سوپور// سوپور کے وسیع علاقہ زینہ گیر کے دیہات بوٹنگو میں مکمل شدہ پرائمری ہیلتھ سینٹر کی نئی عمارت کو محکمہ صحت کوسونپے نہ جانے پر مقامی لوگ کافی برہم ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر چہ گزشتہ 14 برسوں سے زیر تعمیر نئی بلڈنگ گزشتہ سال مکمل ہوئی مگر نامعلوم وجوہات کے بنا ء پر اسے ابھی تک محکمہ صحت کو نہیں سونپاگیا، جبکہ لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔اس بارے میں علاقہ زینہ گیر کے ایک سماجی کارکن عرفان دلاور بٹ نے کشمیر اعظمیٰ کو بتایا اگر چہ عمارت کو مکمل ہوئے برسوں گزر چکے ہیں لیکن متعلقہ حکام کے غیر سنجیدہ انداز کی وجہ سے بلڈنگ کو عملی شکل نہیں دی گئی۔ انہوں نے بتایا ہے کہ علاقہ زینہ گیر کے بیشتر دیہات کو علاج ومعالجہ کے لئے سب ڈسٹرکٹ اسپتال سوپور جانے کے لئے طویل فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے جس سے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ انہوں نے کہا کہ پرائمری ہیلتھ سنٹر (پی، ایچ، سی) بوٹنگو سوپور کی عمارت پر کام سال پہلے مکمل ہوا تھا لیکن یہ ابھی بھی نا معلوم وجوہات پر عمارت بند ہے جس کے باعث اب یہ بلڈنگ غیر قانونی سرگرمیوں کا آماجگاہ بن چکی ہے۔ اگر چہ اس پبلک ہیلتھ سینٹر کی تعمیر پر حکومت نے بہت زیادہ رقم خرچ کی ہے لیکن اس کے باوجود عام لوگوں کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔ بوٹنگو کے ایک مقامی باشندے جنید احمد بٹ نے ضلع انتظامیہ کے علاوہ محکمہ صحت پر بے حسی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اگر یہ عمارت فعال ہوتی ،تو انہیں یہاں تمام سہولیات میسر ہوتیں اور معمولی علاج کروانے کے لئے لوگوں کو لمبی دوری تک نہیں جانا پڑتا اور لوگ دردر ٹھوکرے کھانے پر مجبور نہیں ہوتے۔اس بارے میں سب ڈسٹرکٹ اسپتال سوپور کے ایک انچارج آفیسر ڈاکٹر رْدیانہ نے بتایا ہے کہ بلڈنگ مکمل ہونے کے باوجود ابھی بھی محکمہ آر اینڈ بی نے اسے محکمہ صحت کو نہیں سونپا ہے جس وجہ سے بلڈنگ بند پڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کے بارے میں ہم نے پہلے بھی ڈپٹی کمشنر بارہمولہ کو آگاہ کیا ہوا تھا۔ ڈاکٹر رْدیانہ نے مزید کہا کہ علاقہ میں ایک پرانی عمارت میں سب سینٹر کام کررہا ہے اور جب تک نئی عمارت کا مسلہ حل نہیں ہوتا تب تک سنٹر پرانی عمارت میں ہی کام کرتارہے گا۔