بلال فرقانی
سرینگر //زلزلہ جیسے آفات کے سنگین نتائج کے اعتراف میں، اقوام متحدہ نے زلزلے کے متاثرین کی یاد میں بین الاقوامی دن قائم کیا ہے، جو ہر سال 29 اپریل کو منایا جاتا ہے، اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے آفات کے خطرے میں کمی (UNDRR) کو اس کے مشاہدے میں سہولت فراہم کرنے کا کام سونپا ہے۔زلزلے سب سے مہلک قدرتی خطرات میں سے ہیں، جو اکثر انتباہ کے بغیر آتے ہیں اور تباہ کن جانی نقصان اور دیرپا سماجی، معاشی اور نفسیاتی نقصان پہنچاتے ہیں۔ میانمار اور افغانستان جیسے ممالک میں حالیہ زلزلے اس بات کی واضح یاد دہانی ہیں کہ یہ واقعات کس طرح بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر سکتے ہیں، پوری کمیونٹیز کو بے گھر کر سکتے ہیں، اور زمین کے ہلنے سے بہت دیر تک نسلوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ان کا اثر شدید اور قابل پیمائش ہے۔ 1900 سے لے کر اب تک کم از کم 12 بڑے زلزلے آ چکے ہیں، جن میں سے ہر ایک میں 50,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ زلزلوں کے بھی خاطر خواہ معاشی نتائج ہوتے ہیں، جو کہ عالمی آفات کے نقصانات کا ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ بنتے ہیں اور حالیہ دہائیوں میں کھربوں ڈالر کا نقصان پہنچاتے ہیں۔ براہ راست تباہی کے علاوہ، وہ آگ، سونامی اور لینڈ سلائیڈنگ کو متحرک کر سکتے ہیں، جس سے مکانات، صحت، تعلیم اور معاش کو وسیع نقصان پہنچ سکتا ہے۔
زلزلے کا خطرہ زلزلہ زدہ علاقوں میں تیزی سے شہری کاری، کمزور یا پرانا انفراسٹرکچر، غربت، عدم مساوات، اور بلڈنگ کوڈز کا ناقص نفاذ جیسے عوامل سے ہوتا ہے ۔ جنرل اسمبلی نے پائیدار ترقی کے 2030 ایجنڈے کے لیے فریم ورک کی تجویز پیش کی کی ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ آفات کے خطرے کو سمجھنا، روک تھام اور تخفیف کو مضبوط بنانا، تیاریوں کو بہتر بنانا اور موثر ردعمل جانوں کے تحفظ اور 2030 تک پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے۔جموں و کشمیر میں اس تناظر میں اگر دیکھیں تو انتہائی مخدوش صورتحال نظر آتی ہے۔ 21برس قبل 2005 کا زلزلہ ابھی یادوں میں زندہ ہے جب شمالی کشمیر کے سرحدی دیہات میں بھاری تباہی ہوئی تھی۔اس قیامت خیز زلزلے، جو 8اکتوبر 2005کو صبح9بجکر 20منٹ پر آیا تھا، نے کچھ سکینڈوں میں 1,350 افراد کی جان لی اور 6,300 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔سب سے زیادہ متاثرہ علاقے تحصیل کرناہ اور اوڑی سیکٹروںکو ڈھانچوں کی تقریبا ًمکمل تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ تقریبا 37,600 عمارتوں کو نقصان پہنچا یا تباہ ہوئیں، بشمول مکانات اور بنیادی ڈھانچہ۔قریب 100بار آفٹر شاکس آئے اور وادی کے دیگر اضلاع میں بھی مکانوں میں دراڑیں پڑیں۔بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد حکومت نے نئے مکانوں کی تعمیر کے لئے سائنسی تکنیک اپنانے کی ہدایت کی لیکن اس پر عمل در آمد نہیں ہوا۔اتنا ہی نہیں کہ پورے جموں و کشمیر کو زلزلے کے سب سے کظر ناک زمرے میں رکھنے کے باوجود بھی بڑے بڑی عمارتوں، سکولوں، دفاتر، شاپنگ مالز کی تعمیر میں کوئی ضابطے نہیں اپنائے جارہے ہیں۔ماہرین ارضیات لگاتار خبردار کررہے ہیں کہ وادی میں کسی بھی وقت بہت بڑا زلزلہ آسکتا ہے لیکن حوصلہ افزا امر یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے زلزلے آنے سے زمین کے کمزور حصوں کی حرارت کم ہورہی ہے جس کی وجہ سے بڑے زلزلوں کے وقت میں فاصلہ بڑھ رہا ہے۔