار کو کشمیر میں مزید 5افراد وائرس سے فوت ہوگئے۔ مرنے والوں میں3سرینگر، ایک اننت ناگ اور ایک بڑگام سے تعلق رکھتا ہے۔ سرینگر کے 3متوفین میں نالہ بل نوشہرہ کا 55سالہ، آلوچی باغ کا 70، چھانہ پورہ کا 72سالہ شخص وائرس سے فوت ہوگیا ۔ چرارشریف بڈگام میں 74معمر شخص اورگوپال پورہ اننت ناگ میں کا 40سالہ نوجوان بھی وائرس سے فوت ہوگیا ۔ کشمیر صوبے میں متوفین کی تعداد 1282ہوگئی ہے جبکہ یہاں ابتک متاثرین کا ہندسہ 83ہزار پار کرکے 83ہزار 187تک پہنچ گئی۔ جموں صوبے میں بھی اتوار کو 288افراد وائرس سے متاثر ہوئے جن میں 239مقامی سطح پر جبکہ 49 بیرون ریاستوں اور ممالک سے جموں پہنچے ہیں۔ جموں صوبے کے 288متاثرین میں 192ضلع جموں، ادھمپور میں 3، راجوری میں 4، ڈوڈہ میں 8، کٹھوعہ میں 11، کشتواڑ میں 0، پونچھ میں 8، رام بن میں 3، سانبہ میں11 اورریاسی میں 48افراد کی رپورٹیں مثبت پائی گئی۔ جموں میں متاثرین کی مجموعی تعداد 55ہزار کا ہندسہ پار کرکے 55203تک پہنچ گئی جبکہ یہاں ابتک 752وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔
۔10ویں سے 12ویں تک سکولوں کی چھٹیاں بڑھا دی گئیں
بلال فرقانی
سرینگر// جموں کشمیر حکومت نے اتوار کو10ویں سے12ویں جماعت تک کورونا وائرس کے کیسوں میں اضافے کے پیش نظر اسکولوںکی چھٹیاں مزید ایک ہفتے تک بڑھا کر اس میں18اپریل تک توسیع کی ہے۔لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا کے آفس نے اتوار کو ٹیویٹ میں اس بات کی جانکاری دی۔ بعد میں سرکار کی جانب سے باضابطہ طور پر ایک حکم نامہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ فائنانشل کمشنر صحت،انتظامی سیکریٹری محکمہ اسکول،صوبائی کمشنر کشمیر اور جموں کے علاوہ دیگر افسراں نے جموں کشمیر میں کورونا صورتحال کا تازہ ترین جائزہ لیا۔17-JK(DMRRR) of 2021کے تحت جاری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ جائزہ میٹنگ کے دوران ’’جموں کشمیر میں کورونا پھیلائو کی مجموعی صورتحال اور روزانہ کی بنیادوں پر کچھ اضلاع میںمثبت کیسوں کی تعداد میں اضافے کے رجحان کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ حکم نامہ میں کہا گیا کہ ریاستی ایگزکیٹو کمیٹی نے آفات سماویٰ منیجمنٹ قانون مجریہ2005کی دفعہ25کے تحت حاصل اختیارات کی رو سے ، جموں کشمیر میں تمام اسکول(بشمول12جماعت تک) مزید ایک ہفتے تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔سرکاری حکم نامہ میں کہا گیا’’ اس بات کو واضح کیا جاتا ہے کہ اس عرصے میںکسی بھی طرح کے پہلے سے طے شدہ امتحانات کے انعقاد کو منسوخ نہیں کیا گیا ہے۔تاہم کورونا وائرس سے متعلق تمام ضوابط اور جسمانی فیصلہ کے علاوہ سینٹی ٹائزیشن کا خیال رکھا جائے۔اس سے قبل ، 4 اپریل کو اول تا 9ویں جماعت کے اسکول دو ہفتوں کیلئے اور 10 ویںسے 12 ویں جماعت تک کے اسکول ایک ہفتے تک درس و تردریس کیلئے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ لیکن اب سبھی کلاسز 18اپریل تک بند رہیں گے۔
۔10دنوں میں سرگرم معاملات میں164فیصد اضافہ | کشمیر میں تعداد 5000کے پار،271زیر علاج
پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیر میں پچھلے 10دنوں کے دوران سرگرم معاملات میں 164فیصد اضافہ ہوا ہے ۔یکم اپریل کو جموں و کشمیر میں سرگرم معاملات کی تعداد 2874 تھی جو 10دنوں کے اندر بڑھکر 7335تک پہنچ گئی ہے۔کشمیر میں سرگرم معاملات کی تعداد 5000کا ہندسہ پار کرکے5003ہوگئی ہے ۔کشمیر میں یکم اپریل کو سرگرم معاملات کی تعداد2150تھی جس میں 10دنوں کے دوران 2853متاثرین کا اضافہ ہوا اور یہ تعداد5003تک پہنچ گئی۔ کشمیر میں 5003سرگرم معاملات میں سرینگر میں 2709، بارہمولہ میں 837، بڈگام میں 382، پلوامی میں175، کپوارہ میں 190، اننت ناگ میں 97، بانڈی پورہ میں 127، گاندربل میں 80، کولگام میں 235 اور شوپیان میں 71افراد زیر علاج ہیں۔5003سرگرمعاملات میں 271مریض مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں جن میں 181کو سانس لینے کیلئے آکسیجن کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ جموں صوبے میں سرگرم معاملات کی تعداد1608متاثرین کا اضافہ ہوا ہے۔ جموں صوبے میں یکم اپریل کو 724سرگرم معاملات تھے جو 1608متاثرین کے اضافہ کے ساتھ 2332تک پہنچ گئے۔ ان میں ضلع جموں میں 1430، ادھمپور میں225، راجوری میں 62، ڈوڈہ میں 45، کٹھوعہ میں113، سانبہ میں78، کشتواڑ میں 31، پونچھ میں 43، رام بن میں 16 اور ریاسی میں 289افراد زیر علاج ہیں۔
ملک میں سرگرم معاملات کی تعداد 11لاکھ سے پار | ریکارڈ 1لاکھ53ہزارکا اضافہ، 839فوت
یو این آئی
نئی دلی //بھارت میںاتوار کو مثبت آنے والے کیسوں کا نیا ریکارڈ قائم ہوا۔اتوار کی صبح تک پچھلے 24گھنٹوں کے دوران1لاکھ 52 ہزار 839 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں ۔ اسطرح ملک میں ابتک متاثرین کی مجموعی تعداد 1کروڑ 33لاکھ 58ہزار 805تک پہنچ گئی جبکہ سرگرم معاملات کی تعداد پہلی مرتبہ 11لاکھ کا ہندسہ پار کرگئی ہے۔ مرکزی وزارت صحت کی جانب سے اتوا ر کو جاری کئے گئے اعداد وشمار میں بتاگیا ہے کہ وائرس سے مزید 839افراد اپنی جان گنوچکے ہیں اور اسطرح متوفین کی تعداد 1لاکھ 69ہزار 275ہوگئی ہے۔ یہ تعداد 18اکتوبر 2020کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ متواتر طور پر 32ویں دن بھی کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوا اور سرگرم معاملات کی تعداد 11لاکھ 8ہزار 87ہوگئی ہے جو مجموعی متاثرین کا 8.29فیصد ہے جبکہ صحتیابی کی شرح میں مزید کم ہوکر 90.44ہوگئی۔ سرگرم معاملات کی تعداد 12فروری کو سب سے کم 1 لاکھ 35ہزار 926تھی جو 18ستمبر کو سب سے زیادہ 10 لاکھ 17ہزار 754تک پہنچ گیا تھا ۔ وائرس سے صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد ایک کروڑ 20لاکھ 81ہزار 443جبکہ اموات کی شرح کم ہوکر 1.27فیصد تھی۔ بھارت میں 7اگست کو 20لاکھ، 23اگست کو 30لاکھ، 5ستمبر کو 40لاکھ، 16ستمبر کو 50لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ ( آئی سی ایم آر) کے مطابق 10اپریل کو مجموعی طور پر 14لاکھ 12ہزار 47ٹیسٹ کئے گئے ۔ اس طرح ملک میں ابتک کل 25کروڑ 66لاکھ، 26ہزار 850ٹیسٹ ہوئے ہیں۔