راجوری//بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کے امریکی فیصلہ کے خلاف راجوری میں بعد نماز جمعہ احتجاجی مظاہرے اور ریلی نکالی گئی جس دوران امریکہ و اسرائیل کے خلاف شدیدنعرے بازی ہوئی ۔عیدگاہ جامع مسجد سے نماز جمعہ کے بعد علماء کرام کی قیادت میںریلی نکلی جس دوران نوجوانوں نے گوجر منڈی پہنچ کر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا پتلا نذر آتش کیا ۔اس موقعہ پر اسرائیل ،امریکہ اور ان کے اتحادیوں کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور فلسطینی مظلوموں کے حق میں نعرے بلند کئے گئے ۔مظاہرین نے کہاکہ امریکی صدر کا فیصلہ امت مسلمہ کے جذبات سے کھلواڑ کے مترادف ہے اور مسلمان ہر ایک ظلم برداشت کرسکتے ہیں لیکن وہ قبلہ اول کی حرمت پامال ہوتے نہیںدیکھ سکتے ۔انہوںنے کہاکہ اسلامک ممالک کی تنظیم او آئی سی نے اس حوالے سے سخت موقف اپنایاہے لیکن صرف زبانی نہیں بلکہ عملی سطح پر کچھ کردکھانے کی ضرورت ہے اور اسرائیل و امریکہ سے بیزاری کا اعلان کیاجائے ۔انہوںنے کہاکہ ہندوستانی حکومت بھی اس سلسلے میں اپنا موقف واضح کرے ۔قبل ازیں جمعہ خطبہ میں مولانا فاروق احمد نعیمی نقشبندی نے کہا کہ اسلام پرامن مذہب ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسلمانوں کا قتل عام جائز ہے اور اس پر مسلم قوم او بڑی طاقتیں خاموش بیٹھ جائیں ۔انہوںنے کہاکہ اسلام کے خلاف ہر ایک سازش کو ناکام بنادیاجائے گااور مسلم نوجوانوں کو پلٹ وار کرنے پر مجبور نہ کیاجائے ۔ان کاکہناتھاکہ مسلمان کل بھی بیت المقدس کو فلسطین کا دارالخلافہ مانتاتھا اور آج بھی وہ دارالخلافہ تسلیم کرتاہے اور قیامت تک یہ مقام فلسطین کا ہی دارالخلافہ رہے گا ۔ مولانا فاروق نعیمی نے کہاکہ اللہ کا وعدہ ہے تب تک قیامت نہیں آئے گی جب تک پورے عالم میں مسلمانوںکی قیادت نہ آجائے ۔مولانا نے کہاکہ جب سے ہندوستان میں مودی سرکار اقتدار میں آئی ہے تب سے یکے بعد دیگر بے قصور وبے گناہ نہتے مسلمانوں کو قتل کیا جارہا ہے لیکن حکومت نے چپ سادھ رکھی ہے اور وہ شرپسندوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کررہی ۔انہوںنے کہاکہ یہ سب کچھ آر ایس ایس کے اشاروں پر ہورہاہے لیکن ایسے واقعات ملک کی سلامتی کیلئے خطرناک ہیں ۔ان کاکہناتھاکہ ہندوستان کی آزادی میں سب سے زیادہ خون مسلمانوں کا بہا ہے اور یہ کسی کے باپ کی جاگیر نہیں بلکہ جتنا حق یہاں ایک ہندو کا ہے اتنا ہی حق ایک مسلمان کا بھی ہے اسلئے راجستھان واقعہ جیسے تمام واقعات کا سختی سے نوٹس لیاجاناچاہئے اور مسلمانوںکو پس دیوار کرنے کی کوششیں نہ کی جائیں ورنہ سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔ مولانانے جموں میں مسلمان بستیوں کو نشانہ بنانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وزیر جنگلات کی ایما پر مسلم بستیوں کو مسمار کیاجارہاہے ۔انہوںنے کہاکہ لعل سنگھ کا بلڈوزور صرف مسلمان بستیوں پر ہی چلتا ہے اور انہیں کہیں اور غیر قانونی تجاوزات نظر نہیں آتی ۔ان کاکہناتھا’’ لعل سنگھ سن لے ،یہ قیادت صداتیرے پاس بھی نہیں رہے گی اور جب بھی ظلم اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو انقلاب آتا ہے اسلئے اپنے ظلم کے ہاتھ روک لے اور بیجامسلمانوں کوجموں صوبہ میں پریشان کرنا چھوڑ دے ‘‘۔
ٹرمپ کے فیصلہ کی مذمت
حسین محتشم
پونچھ//امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کوغیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے امام جمعہ وجماعت علی جامع مسجد پونچھ مولانا سجاد حیدر قمی نے کہا کہ دنیا بھر کے ممالک کی اس درخواست کے باوجود کہ تاریخی شہر یروشلم کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل نہ کیا جائے، امریکہ نے ایسا اقدام کردیا جس سے اس کی مسلم دشمنی کھل کر سامنے آگئی ۔انہوںنے کہاکہ اس فیصلے سے مشرقِ وسطیٰ میں امن کو شدید دھچکا لگا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ یہ مسئلہ اسرائیلوں اورفلسطینیوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کے ذریعے حل ہوناچاہئے تھالیکن ٹرمپ نے بلاجواز اور غیر ذمہ دارانہ اقدام کرتے ہوئے فلسطینی مظلوموں کے حقوق پر شب خون ماراہے ۔انہوں نے کہاکہ امریکہ کی جانب سے اشتعال انگیزاورناعاقبت اندیش فیصلہ مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ ہے اوراس سے کشیدگی میں اضافہ ہوگا ۔انہوں نے تمام مسلمانوں کوبیت المقدس کے تحفظ کے لئے آواز بلند کی اپیل کی۔