اوسلو //ناروے میں پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں ساحل پر جو لاش ملی ہے وہ پندرہ مہینے کے اس بچے کی ہے جو گزشتہ برس فرانس اور برطانیہ کے درمیان سمندر (انگلش چینل) میں ڈوب گیا تھا۔آرتن نامی یہ بچہ گزشتہ برس اکتوبر میں اپنے خاندان کے چار افراد سمیت اس وقت ہلاک ہو گیا تھا جب ان کی کشتی سمندر میں ڈوب گئی تھی۔یہ ایرانی کرد خاندان فرانس سے برطانیہ آنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس خاندان کے دیگر رشتےداروں نے، جو آرتن کے بارے میں تفصیلات جاننے کے منتظر تھے، اپنے دکھ اور اس واقعے سے متعلق کنفیوژن کے بارے میں بات کی ہے۔اب اس بچے کی باقیات کو دفنانے کے لیے ایران بھیجا جا رہا ہے۔ پیر کو اپنے بیان میں ناروے کی پولیس نے کہا کہ آرتن کی لاش ملک کے جنوب مغربی ساحل سے ملی ہے۔ لاش کے ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد خاندان والوں کو مطلع کر دیا گیا کہ وہ آرتن کی لاش ہے۔پولیس تحقیقات کی سربراہ کامیلا تجیل واج کا کہنا تھا 'ناروے میں ہمارے پاس کسی لاپتہ بچے کی کوئی رپورٹ نہیں تھی اور نہ ہی کسی خاندان نے اپنے کسی بچے کے لاپتہ ہو جانے کے سلسلے میں کوئی رابطہ کیا تھا۔اسی لیے لاش ملنے کے بعد حکام کے ذہن میں آرتن کا خیال آیا۔