باغبانوں کا وزیراعظم کو مکتوب ،صنعت بچانے کی اپیل
سرینگر//بھارت امریکہ مجوزہ تجارتی معاہدے کے تناظر میں، جس کے تحت امریکی تازہ پھلوں بالخصوص سیب پر درآمدی ڈیوٹی میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، کشمیر کے سیب پیدا کرنے والے سخت تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ اس خدشے کے پیش نظر کشمیر ویلی فروٹ گروورز کم ڈیلرز یونین نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو ایک تفصیلی خط ارسال کرتے ہوئے امریکی اور یورپی ممالک سے درآمد ہونے والے سیب پر 100 فیصد سے زائد کسٹم ڈیوٹی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔یونین کے چیئرمین بشیر احمد بشیر کی جانب سے بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکی سیبوں پر کم درآمدی ٹیکس مقامی باغبانی صنعت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
خط میں واضح کیا گیا ہے کہ کشمیر، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کے سیب پیدا کرنے والے پہلے ہی بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، غیر متوقع موسمی حالات، کیڑوں کی بیماریوں اور ٹرانسپورٹ کے مسائل سے دوچار ہیں۔چیئرمین نے خط میں لکھا کہ کشمیر وادی کی معیشت کا بنیادی ستون باغبانی ہے اور سات لاکھ سے زائد خاندان براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اسی صنعت پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باغبانوں کی روزی روٹی، بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ اور دیگر گھریلو ضروریات مکمل طور پر سیب کی صنعت سے وابستہ ہیں۔خط میں فری ٹریڈ ایگریمنٹ (FTA) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ماضی میں نیوزی لینڈ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت درآمدی ڈیوٹی کو 50 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کیا گیا، تاہم اس سے مقامی فروٹ انڈسٹری کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچا۔ بشیر احمد بشیر نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ کبھی ایران اور کبھی امریکہ و دیگر ممالک سے سیب کی درآمد مقامی منڈیوں میں قیمتوں کو متاثر کرتی ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان چھوٹے اور درمیانے درجے کے باغبانوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکی اور یورپی سیب سستے داموں دستیاب ہوں گے تو تاجر قدرتی طور پر انہیں ترجیح دیں گے، جس سے کشمیری سیب کی مانگ اور قیمت میں زبردست کمی آئے گی۔خط کے اختتام پر یونین نے وزیرِ اعظم سے اپیل کی کہ وہ ملکی باغبانی صنعت کے تحفظ کے لیے فوری مداخلت کریں اور غیر ملکی سیبوں پر 100فیصد سے زائد درآمدی ڈیوٹی نافذ کریں۔