طارق رحیم
کپواڑہ//کپوارہ کے رہائشیوں اور سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل کی ہے کہ وہ بنگس ویلی کو دوبارہ سیاحوں کے لیے کھولنے کے لیے ضروری اقدامات کریں، تاکہ ملک بھر سے آنے والے سیاح پہلے کی طرح اس خوبصورت اور قدرتی حسن سے مالا مال وادی کا رخ کر سکیں۔مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ بنگس کی مسلسل بندش سے سیاحت پر انحصار کرنے والے افراد کے روزگار پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ان کے مطابق،بنگس ویلی شمالی کشمیر کے اہم سیاحتی مقامات میں شمار ہوتی ہے اور یہ مقامی آبادی کے سینکڑوں افراد کے لیے ذریعہ معاش کا ایک بڑا وسیلہ ہے۔ ان میں سیاحتی گائیڈز، ٹرانسپورٹ آپریٹرز، گھوڑے والوں (پونی مالکان)، دکانداروں اور سیاحت سے وابستہ دیگر افراد شامل ہیں۔رہائشیوں نے بتایا کہ بنگس کی بندش کے نتیجے میں معاشی سرگرمیوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے باعث متعدد خاندانوں کو اپنے روزگار کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔چوکیبل کپواڑہ سے تعلق رکھنے والے ممتاز احمد نے کہا،’’میں نے بینک سے قرض لے کر بنگس میں موبائل ٹینٹس قائم کیے تھے، لیکن پہلگام حملے کے بعد دیگر سیاحتی مقامات کی طرح بنگس کو بھی ہر قسم کی سیاحتی سرگرمیوں کے لیے بند کر دیا گیا۔ اگرچہ اب بیشتر سیاحتی مقامات دوبارہ کھول دیے گئے ہیں، لیکن میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ بنگس اب تک کیوں بند ہے۔‘‘ہفراڈہ کے ایک نوجوان فاروق نے بتایا کہ وہ ہر سال اپریل سے ستمبر تک بنگس میں ایک عارضی ڈھابہ چلاتا تھا، جس سے اس کا روزگار وابستہ تھا۔انہوں نے کہا،’’میں نے دو کارکن بھی ملازم رکھے تھے، لیکن بنگس کی بندش کے بعد مجھے اپنا کاروبار بند کرنا پڑا۔ گزشتہ ایک سال سے میں بے روزگار گھر بیٹھا ہوں اور امید کر رہا ہوں کہ شاید بنگس سیاحوں کے لیے کھول دیا جائے، مگر ایسا نہیں ہوا، جس سے مجھ جیسے سینکڑوں نوجوان ذہنی اور معاشی پریشانی کا شکار ہیں۔‘‘رہائشیوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بنگس ویلی کو جلد از جلد دوبارہ کھولا جائے تاکہ سیاحتی سرگرمیاں بحال ہو سکیں اور مقامی افراد دوبارہ اپنے کاروبار شروع کر کے باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔انہوں نے کہا،’’بنگس کو دوبارہ کھولنے سے نہ صرف مقامی لوگوں کو فائدہ پہنچے گا
بلکہ اس سرحدی ضلع میں سیاحت کو بھی فروغ ملے گا، جو اپنے قدرتی حسن اور دلکش مقامات کے باعث منفرد اہمیت رکھتا ہے۔‘‘مقامی باشندوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں اوربنگس ویلی کو سیاحوں کے لیے جلد دوبارہ کھولنے کے اقدامات کو یقینی بنائیں۔