بنی//اگرچہ حکومت عوام کوبہترسڑک سہولیات کی فراہمی کے دعوے کررہی ہے لیکن بنی کی سڑکیں کچھ اورہی بیان کررہی ہیں۔بنی کی سڑکیں نہایت خستہ حالی کاشکارہیں جس کے سبب عام لوگوں کومشکلات کاسامناکرناپڑرہاہے۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ ہفتے ہوئی بارشوں کے باعث میں بنی کی سڑکوں کی حالت تشویشناک بن کر رہ گئی ہے اورلوگوں کومشکلات کاسامناکرناپڑرہاہے۔۔بنی سے بسوہلی اور لوانگ سڑک کی خستہ حالی پر لوگوں میں محکمہ کے تئیں کافی غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔اس سلسلے میں راہگیروں نے بتایا کہ سڑک پر محکمہ گریف کے تحت کام چل رہا ہے تاہم محکمہ کے ملازمین کی لاپرواہی کی وجہ سے سڑک کی حالت خستہ ہے۔ ملازمین اپنے فرائض کو صحیح طریقے سے انجام نہیں دے رہے ہیں اور محکمہ کی لاپرواہی کے سبب بنی کے لوگوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے اور اس سڑک پر گاڑیوں کا چلنا بھی دْشوار ہو گیا ہے ۔بنی سے بسوہلی کی جانب اور علاقہ لوانگ کی طرف سڑک کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سڑک کی حالت تشویشناک ہونے کے سبب سڑک پر بڑے حادثے کا اندیشہ ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سڑک کا تعمیری کام لگ بھگ 16 برس قبل ڈبل لائن کا کام شروع کیا گیا تھا اور برسوں گزر جانے کے بعد بھی سڑک خستہ حالی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑک کے تعمیراتی کام پر سرکاری خزانے سے لوٹ کھسوٹ کی گئی ہے۔ وہیں ٹرانسپورٹروں کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹروں نے مختلف بنکوں سے قرضہ حاصل کر کے گاڑیاں حاصل کی ہیں لیکن خستہ حال سڑکوں پر اپنی گاڑیاں چلانے سے ان کی گاڑیوں کا شدید نقصان ہو رہا ہے جس کے نتیجے میںانکا روزگار بھی متاثر ہو رہا ہے اور انہوں نے کہا کہ سڑک کی مرمت کیلئے کئی بار محکمہ گریف کو سڑک کی مرمت کی اپیل کی گئی مگر محکمہ کی خانب سے یقین دہانی کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوا ۔انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر سڑک کو جلد ہی درست نہیں کیا گیا تو عوام کو مجبوراً سڑک پر اتر کر احتجاج کرنا پڑے گا جس کے نتائج اچھے نہیں ہونگے ۔