بانہال// جموں سرینگر شاہراہ پر بٹوٹ کے ڈھلواس علاقے میں گزشتہ سال ایک پسی کی وجہ سے ڈھلواس کی بستی کے کم از کم چالیس مکان مکمل طور سے تباہ ہوئے ہیں اور تب سے ابتک نیشنل ہائے وے اتھارٹی آف انڈیا اور فورلین شاہراہ کی تعمیراتی کمپنی سے معاوضہ کی رقم ادا نہ کئے جانے خلاف ڈھلواس کے مقامی لوگ کئی بار احتجاجی مظاہرے کرچکے ہیں لیکن کسی پر کوئی اثر نہیں ہورہا ہے۔ یہاں پر سڑک کے کئی سو میٹر نکل گئے تھے جس کی وجہ سے شاہراہ کے اوپر آباد ڈھلواس کی تقریبا تمام بستی کے مکان منہدم ہوگئے لیکن ڈیڑھ سال کا عرصہ ہونے کو آیا لیکن متاثرین کے نقصانات کے معاوضے کی ادائیگی میں مسلسل اجکل کیا جارہا ہے اور اس بستی کے لوگ آج بھی اپنے رشتہ داروں یا پھر کرایہ کے کمروں پر رہنے پر مجبور ہیں ۔بے گھر ہوئے چالیس سے زائد رہائشی کنبوں سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین اور بچوں نے گزشتہ روز بھی شاہراہ پر احتجاجی مظاہرہ کرکے شاہراہ کے تعمیراتی کام کو کچھ وقت کیلئے روک دیا۔ احتجاجی مظاہرین تعمیراتی کمپنی اور نیشنل ہائے وے اتھارٹی آف انڈیا کے خلاف نعرے بلند کر رہے تھے اور تباہ ہوئے مکانوں کا معاوضہ واگذار کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔متاثرین کا کہنا ہے کہ پچھلے سال فروری سے اب تک تباہ ہوئے چالیس کے قریب مکانوں کا معاوضہ ادا نہیں کیا گیا ہے اور بے گھر ہوئے لوگ سخت مشکلات سے دوچار دربدرکی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے گھر لوگ ٹین کے شیڈوں، رشتہ داروں کے گھروں اور بعض کرایہ کے کمروں میں گذارہ کررہے ہیں اور گرمیوں اور سردیوں کے موسم کا دورانیہ بے گھر لوگوں کیلئے مزید مصائب لیکر آتا ہے۔ مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ڈھلواس پسی کے متاثرین کے نمائندے کئی بار ، نیشنل ہائے وے اتھارٹی آف انڈیا کے عہدیداروں اور ضلع انتظامیہ کے افسروں اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر رام بن، تحصیلدار بٹوٹ وغیرہ سے ملے لیکن معاملہ سلجھانے کے بجائے الجھا ہوا ہے۔