سرنکوٹ//سرنکوٹ کے بلاک بفلیاز میں کئی سکولی عمارتیں اس وقت منہدم ہونے کے قریب ہیں لیکن متعلقہ محکمہ کی جانب سے ان کی نہ تو مرمت کروائی جارہی ہے اور ان ہی ان کو نا قابل استعمال قرار دیا جارہا ہے ۔کئی عمارتوں کی چھتیں بھی موجود نہیں ہیں جبکہ کچھ ایک کی چھت رسنا بھی شروع ہو گئی ہے جس کی وجہ سے بچوں کو مستقل تاریک دیکھا ئی دے رہا ہے ۔مقامی لوگوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ تعلیم کی جانب سے عمارتوں کی مرمت ہی نہیں کروائی جارہی ہے جبکہ سکولوں میں بچوں کے بیٹھنے کی جگہ بھی دستیاب نہیں ہے ۔غور طلب ہے کہ درہ سانگلہ اپر، سانگلہ لوہر، سانگلہ گونتھل، دندی دھڑا، فضل آباد سنگلانی مڑاہ تراڑانوالی دہڑاہ موڑاہ سیلاں بھونی کھیت ماہڑاہ ڈوگراں پوشانہ وغیرہ علاقوں میں پرائمری ،مڈل اور ہائی سکولوں کی عمارتیں اس وقت نا قابل استعمال ہیں ۔مقامی لوگوں و معززین نے بتایا کہ ان سرکاری سکولوں کی جہاں عمارتیں نا قابل استعمال ہیں وہائیں رسوئی ،ٹائلٹ کمپلیکس بھی غیر تسلی بخش ہیں ۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ کی لاپرواہی کی وجہ سے عمارتوں کی تعمیر غیر معیاری کروائی گئی جس کی وجہ سے اب بچوں کی پڑھائی متاثر ہورہی ہے ۔ ای ایس یو آئی کے ریاستی سیکریٹری ایم اے ضیاء چوہدری ،وقار، عجاز،عاصف بجاڑ ودیگران نے بتایا کہ70فیصدعمارتوں کو یاتو ایسے مقامات پر تعمیر کیا گیاہے جو غیر محفوظ اورپہاڑوں پر ہیں اور نہ انکے ساتھ کوئی کوئی کھیل کامیدان بھی نہیں جبکہ کچھ کی تعمیر ہی غیر معیاری کی گئی تھی ۔مقامی لوگوں نے جموں وکشمیر انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ پسماندہ دیہات میں تعمیر کردہ سکولوں کی عمارتوں کا معائینہ کر کے تعمیر اتی ایجنسیوں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے جبکہ سکولوں کو قابل استعمال بنانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں ۔