جموں و کشمیر یو ٹی میں اس وقت بیس اضلاع ہیں۔یوٹی بننے سے قبل یہ بائیس ہوتے تھے۔ لداخ یو ٹی الگ بننے کے بعد ان کی تعداد بیس رہ گئی ہے۔ماضی میں جموں وکشمیر کے مختلف علاقہ میں ضلع کے درجے کیلئے عوام نے کئی احتجاج کئے اور آج بھی یہ عوام اپنے دل میں ضلع کا درجہ ملنے کی امید لگائے بیٹھی ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ضلع کا درجہ ملنے کے بعد کسی بھی علاقہ جات کا ترقیاتی منظر نامہ تبدیل ہوجاتا ہے اور ترقی کی رفتاربھی تیز ہوجاتی ہے۔ جموں و کشمیر میں قدرتی خوبصورتی کی کوئی کمی نہیں ہے اور صوبہ جموں کی وادی چناب بھی اپنی خوبصورتی کیلئے جانی جاتی ہے۔ایک عرصہ سے وادی چناب کے بھلیسہ کی عوام پہاڑی ضلع کے درجے کے منتظر ہیں اور اس سلسلے میں یہاں کی عوا م نے کئی بار اپنی آواز بھی بلند کی ہے۔لیکن وہ آج بھی حکومت کے فیصلہ کی منتظر ہے۔بھلیسہ کو پہاڑی ضلع کا درجہ دیا جانا ایک دیرینہ مطالبہ ہے اور یہاں کی عوام بشمول سیاسی لیڈران منتظر ہیں کہ اس سلسلہ میں کوئی خوشی کی خبر آ جائے۔اس مانگ کو لے کر بھلیسہ کے کئی وفود چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا سے ملاقات بھی کر چکے ہیں۔ کئی سماجی و سیاسی کارکنان نے بھی اس سلسلہ میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ بھلیسہ صوبہ جموں سے 240 کلومیٹر کی دوری پر ہے جبکہ ضلع ہیڈ کوارٹر ڈوڈہ سے لگ بھگ 70 کلومیٹر کی دوری پر ہے۔اس کی آبادی تقریبا ًڈیڑھ لاکھ افراد پر مشتمل ہے جبکہ بھلیسہ میں تین تحصیلیں،گیارہ نیابتیں ہیں۔305ا سکول دو زونل ایجوکیشن آفس، ایک کالج اور ایک آئی ٹی آئی کالج بھی موجود ہے۔رقبے کے لحاظ سے بھلیسہ ایک بڑا علاقہ ہے۔اس کا صدر مقام گندو ایک اسپیشل سب ڈویژن کی حیثیت رکھتا ہے۔پہاڑی علاقہ ہونے کے باوجود صدر مقام گندوسے چانسر 25 کلومیٹر کی دوری پر ہے۔جبکہ گندو سے راجپورہ بیس کلومیٹر کی دوری پر ہے۔اس سلسلے میں سماجی کارکن یونس ملک نے بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا پہاڑی علاقہ بھلیسہ اپنی خوبصورتی کے لیے مشہور ہے۔ پہاڑی علاقہ ہونے کے باوجود ضلع ہیڈ کوارٹر کا دور ہونا لوگوں کے لیے مشکلات کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ ہر چھوٹے و بڑے کام کے لیے ہیڈ کوارٹر ڈوڈہ پہنچنے میں انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلع ہیڈکوارٹر دور ہونے کی وجہ سے کووِیڈ۔19کے دوران لگائے گئے لاک ڈاؤن کے ایام میں جس قدر بھلیسہ کے پہاڑی علاقہ کے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، وہ قابل افسوس ہے۔انہوں نے مزیدکہا کہ ا سپیشل سب ڈویژن ہونے کے باوجود بھی سو فیصد کام ضلع ہیڈکوارٹر ڈوڈہ سے انجام دینے پڑتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بھلیسہ کو پہاڑی ضلع کا درجہ دینا حکومت کیلئے اولین ترجیح ہونی چاہئے۔یونس ملک نے بتایا کہ پہاڑی ضلع ملنے سے لوگوں کی مشکلات کا ازالہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جس قدر پہاڑی علاقہ میں بسنے والے گجر طبقے کے لوگوں کو لاک ڈاؤن کے ایام کے علاوہ بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ تمام مشکلات پہاڑی ضلع کے ملتے ہی ختم ہوسکتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب ہم نے سرپنچ پنچائت بھلیسہ اے دانش ملک سے بات کی تو انہوں نے بتایا بھلیسہ پہاڑی ضلع کا حقدار ہے کیوں کہ یہاں سینکڑوں اسکولوں کے ساتھ ساتھ ڈگری کالج،تحصیلیں اور نیابتیں بھی موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیڑھ لاکھ آبادی ہونے کے باوجود بھی ضلع کا درجہ نہ دینے کی عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے سامنے بھی اس مدعے کو رکھا گیا تھا جس میں انہوں نے پوری یقین دہانی دلائی تھی کہ آنے والے وقت میں بھلیسہ کو پہاڑی ضلع کا درجہ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں جب ہم نے ضلع ترقیاتی کونسل معراج ملک سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ بھلیسہ کی عوام عرصہ دراز سے پہاڑی ضلع کا خواب دیکھ رہی ہے۔لیکن حکومت نے آج تک بھلیسہ کی اس ضرورت مند مانگ کو نظر انداز کیاہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں اس قدر غریب اور پسماندہ لوگ رہتے ہیں جن کا ہر روز ضلع ہیڈ کوارٹر تک پہنچنا مشکلات کا باعث بنتا جا رہا ہے۔کیونکہ بھلیسہ سے ڈوڈہ تک پچاس کلومیٹر کا سفر کرنے کے بعد بھی جب غریب عوام کا کام نہیں ہوتا ہے تو ان کی مشکلات اور بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ اگرچہ یہاں پہاڑی ضلع کا درجہ دیا جاتا تو یہاں پر بے روزگاری کا بھی خاتمہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ بھلیسہ خوبصورتی کے لیے مانا جاتا ہے لیکن یہاں ضلع کا درجہ دینا ناگزیر ہے۔ اس سلسلے میں جب ماسٹر ایوب زرگر سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ پہاڑی ضلع کا ہونا از حد ضروری ہے۔ ضلع کا درجہ ملنے سے یہاں کی سڑکیں، پانی اور اسکولوں کی حالت کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھلیسہ کے سڑکوں کی حالت انتہائی ابتر ہے جبکہ آخری امید یہ ہے کہ پہاڑی ضلع کا درجہ ملنے سے ان سڑکوں کی حالت بھی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ لاک ڈاؤن کے ایام میں ملازمین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑااور اگر یہاں ضلع صدر مقام ہوتا تو عوامی مشکلات میں کسی حد تک کمی ہو سکتی تھی۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے ایام میں گاڑیوں کا بند ہونا ایک عام سا سلسلہ تھاجہاں لوگوں کو ضلع صدر مقام تک اپنے کاموں کیلئے پہنچنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔
اس سلسلے میں ضلع ترقیاتی کونسل ممبربھلیسہ ندیم شریف نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بے روزگاری آسمان کو چھو رہی ہے۔جبکہ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں قدرتی وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے اور ان وسائل سے بھلیسہ کے لوگ ہی نہیں بلکہ پورے جموں کشمیر کے لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر بھلیسہ کو پہاڑی ضلع کا درجہ دیا جاتا تو شاید یہاں کے خوبصورت مقامات کو بھی ایک نیا رنگ دیا جاسکتا، جس سے یہاں کی بے روزگاری میں بھی کمی واقع ہوتی۔اس سلسلے میں جب ہم نے بی ڈی سی ممبرکاہرہ فاطمہ بیگم سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ بے روزگاری عام ہوچکی ہے۔ یہاں کے اکثر لوگ زمیندار اور مال مویشی پال کر اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے ایام میں تمام کاروباری ادارے بند رہنے کی وجہ سے بھلیسہ سے تعلق رکھنے والے تمام مزدوروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اورمزدوری نہ ملنے کی وجہ سے فاقہ کشی کی صورتحال کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ انہوں نے مزید کہاکہ اگر یہاں ضلع کا درجہ دیا جائے تو عوامی مشکلات کا بروقت ازالہ ہو سکتا ہے۔
عوامی خواہشات اور زمینی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے برسر اقتدار حکومت کو چاہئے کہ یہاں کی عوام کے دیرینہ مطالبے کو پورا کیا جائے تاکہ ترقیاتی منظر نامے کی رفتار مزید بہتر ہو سکے۔جب لوگوں کو گھر کے قریب روزگار اور تمام سہولیات میسئرہوگی تو علاقہ کی ترقی کو بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ملک کے اس دور دراز علاقے کو ترقی کی رفتار سے جوڑنے کے لئے یہی فارمولہ انتہائی درست ثابت ہوگا۔
(ڈوڈہ، جموں)