بانہال //تحصیل رامسو کے متعدد علاقوں میں بجلی کی ناقص سپلائی سے لوگ پریشان ہیں ۔مقامی لوگوں نے محکمہ بجلی پر الزام عائید کیا ہے کہ اگرچہ ان سے بجلی کی اضافی بلیں وصول کی جاتی ہیں لیکن بجلی کی معقول سپلائی فراہم کرنے میں متعلقہ محکمہ مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے ۔
تحصیل رامسو کے نیل ، دھنمستہ ، زراڑی ، سوجمتنہ و دیگر علاقوں کے لوگوں میں محکمہ کے تئیں غم و غصہ بھی پایا جارہا ہے کیونکہ ان علاقوں کو چوبیس گھنٹوں میں صرف چند گھنٹے ہی بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کویڈ 19کی وجہ سے جہاں عام اور غریب لوگوں کو مزدوری میسر نہیں وہیں محکمہ بجلی نے رہی سہی کسر بجلی بلوں میں اضافہ کر کے پوری کر دی ہے۔ رامسو بلاک کے دیہی ترقیاتی چیئرمین شفیق احمد کوچ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ بجلی بلیں ادا کرنا لوگوں کیلئے ناممکن ہو چکا ہے کیونکہ لوگ غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزر بسر کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ تحصیل رامسو کے علاقوں میں روزانہ کے فالٹ کی وجہ سے بجلی بند رہنا معمول بن چکا ہے اور بجلی فیس 110 روپئے سے بڑھا کر 400 تک ماہانہ بڑھا دی گئی ہے جو غریب صارفین کیلئے بنا بجلی کے ہی ادا کرنا ظلم اور نا انصافی ہے۔بلاک ڈیولپمنٹ کونسل رامسو کے چیئرمین شفیق احمد کٹوچ نے محکمہ بجلی کے زمہ داروں پر زور دیا ہے کہ وہ بجلی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کریں اور سالوں پہلے لگائے گئے بوسیدہ ڈھانچے کو تبدیل کریں۔ انہوں نے محکمہ بجلی سے اپیل کی کہ بلاک رامسو میں فوری طور پر بجلی میٹر نصب کئے جائیں اور عوامی معاملات میں شفافیت کا خیال رکھا جائے ،تاکہ لوگوں کو زندگی کے ہر شعبے میں راحت مل سکے ۔