عاقب سلام
سرینگر// بٹہ مالو کے علاقے شاہ فیصل آباد کے رہائشیوں نے ایک مقامی کمیونٹی ہال سے اٹھنے والی بڑھتی ہوئی دھوئیں کی آلودگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مناسب دھواں نکاسی کے نظام اور حفاظتی انتظامات کی عدم موجودگی کی وجہ سے علاقے کے متعدد گھرانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔یہ کمیونٹی ہال بنیادی طور پر شادی بیاہ، عوامی اجتماعات اور سماجی تقریبات کے لیے استعمال ہوتا ہے، جہاں شادیوں کے دوران روایتی وازوان کھانوں کی بڑی مقدار میں تیاری کی جاتی ہے۔ مقامی افراد کے مطابق کھانا لکڑی کے ایندھن پر پکایا جاتا ہے، جس سے گاڑھا دھواں پیدا ہو کر گنجان آبادی والے رہائشی علاقے میں پھیل جاتا ہے۔ایک مقامی باشندے مولوی حبیب اللہ نے کہا، ’’شادیوں کا موسم اپنے عروج پر ہے اور عید کے بعد مزید بڑھنے کی توقع ہے، جس کی وجہ سے ہمارے لیے حالات ناقابلِ برداشت ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا، ’’یہاں کوئی مناسب چمنی یا وینٹی لیشن سسٹم موجود نہیں ہے۔ دھواں صبح سے شام دیر تک براہِ راست ہمارے گھروں میں داخل ہوتا رہتا ہے۔‘‘حبیب اللہ کے مطابق ان کے گھر کا ایک فرد آکسیجن سپورٹ پر ہے اور خراب فضائی معیار کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا،’’میں خود بھی عمر رسیدہ ہوں اور بیمار رہتا ہوں۔ جن مریضوں کو صاف ہوا کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ دھواں گھٹن پیدا کرتا ہے اور سانس کی بیماریوں کو بڑھا دیتا ہے۔‘‘ہال کے قریب رہنے والے دیگر افراد نے بتایا کہ انہیں اکثر آنکھوں میں جلن اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ کھانا پکانے کی جگہ پر نہ تو اونچی حفاظتی دیواریں ہیں اور نہ ہی کوئی بند ڈھانچہ، جس کی وجہ سے دھواں آسانی سے قریبی گھروں میں داخل ہو جاتا ہے۔ایک اور مقامی رہائشی نے کہا،’’ذرا تصور کریں کہ ہر صبح کمرے دھوئیں سے بھرے ہوں۔ بچے، خاص طور پر نوزائیدہ، شدید سانس کے مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ بعض اوقات ہم اپنے گھروں میں مہمانوں کی میزبانی بھی نہیں کر سکتے کیونکہ ماحول ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔‘‘مقامی لوگوں کے مطابق یہ مسئلہ کافی عرصے سے جاری ہے لیکن شادیوں کے موسم میں اس کی شدت بڑھ جاتی ہے جب تقریباً روزانہ تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہال اردگرد کے علاقوں کے لوگ بھی استعمال کرتے ہیں جہاں ایسی سہولیات موجود نہیں، جس سے تقریبات کی تعداد مزید بڑھ جاتی ہے۔رہائشیوں نے کہا،’’ہم پہلے ہی شادیوں کے دوران ٹریفک جام اور دیگر مشکلات برداشت کر رہے ہیں، لیکن دھوئیں کا یہ مسئلہ عوامی صحت کے لیے خطرناک ہے۔‘‘انہوں نے سری نگر میونسپل کارپوریشن سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے اور دھوئیں کو اوپر کی جانب خارج کرنے کے لیے مناسب چمنی نما نظام نصب کرے تاکہ رہائشی علاقوں کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ہال کے کچن حصے کے گرد اونچی حفاظتی دیواریں تعمیر کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔رابطہ کرنے پر سری نگر میونسپل کارپوریشن کے کمشنر سے اس معاملے پر متعدد کوششوں کے باوجود بات نہیں ہو سکی۔