شہباز رشید بہورو
تعلیم کا مقصد محض اچھے امتحانی نتائج یا اعلیٰ پیشہ ورانہ کامیابیوں تک محدود نہیں بلکہ ایسے انسانوں کی تعمیر ہے جو علم کے ساتھ اعلیٰ کردار، انسان دوستی، ذمہ داری اور ثابت قدمی جیسی صفات سے بھی آراستہ ہوں۔ اسی فکر کو فروغ دینے کے لیے کشمیر کیئر فاؤنڈیشن (KCF) نے 30 مئی اور 27 جون کو “بچوں میں علمی ترفع اور تعمیرِ انسانیت” کے موضوع پر دو اہم علمی نشستوں کا انعقاد کیا، جن میں والدین، اساتذہ، طلبہ اور اسکالرز نے شرکت کی۔
ان نشستوں کی بنیاد KCF کے اس منفرد تصور ’’مشفقانہ تربیتی ماحول‘‘ پر تھی، جس کے مطابق بچے کی حقیقی نشوونما خاندان، اسکول، سرپرست اور معاشرے کے باہمی تعاون اور مثبت تعامل سے ممکن ہوتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت مختلف طبقات کو ایک مشترکہ مکالمے میں شریک کیا گیا تاکہ ان کے تجربات، مشاہدات اور آراء سے رہنمائی حاصل کی جا سکے۔
گفتگو کا آغاز اس بنیادی نکتے سے ہوا کہ تعلیمی اداروں کی کامیابی صرف اعلیٰ تعلیمی نتائج سے نہیں ناپی جا سکتی بلکہ ایسے اولوالعزم اور باحوصلہ نوجوان تیار کرنا ان کی اصل ذمہ داری ہے جو زندگی کے نشیب و فراز کا اعتماد اور ثابت قدمی کے ساتھ سامنا کر سکیں۔ اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ والدین کی حد سے زیادہ فکرمندی اور غیر محسوس توقعات اکثر بچوں پر نفسیاتی دباؤ کا باعث بن جاتی ہیں۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کی تعلیم و تربیت صرف اسکول یا اساتذہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ والدین کو بھی اپنی ذمہ داری پوری دیانت داری اور سرگرمی کے ساتھ ادا کرنی چاہیے۔ والدین اگر خود کو اس عمل سے الگ کر کے محض خاموش تماشائی بن جائیں تو تربیت کا عمل ادھورا رہ جاتا ہے۔
آج کے بچے بیک وقت کئی طرح کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ تعلیمی بوجھ، سماجی موازنہ، غیر نصابی سرگرمیوں میں کامیابی کی دوڑ اور معاشرتی معیار ان کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی تخلیقی صلاحیت اور انفرادیت متاثر ہوتی ہے۔ اسی لیے نشستوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ والدین بچوں کو صرف ڈاکٹر یا انجینئر بنانے کی سوچ تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں کامیابی کے متنوع مواقع سے روشناس کرائیں۔ اسی طرح بچوں کا دوسروں سے موازنہ کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے کہا گیا کہ والدین کی اولین ترجیح بچوں کی کردار سازی ہونی چاہیے، نہ کہ صرف زیادہ نمبر حاصل کرنا۔
مشفقانہ تربیتی ماحول کی عملی مثال گھروں میں آبا و اجداد اور اسلاف کی کہانیوں میں موجود ہے۔ والدین اگر روزانہ چند منٹ بچوں کے ساتھ چہل قدمی کریں، خوشگوار گفتگو کریں اور ہنسی مذاق میں وقت گزاریں تو باہمی اعتماد مضبوط ہوتا ہے اور نسلوں کے درمیان فاصلے کم ہوتے ہیں۔
صحت اور منشیات سے تحفظ کے موضوع پر نشستوں میں اس امر پر خصوصی توجہ دی گئی کہ والدین کی خاموشی بچوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ بچوں سے کھل کر گفتگو کرنا، انہیں درست معلومات فراہم کرنا اور خود بھی اس حوالے سے مؤثر طریقۂ کار سے آگاہ رہنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی طرح والدین اور اساتذہ کو بچوں میں گمراہی کی ابتدائی علامات پہچاننے کی صلاحیت بھی پیدا کرنی چاہیے تاکہ بروقت رہنمائی ممکن ہو سکے۔
نشستوں میں فطرت کو بھی تعلیم کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا گیا۔ ’’ہماری یونیورسٹی‘‘ کے تصور کے مطابق فطرت سے قربت، اس کے مشاہدے اور ماہرین کے تجربات سے استفادہ بچوں کی ہمہ جہت تعلیمی ترقی، حساسیت، ذمہ داری اور فطرت سے ہم آہنگی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
حقیقی کامیابی کے تصور پر گفتگو کرتے ہوئے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایک طالب علم کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ کامیابی اسی وقت بامعنی ہوتی ہے جب وہ انسانیت، رحم دلی، صبر اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سے جڑی ہو۔ اسی لیے جذباتی ذہانت، جس میں ہمدردی، نظم و ضبط، ثابت قدمی اور دیانت داری شامل ہیں، کو محض ذہانت (IQ) سے زیادہ اہم قرار دیا گیا۔ کامیابی کا اصل حسن عاجزی، خدمتِ خلق اور انکساری میں ہے، نہ کہ غرور اور تفاخر میں۔
اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا گیا کہ بیرونی تربیت کے ساتھ اندرونی تحریک، دلچسپی اور سچی خواہش بھی کامیابی کے لیے ناگزیر ہیں۔ جذباتی توازن، خود احتسابی اور نظم و ضبط انسان کو بے جا گھر سے لگاؤ (Homesickness)، مشکلات اور غیر یقینی حالات کا سامنا کرنے کے قابل بناتے ہیں، جبکہ ثابت قدمی ہر مشکل میں آگے بڑھنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ اسی طرح استاد اور والدین کی مؤثر رہنمائی (Mentorship) بچوں میں دوراندیشی، عقلمندی اور اعتماد پیدا کرتی ہے۔
ڈیجیٹل لت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ اس سے بچاؤ کا آغاز گھر سے ہونا چاہیے، کیونکہ بچے سب سے پہلے اپنے والدین اور بزرگوں کے طرزِ عمل سے سیکھتے ہیں۔ اسی طرح شکرگزاری، تدبر اور تفکر جیسی صفات بھی صرف نصیحت سے نہیں بلکہ عملی نمونے سے پیدا ہوتی ہیں۔
منشیات کے حوالے سے یہ اہم نکتہ بھی سامنے آیا کہ اس کی لت کو محض اخلاقی کمزوری یا برتاؤ کا مسئلہ نہ سمجھا جائے بلکہ ایک باقاعدہ طبی عارضہ تصور کرتے ہوئے اس کا مناسب علاج کیا جائے۔
نشستوں کا اختتام اس جامع پیغام پر ہوا کہ ناکامی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ نئے عزم، بہتر حکمتِ عملی اور مؤثر رہنمائی کے ساتھ دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کا موقع ہے۔ کامیابی کا کوئی مختصر راستہ نہیں ہوتا؛ یکسوئی، محنت، لگن اور مسلسل خود احتسابی ہی ترقی کی بنیاد ہیں۔ اسی طرح طالب علمی کو ایک کل وقتی ذمہ داری سمجھنا چاہیے، جس کا مقصد علم کو مسلسل اور مرحلہ وار حاصل کرتے ہوئے تعلیم کی مختلف منازل طے کرنا ہے۔
یہ دونوں علمی نشستیں اس حقیقت کی بھرپور ترجمان ہیں کہ اگر تعلیم کو انسانی اقدار، کردار سازی، جذباتی ذہانت، والدین کی فعال شمولیت، اساتذہ کی رہنمائی، فطرت سے وابستگی اور مشفقانہ تربیتی ماحول کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو ایسی نسل تیار کی جا سکتی ہے جو نہ صرف علمی اعتبار سے ممتاز ہو بلکہ انسانیت کی خدمت اور اخلاقی عظمت کی بھی روشن مثال بنے۔