کورونا وائرس کی عالمگیر وبا نے زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کو اچھی طرح سمجھا دیا ہے۔سب کوحیات بے ثبات کی حقیقت معلوم ہو گئی ہے۔ہائے یہ ایام معدودات کتنے بے وقعت اور عارضی ہیں۔آج رمضان کی ہر گھڑی اور ایک ایک لمحہ اور منٹ اپنی رخصتی کی اطلاع اور پھر زندگی میں کبھی واپس نہ آنے کی خبر دے رہا ہے۔ افسوس انسان کتنا بد قسمت ہے جس کے جنازے کا تابوت محلے کی مسجد میں میں تیار رکھا تھا،جس کا کفن بھی بازار میں پہنچ چکا تھا جس کے دن گنے جاچکے تھے،جس کے غسل کا پانی زمین کی سوتوں میں پہنچ چکا تھا ،جس کو کندھا دینے والوں کے نام تک طے کیے جا چکے تھے، مدفن بھی متعین ہوچکا تھا لیکن وہ اب بھی لمبی آرزوؤں اور امیدوں کے سہارے غفلت کی نیند سو رہا تھا اور الف سنہ کے منصوبے بنائے جا رہا تھا۔
اونچی اونچی بلڈنگیں کھڑی کی جا رہی تھی ،شاندار محلات تعمیر کیے جارہے تھے جبکہ ادھر سے مقبرہ اور قبر کھودنے والوں کے نام بھی لکھے جا چکے تھے۔لاکھوں اور کروڑوں کی ڈیلیں کی جارہی تھیں جبکہ وہاں سے باب وراثت میں طے ہوچکا تھا کہ کس بیٹے کو کیا ملے گا۔سواریوں کے لیے عالیشان گاڑیاں خریدی جارہی تھی جب کے آخری سواری کا تابوت اسی محلے میں پڑا تھا۔دھرتی پر جینے والے غربت زدہ لاچار و بے بس کمزور و ناتواں کی صداؤں کو نظر انداز کیا جا رہا تھا لیکن کیا اسے معلوم تھا کہ کل اس کی صدا کو بھی جس وقت کہ اس کی میت کو قبرستان کی طرف لے جایا جا رہا ہوگا، زمین و آسمان میں کوئی سننے والا نہ ہوگا۔دولت کے زعم میں دکھی انسانیت کو کیڑے مکوڑوں کے نظر سے دیکھنے والے اس بات کو فراموش کیے بیٹھے تھے کہ کل ان کی حیثیت کیڑے مکوڑوں کی بھی نہیں ہوگی اور خود ان کی خوراک بن جائیں گے۔
آج سبھی ظالم و جابر خدائی قہر کے سامنے بے بس ہوچکے ہیں۔ہواؤں پر راج کرنے والے اب تازہ ہوا کے جھونکے کیلئے تڑپ رہے ہیں۔صبح شام انسانیت کے خون کے ساتھ ہولی کھیلنے والے خود موت کی قطار میں کھڑے پھٹی پھٹی آنکھوں سے ویرانی کا تماشہ دیکھ رہے ہیں۔جن کی صبح دہلی اور شام دبئی میں ہوا کرتی تھیں، ہوائی جہاز جن کے مسکن بن چکے تھے ،وہ جو عیش وعشرتوں کے پجاری ،ہوس کے غلام عزتوں کے سوداگربن گئے تھے،سبھی آج بے بس اور تھکے ماندہ نظر آرہے ہیں۔نوٹوں کی گنتی کرنے کے لئے بھی نوکر رکھنے والے آج خود غربت و فقیری کے خوف سے دہشت زدہ ہیں۔مفلوک الحال لوگوں سے سود اور بیاج ہتھیانے والوں کو آج خود اپنی معیشت اور معاش کی بقا کے لالے پڑے ہیں۔طاقت کے نشے میں مخمور بیس بیس گاڑیوں کے جلومیں فراٹے مارنے والے حکمران بھی مہینوں سے قید قفس میں موت کے ڈر سے سہمے ہوئے ہیں۔علم حکمت کے روح پرور نام پر چلنے والے جابجا نام نہاد تجارتی اڈے بھی خالی اور ویران ہیں۔سو ڈیڑھ سو سال سے سڑکوں پر دوڑنے والی بھاپ کی مشینوں کی دلالی کرنے والے آج کہیں دبک کر بیٹھے ہیں۔جدید تہذیب کے نام پر بے حیائی کا مظاہرہ کرنے والے بھی اپنے آخری انجام سے ترسیدہ ہیں۔فلک بوس عمارتیں نظروں کو چکاچوند کرنے والی حیرت انگیز تفریح گاہیں،دور جدیداورقدیم میں انسانی ہاتھوں سے بننے والی عجب صنعت گاہیں اور مصنوعات ساکت اور خاموش دیومالائی منظر پیش کر رہے ہیں۔فیکٹریوں ،کارخانوں، مشینوں کے دھویں سے متعفن فضائے کائنات نے طویل عرصہ کے بعد کچھ راحت کی سانس لی ہے۔دھرتی کے سینے کو چاک کرکے بنائی جانے والی شاہرائیں اربوں ٹنوں کا بوجھ ڈھونے والی آج سکون و عافیت کے چند لمحے گزار رہی ہیں۔رب العالمین کے بنائے گئے اس حیرت انگیز اور خوبصورت نظام کائنات میں بار بار مداخلت کرکے ماحولیات کو بگاڑنے اور اجاڑنے والے اب لرزیدہ ترسیدہ دکھ رہے ہیں۔
بھاپ کو ہی باپ سمجھنے والوں کو آج ایک معمولی سے جرثومے نے اوقات دکھلادی ہے۔اب بھی ارض و سماء، شمس و قمر، لیل و نہار، بادو بحر، صحرا و بیابان اور خود حضرت انسان میں ان کو خالق نظر نہ آیا تو ان کی آنکھوں کی پٹی خدا ہی اتار سکتا ہے ہے ،موت اور ازرائیل ہی کے ذریعہ ان کو دیدائے بینا مل سکتی ہے۔وہ لوگ جن کی آنکھیں اس عالمی وبا سے بھی نہ کھل سکیں، شاید ان کی آنکھیں جہنم کے کوڑوں سے ہی کھل پائیں گی۔خوش نصیب ہیں وہ انسان جو اس عالمی وباء سے جاگ گئے، جنہوں نے اپنے رب کو پہچان لیا۔ عظیم ہیں وہ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان لایا اور جان کر مان کر زندگی ان کی مرضیات پر قربان کر دی۔
خوش نصیبی سے توبہ کے لئے بہار کا موسم بھی حاضر ہے۔رحمتوں کے سمندر موجزن ہیں، بخششو ں کے دریا بہائے جارہے ہیں،ثواب کے سارے خزانوں کے منہ کھول دیے گئے ہیں۔ادھر دیکھو تو سہی ،جنت کے دروازے بھی وا کردیے گئے ہیں۔نوافل کو فرائض کا رتبہ دیا گیا۔فرائض کو ستر گناہ زیادہ درجہ دیا گیا۔قبولیت ِتوبہ کے اعلانات بار بار دہرائے جارہے ہیں۔کروڑوں لوگوں کو معافی اور دوزخ سے آزادی کے پروانے ہاتھوں میں تھمائے جارہے ہیں۔ایمان اور نورایمان کی شمعیں اہل ایمان کے دلوں میں فروزاں کی جارہی ہیں۔معرفت و خداشناسی کے طلبگار بہرامند کیے جارہے ہیں۔عشق و محبت کی وادی کے مسافر بس منزل مقصود پر پہنچا ہی چاہتے ہیں۔جہنم کے دروازے بند کیے جارہے ہیں۔مردود شیاطین کو زنجیروں میں جکڑا جارہاہے۔ہر سو خوشیوں کے نغمے گنگنائے جا رہے ہیں۔رحمت خداوندی کی چادر مومنوں کو ڈھانپے جا رہی ہے۔رب العالمین کی کبریائی کے ترانے میناروں سے بلند ہو رہے ہیں۔رب کے حضور سربسجود ہونے والے لوگ خوشی خوشی مست و نازاں چلے آرہے ہیں۔مدتوں سے غفلت کی نیند سوئے ہوئے لوگ آج رحمان و رحیم کی بارگاہ میں ندامت کے آنسوؤں سے زمین کو تر کر رہے ہیں ،روٹھے رب کو اپنی عجز و انکساری کے اعتراف اور نیازمندی سے منایا جارہا ہے۔بھوک اور پیاس کے باوجود اللہ کے خوف سے تنہائیوں میں بھی کھانے پینے سے ہاتھ رکے ہیں۔آنکھوں میں حیا لوٹ آئی ہے۔غیروں کی طرف نظر اٹھانے پر ضمیر بھی کچوکے مار رہا ہے۔ایمان و ایقان کی بہاریں تلاوت قرآن کے نغمے ذکر واوراد کی محفلیں موسم بہار کی رعنائیوں، چہچہاتے پرندوں کے سوز و ساز اور لہلہاتے سرسبز درختوں سے بھی زیادہ خوبصورت معلوم ہو رہے ہیں۔ہاں غریبوں کے دامن کو بھی بھرا جارہا ہے آج ناامیدوں کو بھی عنایات خداوندی سے نوازا جارہا ہے۔مایوسوں کوآس مل رہی ہے۔خود کو محروم القسمت سمجھنے والے بھی اپنے آپ کو خوش قسمت محسوس کر رہے ہیں۔
ہر کوئی ہے کہ رب کی طرف کھینچا چلا جارہا ہے ۔اس باغ و بہار سے بھی جو بدنصیب خالی دامن اور تہی دست لوٹے، یقینا پھر وہ جبریل امین کی ہلاکت کی بددعا ہی کا مستحق ٹھہرتا ہے جس پر کائنات انسانیت کی سب سے رحم دل شخصیت کی آمین کی مہر لگی ہوئی ہے۔
ہماری زبانیں شکر سے عاجز اور ہمتیں قاصر ہیں کہ اللہ کا شکر ادا کرسکیں جس نے رمضان کا مبارک فراہم کیا ۔بس اس کی قدردانی کا یہی طریقہ ہے کہ آخرت کو یاد کرکے کثرت سے تلاوت قرآن کا معمول اپنائیں ۔قبر کی تاریکی کو یاد کر کے رات کی تاریکیوں میں تہجد میں اور تراویح میں قرآن سنا اور پڑھا جائے۔ لا الہ الااللہ اور استغفار کی کثرت بارگاہ ایزدی میں جنت کی فریاداور عذاب دوزخ سے پناہ احادیث میں رمضان کے معمول بتلائے گئے ہیں، ان کو حرز جان بنا لیاجائے۔ ذکر و اذکار ،درودواوراداور زبان کو کسی بھی لمحے اللہ کی یادسے فارغ نہ رکھنا، دل کو دنیا کی طرف مائل نہ ہونے دینا ،نظر اور زبان کی حفاظت روزے کے مقاصد علیااور لعلکم تتقون کی تفسیر ہیں۔بس اسی راہ سے ہم اس خدائی قہر سے بچ سکتے ہیں۔
رابطہ: استاذ جامعہ عربیہ اشرف العلوم حیدرپورہ سرینگر کشمیر
موبائل نمبر:7006389921